نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
نفقات کا بیان
٭ نفقہ کی تعریف:
اس طعام و لباس اور رہائش کو نفقہ کہتے ہیں جو کسی مستحق کے لیے دینا ضروری ہو۔کن لوگوں پر اور کن کے لیے واجب ہے۔چھ قسم کے لوگ نفقہ کے مستحق ہوتے ہیں:
1: بیوی کا نفقہ خاوند پر ہوتا ہے جبکہ اس کے نکاح میں ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’أَلَا!وَحَقُّھُنَّ عَلَیْکُم أَنْ تُحْسِنُوا إِلَیْھِنَّ فِي کِسْوَتِھِنَّ وَطَعَامِھِنَّ‘’’خبردار!عورتوں کا حق تمھارے اوپر یہ ہے کہ لباس اور طعام میں ان کے ساتھ اچھا رویہ اپناؤ۔‘‘[4]
2: مطلقہ بائنہ اگر حاملہ ہے تو ایام عدت کا نفقہ خاوند پر ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾
’’اور وہ اگر حمل والیاں ہیں تو وضع حمل تک ان پر خرچ کرو۔‘‘[5]
3: ماں باپ کا نفقہ اولاد پر ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾
’’اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک اختیار کرو۔‘‘[1]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اچھے رویے کے لیے سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ نے تین بار فرمایا:’’تیری ماں اور چوتھی بار فرمایا:تیرا باپ۔‘‘[2]
4: چھوٹی اولاد کا خرچ والد کے ذمے ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا﴾
’’اور اس میں سے ان(اولاد)کو روزی دو اور لباس مہیا کرو اور ان کے لیے اچھی بات کہو۔‘‘[3]
5: خادم کا خرچ اس کے سردار پر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لِلْمَمْلُوکِ طَعَامُہُ وَکِسْوَتُہُ،وَلَا یُکَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَالَا یُطِیقُ))
’’غلام کے لیے کھانا اور لباس رواج کے مطابق ہے اور اس سے اتنا کام ہی لیا جائے جو وہ برداشت کر سکے۔‘‘[4]
6: جانوروں کی ذمہ داری ان کے مالکوں پر ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((دَخَلَتِ امْرَأَۃٌ النَّارَ فِي ھِرَّۃٍ رَبَطَتْھَا،فَلَا ھِيَ أَطْعَمَتْھَا وَلَا ھِيَ أَرْسَلَتْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتّٰی مَاتَتْ ھَزْلًا))
’’ایک عورت بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی،اس نے اسے باندھے رکھا،نہ کھانا دیا اور نہ اسے چھوڑا تاکہ زمین کے جانور کھا کر گزارہ کرتی حتی کہ وہ بھوکی مر گئی۔‘‘[5]
٭ نفقے کی واجب مقدار:
نفقے میں کھانے اور پینے کی مقدار میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ اتنی ہے جس سے زندگی قائم رہ سکے اور لباس جو گرمی،سردی سے بچائے اور رہائش جو آرام اور رہنے کے لیے کافی ہو۔جبکہ اختلاف کثرت و قلت میں ہے یا عمدہ اور گھٹیا ہونے میں ہے اور یہ دینے والے اور لینے والے کے اپنے اپنے احوال پر مبنی ہوتا ہے،اس لیے مناسب یہی ہے کہ یہ معاملہ مسلمان قاضیوں کے سپرد کیا جائے۔وہی مختلف احوال و ظروف اور عادات کا جائزہ لے کر نفقے کی مقدار اور معیار کاتعین کریں گے۔
٭ نفقہ کب ساقط ہوتا ہے:
1: عورت نافرمان ہو جائے یا مرد کو جماع کا موقع ہی نہ دے تو نفقہ ساقط ہو جائے گا،اس لیے کہ بیوی کا خرچ اسی صورت میں واجب ہوتا ہے کہ وہ اس کے گھر میں ٹھیک طرح سے آباد ہو۔جب یہ چیز نہیں تو نفقہ بھی ساقط ہو گیا۔
2: رجعی طلاق والی عورت کی عدت ختم ہو جائے تو خاوند پر اس کا نان و نفقہ نہیں ہے،اس لیے کہ عدت پوری ہونے سے وہ اس مرد سے جدا ہو گئی ہے۔
3: مطلقہ حاملہ کو وضع حمل ہو جائے تو نفقہ ساقط ہو جاتا ہے،الّا یہ کہ وہ اس کے بچے کو دودھ پلائے تو رضاعت کی اجرت دینا طلاق دینے والے پر لازم ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ﴾
’’اگر وہ تمھارے لیے دودھ پلائیں تو ان کی اجرت دو اور(بچے کے بارے میں)آپس میں اچھا مشورہ کرو۔‘‘[1]
4: ماں باپ غنی ہو جائیں یا ان کی اولاد اس قدر محتاج ہو جائے کہ اپنی یومیہ روزی کے قابل بھی نہ رہے تو اس سے ماں باپ کا خرچ ساقط ہو جائے گا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی طاقت کے مطابق مکلف کرتا ہے۔
5: لڑکا بالغ ہو جائے یا لڑکی کی شادی ہو جائے تو باپ پر خرچ نہیں ہے،ا لّا یہ کہ لڑکامعذوریا مجنون ہو تو باپ کو خرچ دینا پڑے گا۔
تنبیہ:مسلمان پر اپنے قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی ضروری ہے،چاہے باپ کی طرف سے قرابت ہو یا ماں کی طرف سے،اگر ان میں سے کوئی کھانے یا لباس یا رہائش کا ضرورت مند ہے تو وسعت کے مطابق تعاون کرے اور اس بارے میں پہلے قریبی کو دیکھے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((یَدُ الْمُعْطِي الْعُلْیَا،وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ:أُمَّکَ وَأَبَاکَ وَأُخْتَکَ وَأَخَاکَ،ثُمَّ أَدْنَاکَ أَدْنَاکَ))
’’دینے والے کا ہاتھ بلند ہوتا ہے اور جو تمھارے عیال(ذمہ داری)میں ہے،اس پر پہلے خرچ کرو،یعنی ماں،باپ،بہن،بھائی اور پھر سب سے قریبی قرابت دار۔‘‘[2]
٭ جانوروں کی دیکھ بھال ضروری ہے:
اگر جانور کا مالک اپنے جانوروں کو خوراک مہیا نہیں کر پا رہا تو انھیں بیچ دیا جائے یا ذبح کر دیے جائیں تاکہ وہ بھوک کے عذاب میں مبتلا نہ رہیں،اس لیے کہ جانوروں کو عذاب دینا حرام ہے۔رسول اللہ نے فرمایا:
((دَخَلَتِ امْرَأَۃٌ النَّارَ فِي ھِرَّۃٍ رَبَطَتْھَا،فَلَا ھِيَ أَطْعَمَتْھَا وَلَا ھِيَ أَرْسَلَتْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتّٰی مَاتَتْ ھَزْلًا))
’’ایک عورت بلی کی و جہ سے جہنم میں داخل ہوئی۔اس نے اسے باندھے رکھا۔نہ اسے کھانا کھلایا اور نہ اسے چھوڑا تاکہ وہ زمینی جانور کھا کر زندہ رہتی حتی کہ وہ بھوکی مر گئی۔‘‘[1]