حدود کا بیان
سرقہ(چوری)کی حد کا بیان
٭ سرقہ کی تعریف:
کسی کا محفوظ مال مخفی طریقے سے ہتھیا لینا،مثلاً:دکان یا مکان میں داخل ہو کر کپڑے،یا اجناس یا سونا اور چاندی وغیرہ لے جانا ’’سرقہ‘‘ کہلاتا ہے۔
٭ چوری کا حکم:
یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس کو حرام قرار دیا ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ۗ وَاللّٰهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾
’’چور مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹ دو،یہ اللہ کی طرف سے ان کے کام(چوری)کی سزا ہے اور اللہ غالب،حکمت والا ہے۔‘‘[4]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور پر لعنت کرتے ہوئے فرمایا:’لَعَنَ اللّٰہُ السَّارِقَ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ‘
’’اللہ چور پر لعنت کرے کہ وہ انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔‘‘[5]
آپ نے چور کے ایمان کی نفی کی ہے جب وہ چوری کرتا ہے،فرمایا:((لَا یَسْرِقُ السَّارِقُ حِینَ یَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ))’’چور چوری کرتے وقت مومن نہیں ہوتا۔‘‘[1]
اور آپ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ(ہاتھ کاٹنا)اللہ کی حدود میں سے ایک حد ہے جس کو بلا امتیاز ہر ایک پر لاگو کیا جائے گا۔آپ فرماتے ہیں:
((وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ!لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مَحُمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَھَا))
’’مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میری بیٹی فاطمہ بھی اگر چوری کر لیتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘[2]
٭ چوری کس طرح ثابت ہوتی ہے:
ملزم خود اعتراف کر لے کہ اس نے چوری کی ہے مگر اس اعتراف کی بنیاد،مار کٹائی یا زجروتوبیخ پر نہ ہو بلکہ وہ اپنی مرضی اور اختیار سے اعتراف کرے یا دو عادل گواہ موجود ہوں جو گواہی دیں کہ اس نے چوری کی ہے۔
اگر حد کی اقامت سے پہلے وہ اپنے اعتراف سے منحرف ہو جائے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا،البتہ چوری شدہ مال کی ضمانت اس پر ہو گی،نیز ایسی صورت میں مستحب یہی ہے کہ اسے انحراف کی تلقین کی جائے تاکہ اس کا ہاتھ بچ سکے،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:((اِدْرَؤُوا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِینَ مَا اسْتَطَعْتُمْ))’’جس حد تک ہو سکے مسلمانوں سے(شبہات کی بنا پر)حدود ساقط کر دو۔‘‘[3]
٭ قطع ید کی شرطیں:
1: چور مکلف،عاقل اور بالغ ہو۔حدیث میں ہے کہ تین(اشخاص)مرفوع القلم ہیں جن میں مجنون اور نابالغ بھی ہیں۔[4]
2: چوری کرنے والا ’’مسروقہ مال‘‘ کے مالک کا والد،بیٹا،خاوند اور بیوی نہ ہو،اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک کے دوسرے کے مال میں حقوق ہوتے ہیں۔
3: مسروقہ مال میں چور کی ملکیت کا شبہ نہ ہو،مثلاً:ملزم مقروض تھا اور اس نے مرتہن(جس کے پاس مقروض،قرض کے عوض کوئی چیز گروی رکھے)کے پاس اپنی ہی گروی رکھی ہوئی چیز چوری کر لی یا ملزم مزدور تھا اور اس نے ٹھیکے دار کے پاس سے اپنی اجرت اٹھا لی ہو۔
4: مسروقہ مال حرام مال نہ ہو،مثلاً:شراب یا آلات موسیقی وغیرہ بلکہ اس مباح مال کی چوری میں ہاتھ کاٹنا ہے جو قیمت میں چوتھائی(1/4)دینار(سونا)کے برابر ہو،اس لیے کہ آپ کا ارشاد ہے:((لَا تُقْطَعُ یَدُ سَارِقٍ إِلَّا فِي رُبْعِ دِینَارٍ فَصَاعِدًا))’’چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر چوتھائی دینار(1/4)یا اس سے زیادہ میں۔‘‘[1]
5: مال مسروق محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو،مثلاً:مکان،دکان،باڑہ اور صندوق وغیرہ سے جس میں مال کو محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
6: جھپٹی مار کر مال نہ چھینا گیا ہو،مثلاً:ایک شخص کسی کے ہاتھ سے مال چھین کر بھاگ جائے اس میں قطع نہیں ہے۔اسی طرح غصب،یعنی زبردستی یا لوٹ کے ذریعے سے حاصل کردہ مال پر بھی قطع ید(ہاتھ کاٹنا)نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لَیْسَ عَلٰی خَائِنٍ وَّلَا مُنْتَھِبٍ وَّلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ))
’’خیانت کرنے والے،لوٹ اور جھپٹ کر مال لینے والے پر قطع نہیں ہے۔(ان کی سزا اور ہے)‘‘ [2]
٭ چور پر کیا واجب ہے:
1: چور مسروقہ مال کا ضامن ہے اگر اس کے پاس موجود ہے تو ادائیگی کرے اور اگر مال تلف ہو گیا ہے تو بھی اس کے ذمے قرض ہے،وہ اس کی ادائیگی کرے گا۔
2: اللہ تعالیٰ کے حق کے طور پر اس کا ہاتھ کٹے گا،اس لیے کہ حدود اللہ تعالیٰ کے محارم ہیں(جنھیں کوئی معاف نہیں کر سکتا)اگر مذکورہ شرائط کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر قطع ید میں قانوناً توقف(تعطل)ہو جائے تو بھی وہ مالک کو مال مسروقہ کی ادائیگی ضرور کرے گا،خواہ مالک،صاحب ثروت ہے یا تنگ دست اور مال تھوڑا ہے یا زیادہ۔
٭ ہاتھ کاٹنے کا طریقہ:
چور کے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی جوڑ سے کاٹ دی جائے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت میں ہے:’فَاقْطَعُوا أَیْمَانَھُمَا‘’’ان کے دائیں ہاتھ کاٹ دو۔‘‘[3]
پھر کھولتے گرم تیل میں اسے داغ لگا دیا جائے تاکہ خون بہنا بند ہو جائے۔
٭ ان چیزوں کا بیان جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا:
’’غیر محفوظ‘‘ مال اٹھانے میں ہاتھ نہیں کٹتا اور جس مال کی قیمت چوتھائی دینار سے کم ہے،اس میں بھی ’’قطع‘‘ نہیں ہے،اسی طرح درخت کے پھل میں ’ ’قطع‘‘ نہیں اور نہ کھجور کے خرما میں۔اگر بھوکا آدمی باغ سے پھل کھانے کے علاوہ اپنے ساتھ بھی لے جا رہا ہے تو پھل کی دگنی قیمت اس سے وصول کی جائے اور تادیب کے طور پر مارا بھی جائے،ہاں اگر پھل وہیں باغ میں کھا لیا تو اس میں کوئی سزا نہیں ہے،اس لیے کہ عام چراگاہوں میں چرنے والے جانوروں کے چوری کیے جانے کے بارے میں آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا:
((فِیھَا ثَمَنُھَا مَرَّتَیْنِ،وَضَرْبُ نَکَالٍ۔فَمَا أُخِذَ مِنْ أَعْطَانِہِ فَفِیہِ الْقَطْعُ،إِذَا بَلَغَ مَا یُؤْخَذُ مِنْ ذٰلِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ))
’’ان(کی چوری)میں دگنی قیمت ہے(جو چور سے وصول کی جائے گی)اور عبرت کے لیے مار پیٹ ہے اور اگر جانوروں کے بیٹھنے کی جگہ سے کوئی جانور(چرا کر)لے جاتا ہے تو اس میں ’’قطع‘‘ ہے،جب اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو جائے۔‘‘[1]
پھر سوال ہوا کہ پھلوں اور جن چیزوں کو ان کے شگوفوں سے حاصل کیا جائے،کے بارے میں کیا ارشاد ہے۔تو فرمایا:
((مَنْ أَخَذَ بِفَمِہِ وَلَمْ یَتَّخِذْ خُبْنَۃً فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَيْئٌ،وَمَنِ احْتَمَلَ فَعَلَیْہِ ثَمَنُہُ مَرَّتَیْنِ،وَضَرْبًا وَّنَکَالًا،وَمَا أَخَذَ مِنْ أَجْرَانِہِ فَفِیہِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ مَا یُؤْخَذُ مِنْ ذٰلِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ))
’’جو شخص پھل کھا لیتا ہے اور اٹھا کر نہیں لے جاتا تو اس پر کچھ نہیں ہے اور جو ساتھ لے جائے اس پر دگنی قیمت اور عبرت کے لیے ضرب لگانا ہے اور جو پھل کو ’’حفاظت گاہ‘‘ سے اٹھاتا ہے،اس میں ’’قطع‘‘ ہے،اگر اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو۔‘‘[2]
٭ تنبیہات:
اگر ’’صاحب مال‘‘ چور کو حاکم کے پاس لے جانے سے پہلے معاف کر دے تو قطع ید نہیں ہے۔اگر حاکم مجاز کے پاس لے گیا تو پھر کوئی سفارش مفید نہیں ہو گی۔ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چور پیش کر دیا،پھر اسے معاف کرنے لگا تو آپ نے فرمایا:((فَھَلَّا کَانَ ھٰذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِیَنِي بِہِ))
’’اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہیں معاف کیا۔‘‘[3]
حاکم کے پاس پہنچ جانے کے بعد ’’حدود‘‘ میں سفارش کرنا حرام ہے،اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِّنْ حُدُودِ اللّٰہِ،فَقَدْ ضَادَّ اللّٰہَ [فِي أَمْرِہِ]))
’’جس کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے آگے حائل ہو گئی تو اس نے اللہ جل شانہ کے حکم کی مخالفت کی ہے۔‘‘[1]
اور آپ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا:((أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِّنْ حُدُودِ اللّٰہِ))’’تم اللہ کی حدوں میں سے ایک’ ’حد‘‘ میں سفارش کر رہے ہو۔‘‘[2]
گھر پر حملہ کر کے قتل کرنے اور مال لوٹنے کی سزا ’’محاربین‘‘ کی سزا کی طرح(قتل)ہے۔