نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان

وراثت کا بیان

وراثت کا حکم: مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے کا وارث ہونا کتاب و سنت سے ثابت ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا﴾ ’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس مال میں جو ماں باپ اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں،(یہ چھوڑا ہوا مال)تھوڑا ہو یا زیادہ،اس میں ہر ایک کا مقرر کیا ہوا حصہ ہے۔‘‘[1] اور فرمایا:﴿يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ ’’اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَھْلِھَا،فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلٰی رَجُلٍ ذَکَرٍ)) ’’مقررہ حصے ان کے مستحقوں کو دو اور جو باقی بچے وہ(میت کے)قریب ترین مرد(رشتے دار)کا حصہ ہے۔‘‘[3] مزید ارشاد فرمایا:((إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَعْطٰی کُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّہُ،فَلَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ)) ’’اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے،بنا بریں وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔‘‘٭[4] وراثت کے اسباب: تین اسباب وراثت میں سے کسی ایک کی وجہ سے انسان کسی دوسرے کا وارث بن سکتا ہے،اور وہ یہ ہیں: ٭ کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے وارث رشتہ دار کو تہائی یا اس سے کم مال دینے کی وصیت کرے اِ لاَّیہ کہ باقی ورثاء اس کی اجازت دیں اوروہ اجازت دینے کے اہل بھی ہوں واللہ اعلم(ع،ر) ٭ نسبی قرابت: وارث میت کے اصول،یعنی ماں باپ،دادا دادی و نانی میں سے ہو یا فروع،یعنی اولاد میں سے ہو یا حواشی،یعنی اطراف،مثلاً:بہن بھائی اور بھائی کی اولاد،چچا اور اس کے بیٹوں میں سے ہو۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾’’اور ہر ایک مال میں جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں،ہم نے حقدار مقرر کیے ہیں۔‘‘[1] ٭ نکاح: عورت کے ساتھ صحیح عقد کا نام نکاح ہے،چاہے رخصتی اور خلوت(جماع)حاصل ہو یا نہ ہو۔میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ﴾’’اورتمھاری بیویوں کے ترکہ میں سے تمھارے لیے نصف ہے۔‘‘[2] میاں،بیوی طلاق رجعی کی صورت میں بھی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے(جبکہ بیوی ابھی عدت میں ہو)،نیز مرض الموت میں وراثت سے محروم کرنے کے لیے طلاق دینے والے شخص کی مطلقہ بیوی بائنہ ہونے کے باوجود اس کی وارث ہو گی۔ ٭ ولاء: یعنی ایک شخص نے کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کیا ہے تو اس آزادی کے سبب آزاد کرنے والا اپنے آزاد کردہ غلام اور لونڈی کا وارث ہو گا،چنانچہ اگر آزاد شدہ فوت ہو جائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو یہ آزاد کرنے والا اس کا وارث ہو گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((اَلْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ))’’(آزاد کردہ کی)ولاء(حق وراثت)اس شخص کے لیے ہے جس نے اسے آزاد کیا۔‘‘[3] موانع وراثت: سبب وراثت کی موجودگی کے باوجود بعض موانع(رکاوٹیں)وارث کو وراثت سے محروم کر دیتے ہیں،اور وہ حسب ذیل ہیں: ٭ کفر: رشتہ داری کے باوجود مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا یَرِثُ الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ،وَلَا الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ‘ ’’کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا۔‘‘[4] ٭ قتل: قاتل نے اگر جان بوجھ کر عَمْدًا کسی قریبی کو قتل کر دیا ہو تو سزا کے طور پر اسے مقتول کی جائیداد سے محروم٭ کر دیا جائے گا۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَیْسَ لِلْقَاتِلِ شَيْئٌ‘(یَعْنِي مِنْ تَرِکَۃِ الْمَقْتُولِ) ٭ اس میں ایک حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جائیداد کو جلد پالینے کے لالچ میں کوئی اپنے قریبی کو قتل نہ کرے۔(ع،ر) ’’قاتل کو(مقتول کی جائیدادسے)کچھ نہیں ملتا۔‘‘[1] ٭ غلام ہونا: غلام نہ خود وارث ہوتا ہے اور نہ اس سے میراث لی جاتی ہے،چاہے مکمل غلام ہو یا ناقص،مثلاً:مکاتب،٭ ام ولد،اور وہ غلام جس کا بعض حصہ آزادہو،اس لیے کہ لفظ ’’رقیق‘‘ کا اطلاق مذکورہ بالا تمام غلاموں پر ہوتا ہے،البتہ بعض علماء نے مؤخر الذکر(ناقص غلام)کو مستثنیٰ قرار دیا ہے،وہ کہتے ہیں کہ اس کا جتنا حصہ آزاد ہو چکا ہے،وہ اسی کے مطابق وارث بنے اور بنائے گا۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس غلام کے بارے میں روایت کرتے ہیں،جس کا کچھ حصہ آزاد ہو چکا ہو۔ آپ نے فرمایا:((إِذَا أَصَابَ الْمُکَاتَبُ حَدًّا أَوْ وَرِثَ مِیرَاثًا یَّرِثُ عَلٰی قَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْہُ)) ’’جب مکاتب کسی حد کو پہنچے(اس پر جنایت ہونے کی صورت میں مستحق دیت بن جائے)یا ترکے کا وارث بنے تو جس قدر آزاد ہو اس کے مطابق(دیت میں سے حصے کا مستحق اور میت کا)وارث بنے گا۔‘‘[2] ٭ زنا: حرام زادہ(زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ)اپنے باپ(زانی)کا وارث نہیں ہو گا اور نہ اس کا باپ اس کا وارث ہو گا،البتہ وہ اپنی ماں کا وارث ہو گا اور ماں اس کی وارث ہو گی باب(زانی)وارث نہیں بنے گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ‘ ’’اولاد صاحب بستر(نکاح کرنے والے)کی ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں(اس کے لیے محرومی ہے اور اسے رجم کیا جائے گا۔)‘‘[3] ٭ لعان: لعان بھی مانع وراثت ہے،چنانچہ لعان کرنے والے میاں بیوی کا یہ بچہ جس کو باپ نے اپنا تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے،باپ کا اور باپ اس بچے کا وارث نہیں ہو گا یاد رہے کہ اس کو ولد الزنا پر قیاس کیا جائے گا۔ ٭ مردہ پیدا ہونا: وضع حمل کے وقت جس بچے کے منہ سے آواز نہ نکلے اورنہ وہ کوئی حرکت کرے بلکہ مردہ پیدا ہو،وہ نہ تو خود وارث ہو گا اور نہ اس کا کوئی وارث بنے گا،اس لیے کہ وراثت کا تعلق زندگی کے وجود سے ہوتا ہے،جس کے ٭ وہ غلام جس نے اپنے مالک سے ایک مخصوص رقم کی بالاقساط ادائیگی کے عوض آزادی کا تحریری معاہدہ کر رکھا ہو بعد میں اگر وہ یکمشت ادائیگی کا بندوبست کر لے تو بھی درست ہے ورنہ جس قدر وہ رقم ادا کر چکا ہے اس قدر وہ آزاد ہے اور جتنی رقم اس کے ذمہ ہے اس قدر وہ غلام ہے،واللہ اعلم(ع،ر) نتیجے میں یہ حاصل ہوتی ہے،جبکہ یہاں زندگی مفقود ہے۔ ٭ وراثت کی شرائط: صحت وراثت کے لیے درج ذیل شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے: ٭ مندرجہ بالا موانع میں سے کوئی مانع نہ ہو،اس لیے کہ مانع وراثت کو باطل کر دیتا ہے۔ ٭ موروث(جس کا ترکہ تقسیم کرنا مقصود ہے)کی وفات ہو چکی ہو،چاہے حکمی طور پر،یعنی عدالت نے فیصلہ دیا ہو کہ فلاں گمشدہ انسان مردہ تصور کیا جائے،اس لیے کہ زندہ کو میت نہیں کہا جا سکتا اور جو میت نہیں اس کا ترکہ تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ٭ موروث کی موت کے وقت وارث کا زندہ ہونا،چنانچہ اگر کسی عورت کے پیٹ میں بچہ ہو اور اس وقت اس عورت کی اولاد میں سے کوئی فوت ہو جائے تو یہ بچہ بھی اپنے فوت شدہ بھائی بہن کا وارث ہو گا،بشرطیکہ یہ بچہ زندہ پیدا ہو،اس لیے کہ جس دن اس کا بھائی فوت ہوا یہ شکم مادر میں زندہ تھا۔تاہم اگر وفات کے بعد عورت حاملہ ہو تو وہ بچہ پہلے مرنے والے بھائی کا وارث نہیں ہو گا۔