اولیاء الرحمن کی کرامات اور اولیاء الشیطان کی گمراہیاں

کراماتِ اولیاء کے دلائل

1: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اولیاء اور ان کی کرامات کے متعلق خبر دی ہے۔ارشادِ باری ہے:﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿٦٢﴾الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴿٦٣﴾لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ ’’خبردار!یقینا اللہ تعالیٰ کے دوستوں پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے(یعنی)جو ایمان لائے اور پرہیز گار(بن کر)رہے،ان کے لیے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے،[1] اللہ(جل شانہ)کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی،یہی تو بڑی کامیابی ہے۔‘‘[1] ارشادِ الٰہی ہے:﴿اللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾ ’’اللہ ایمان لانے والوں کا ولی(دوست)اور کارساز ہے،وہ انھیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے۔‘‘[2] ارشادِ عالی ہے:﴿وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ ۚ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ﴾ ’’اور یہ(کفار)اس(مسجد الحرام)کے متولی(بننے کے بھی لائق)نہیں،اس کے متولی تو صرف متقین ہیں۔‘‘[3] ارشادِ ربانی ہے:﴿إِنَّ وَلِيِّيَ اللّٰهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ﴾ ’’بے شک اللہ(ہی)میرا ولی ہے،جس نے کتاب اتاری ہے اور وہی نیکی کرنے والوں کا کارساز ہے۔‘‘[4] ارشادِ گرامی ہے:﴿كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ﴾ ’’اس طرح ہوا،تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کر دیں۔یقینا وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔‘‘[5] شیطان سے فرمایا:﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ﴾’’یقینا میرے بندوں پر تجھے غلبہ حاصل نہیں ہے۔‘‘[6] فرمانِ الٰہی ہے:﴿كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَـٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللّٰهِ﴾ ’’جب بھی زکریا اس(مریم)کے ہاں عبادت خانے میں داخل ہوئے تو اس کے پاس(بے موسم)رزق پایا۔پوچھا:اے مریم!یہ رزق تیرے لیے کہاں سے آیا؟ کہنے لگی:یہ اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘[7] فرمانِ عالی ہے:﴿وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴿١٣٩﴾إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ﴿١٤٠﴾فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ﴿١٤١﴾فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ﴿١٤٢﴾فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ﴿١٤٣﴾لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾ ’’اور بے شک یونس رسولوں میں سے تھا۔جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگا۔پھر(کشتی والوں نے)قرعہ اندازی کی تو وہ مغلوب ہو گیا۔پس مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا۔سواگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو لوگوں کو دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک اس(مچھلی)کے پیٹ(ہی)میں رہتا۔‘‘[8] فرمانِ عالی شان ہے:﴿فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا﴿٢٤﴾وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴿٢٥﴾فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا﴾ ’’اسے(مریم علیہما السلام کو)نیچے سے(فرشتے نے)آواز دی کہ غم نہ کر۔تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہِلا،یہ تیرے لیے تازہ کھجور گرائے گا۔پس کھا،پی اور(اپنی)آنکھیں ٹھنڈی کر۔[1] نیز فرمایا:﴿قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ﴿٦٩﴾وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ﴾ ’’ہم نے کہا:اے آگ!ابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔انھوں نے اس کے ساتھ ایک تدبیر کرنا چاہی لیکن ہم نے انھی کو ناکام خاسر بنا دیا۔‘‘[2] مزید فرمایا:﴿أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا﴿٩﴾إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا﴿١٠﴾فَضَرَبْنَا عَلَىٰ آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا﴿١١﴾ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ﴾ ’’کیا تونے سمجھا ہے کہ غار اور کتبے والے،اصحابِ کہف ہماری نشانیوں میں سے(ایک)عجیب(نشانی)تھے۔جب چند نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور کہا:اے ہمارے پروردگار!ہمیں اپنی طرف سے رحمت دے اور ہمارے معاملے میں آسانی اور کامیابی مہیا فرما۔تو ہم نے غار میں کئی سال تک انھیں سلائے رکھا،پھر ہم نے انھیں جگا دیا۔‘‘[3] 2: اولیاء اللہ اور ان کی کرامات کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں متعدد خبریں دی ہیں،مثلاً:آپ نے اللہ تعالیٰ سے ایک حدیثِ قدسی روایت کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:((’مَنْ عَادٰی لِي وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہُ بِالْحَرْبِ،وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْئٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُہُ عَلَیْہِ،وَلَا یَزَالُ عَبْدِي یَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی أَحْبَبْتُہُ فَکُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِي یَسْمَعُ بِہِ،وَ بَصَرَہُ الَّذِي یُبْصِرُ بِہِ،وَ یَدَہُ الَّتِي یَبْطِشُ بِہَا،وَ رِجْلَہُ الَّتِي یَمْشِي بِہَا،وَ إِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِیَنَّہُ،وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِیذَنَّہُ)) ’’جو میرے ولی کے ساتھ عداوت رکھتا ہے،میں اسے اعلانِ جنگ کی اطلاع دیتا ہوں اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے،ان میں کوئی عبادت مجھے اس(عبادت)سے زیادہ عزیز نہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔اور میرا بندہ نفلی عبادت کر کے مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے،اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے،اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اُسے دیتا ہوں۔وہ مجھ سے پناہ طلب کرتا ہے تو میں اسے پناہ دے دیتا ہوں۔‘‘[1] مزید فرمایا:’إِنِّي لَأَثْأَرُ لِأَوْلِیَائِي کَمَا یَثْأَرُ اللَّیْثُ الْحَرْبُ‘’’بے شک میں اپنے دوستوں کا انتقام لیتا ہوں،جس طرح لڑاکا شیر انتقام لیتا ہے۔‘‘[2] نیز فرمایا:’إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰہِ مَنْ لَّوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ‘ ’’بے شک اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ پر قسم ڈالیں(اور کوئی بات کہیں)تو وہ(اللہ تعالیٰ)اسے پورا کر دیتا ہے۔‘‘[3] حدیثِ نبوی ہے:’لَقَدْ کَانَ فِیمَا قَبْلَکُمْ مِّنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ،فَإِنْ یَّکُنْ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّہُ عُمَرُ‘ ’’پہلی اقوام و ملل میں کچھ لوگ ’’ملہم‘‘(جن کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص الہام ہوتا ہے)ہوتے تھے۔میری امت میں اگر کوئی(ملہم)ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہے۔‘‘[4] فرمانِ نبوی ہے:’کَانَتِ امْرَأَۃٌ تُرْضِعُ ابْنًا لَّہَا مِنْ بَنِي إِسْرَائِیلَ،فَمَرَّ بِہَا رَجُلٌ رَّاکِبٌ ذُوشَارَۃٍ،فَقَالَتْ:اَللّٰہُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَہُ،فَتَرَکَ ثَدْیَہَا وَ أَقْبَلَ عَلَی الرَّاکِبِ،فَقَالَ:اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَہُ‘ ’’ بنی اسرائیل کی ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی کہ اس کے پاس سے ایک خوش منظر سوار گزرا۔(اسے دیکھ کر)کہنے لگی:اے اللہ!میرے بچے کو اس جیسا بنا۔پستان چھوڑ کر اس بچے نے کہا:اے اللہ!مجھے ایسا نہ بنانا۔‘‘[5] بچے کے بولنے میں اس کی اور اس کی ماں دونوں کی کرامت ہے۔ اسی طرح زاہد و عابد جریج رحمہ اللہ(ولی)کے واقعہ میں ہے کہ ماں نے کہا:اے اللہ!اسے موت سے پہلے فاحشہ عورتوں کا منہ دکھانا۔اللہ تعالیٰ نے ماں کی دعا قبول کی۔یہ اس کی کرامت تھی،چنانچہ ایک فاحشہ کی طرف سے جریج پر الزام تراشی ہوئی تو اس نے نومولود بچے سے کہا:بتا!تیرا باپ کون ہے۔بچے نے کہا:بکریوں کا چرواہا۔‘‘[6] اس میں جریج(ولی)کی کرامت ہے کہ دودھ پیتے بچے نے اس کی صفائی دی۔ اسی طرح تین غار والوں پر چٹان گر گئی اور نکلنے کا راستہ بند ہو گیا۔انھوں نے اپنے صالح اعمال کے توسل سے دعا کی۔اللہ رب العزت نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور انھیں نجات عطا کی۔یہ ان صالحین کی کرامت تھی۔[1] اور اسی طرح راہب اور لڑکے کا واقعہ ہے جس میں موذی جانور نے راستہ بند کیا ہوا تھا۔لڑکے نے اسے پتھر مارا تو وہ موذی جانور مر گیا اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔یہ اس لڑکے کی کرامت تھی،پھر بادشاہِ وقت نے اس لڑکے کو مختلف طریقوں سے قتل کرنا چاہا مگر کامیاب نہ ہو سکا۔یہ بھی اس صالح اور نیک لڑکے کی کرامت تھی۔[2] 3: ہزاروں علماء کے مشاہدات بھی کراماتِ اولیاء پر شاہد ہیں۔معدودے چند یہ ہیں: ٭ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو فرشتے سلام کہتے تھے۔[3] ٭ سلمان فارسی اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہما کھانا کھاتے تو کھانے یا برتن سے تسبیح کی آواز آتی تھی۔[4] ٭ خبیب رضی اللہ عنہ مکہ میں مشرکین کے ہاں قیدی تھے۔ان دنوں مکہ میں انگور نہیں تھے مگر خبیب رضی اللہ عنہ انگور کھاتے دیکھے گئے۔[5] ٭ براء بن مالک رضی اللہ عنہ اگر کسی معاملے میں قسم کھا لیتے تو اللہ جل جلالہ اسے پورا فرما دیتا تھا۔[6] چنانچہ جنگ تستر کے دن انھوں نے قسم کھائی کہ اللہ مسلمانوں کو مشرکین پر غلبہ دے گا اور میں سب سے پہلے شہید ہوں گا،سو ایسا ہی ہوا۔[7] ٭ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں خطبۂ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک کہنے لگے:اے ساریہ!پہاڑ کی طرف ہو جاؤ۔ساریہ نے آواز سنی اور پہاڑ کی طرف ہو گئے۔انھیں فتح حاصل ہوئی اور دشمن شکست کھا گیا۔ساریہ واپس آئے تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اطلاع دی کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آواز سن لی تھی۔[8] ٭ علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ دعا میں کہا کرتے تھے:’اَللّٰہُمَّ یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ یَا عَلِيُّ یَا عَظِیمُ!‘ اور ان کی دعا پوری ہوتی۔ایک موقع پر اپنا دستہ سپاہ لے کر سمندر میں کود گئے،لیکن ان کے گھوڑوں کی زینیں بھی تر نہ ہوئیں۔[1]