نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان

ناجائز اور ممنوع نکاح

درج ذیل انداز کے نکاحوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے،لہٰذا یہ فاسد نکاح ہیں: 1: نکاح متعہ:کوئی شخص مقررہ میعاد کے لیے نکاح کرنا چاہے،خواہ میعاد تھوڑی ہو یا زیادہ،مثلاً:ایک شخص(ایک رات،)ایک ماہ یا ایک سال کے لیے کسی عورت کے ساتھ ’’عقد نکاح‘‘ کرتا ہے تو یہ نکاح باطل ہے،اس کا فسخ کرنا ضروری ہے،اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ((إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَھٰی عَنْ نِّکَاح الْمُتْعَۃِ،وَعَنْ لُّحُومِ الْحُمُرِ الْأَھْلِیَّۃِ زَمَنَ خَیْبَرَ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام خیبر میں ’’نکاح متعہ‘‘ اور گھریلوگدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا۔‘‘[2] 2: نکاح شغار(وٹہ سٹہ):ایک شخص اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس شرط پر دیتا ہے کہ دوسرا بھی اسے اپنی عزیزہ کا نکاح دے،خواہ اس میں ’’مہر‘‘ کا ذکر کریں یا نہ کریں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا شِغَارَ فِي اْلإِسْلَامِ‘ ’’اسلام میں شغار(تبادلے کا نکاح)جائز نہیں ہے۔‘‘[3] اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ الشِّغَارِ،وَالشِّغَارُ أَنْ یَّقُولَ الرَّجُلُ:لِلرَّجُلِ زَوِّجْنِي ابْنَتَکَ وَأُزَوِّجُکَ ابْنَتِي،أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَکَ وَأُزَوِّجُکَ أُخْتِي)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’شغار‘‘سے منع کیا ہے اور ’’شغار‘‘یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص سے کہتاہے کہ تو اپنی بیٹی یا بہن کا مجھ سے نکاح کر دے،میں اپنی بیٹی یا بہن کا تجھ سے نکاح کر دیتا ہوں۔‘‘[4] اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:((أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَھٰی عَنِ الشِّغَارِ،وَالشِّغَارُ أَنْ یُّزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَہُ عَلٰی أَنْ یُّزَوِّجَہُ ابْنَتَہُ وَلَیْسَ بَیْنَھُمَا صَدَاقٌ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’شغار‘‘سے منع کیا ہے اور ’’شغار‘‘یہ ہے کہ ایک شخص اس شرط پر اپنی بیٹی کا نکاح دے کہ وہ دوسرا بھی اپنی بیٹی کا نکاح اسے دے گا اور ان کے درمیان مہر نہ ہو۔‘‘[5] اس نکاح کا حکم یہ ہے کہ جماع سے پہلے اس کو فسخ کرنا چاہیے اور اگر ’’دخول‘‘ ہو گیا ہو تو تب اس نکاح کو فسخ کیا جائے جس میں ’’مہر‘‘ نہیں ہے اور جس میں دونوں کا ’’مہر‘‘ مقرر ہے اس کو فسخ نہ کیا جائے۔ 3: نکاح حلالہ:عورت کو تین طلاقیں ہو جائیں تو وہ اپنے خاوند کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا﴾ ’’(اگر تیسری بار طلاق ہو جائے تو)وہ اس مرد کے لیے حلال نہیں،جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔‘‘[1] اگر کسی شخص نے اس ارادے سے نکاح کیا ہے کہ اس عورت کو پہلے خاوند کے لیے حلال بنائے تو یہ نکاح باطل ہے۔٭ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَہُ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حلالہ‘‘کرنے والے اور جس کے لیے کیا جارہا ہے،دونوں پر لعنت کی ہے۔‘‘[2] اس کا حکم یہ ہے کہ یہ نکاح باطل ہونے کی بنا پر فسخ ہے،اس طرح عورت پہلے خاوند کے لیے جس نے اسے تین طلاقیں دی تھیں حلال نہیں ہوتی۔اگر ’’حلالہ‘‘کرنے والے نے مجامعت کر لی ہے تو عورت کو مہر دے کر ان کے درمیان تفریق کر دی جائے۔٭ 4: احرام میں نکاح:حج یا عمرے کے احرام میں اگر کوئی شخص نکاح کر لے تو یہ بھی باطل ہے،تاہم اس کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر وہ اس عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے تو حج یا عمرے سے فارغ ہو کر تجدید نکاح کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا یَنْکِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا یُنْکِحُ‘ ’’محرم نہ اپنا نکاح کرے اور نہ کسی اور کا نکاح کرے۔‘‘[3] لہٰذا ’’نہی تحریمی‘‘ہونے کی وجہ سے یہ نکاح باطل ہے۔ ٭ اس سے وہ نکاح مراد ہے جو شرعاً صحیح ہے،جس میں مرد ہمیشہ کے لیے بیوی کے ساتھ آباد ہونے کے لیے نکاح کرتا ہے،پھر اگر اتفاق سے ان میں بھی نباہ نہ ہو سکے اور طلاق ہو جائے تو عورت عدت گزار کر پہلے خاوند کے ساتھ نئے نکاح میں آ سکتی ہے لیکن اس ارادے میں عارضی نکاح کرنا تا کہ طلاق دلوا کر عورت کو پہلے خاوند کے لیے حلال کیا جائے تو یہ نکاح باطل ہے۔اس طرح عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی(الاثری)۔لہٰذا حلالے کے بعد پہلے خاوند کے ساتھ نیا نکاح کرنے والی عورت کے دونوں نکاح باطل ہوں گے۔واللہ اعلم(ع،ر)٭اگر اس عورت کے ساتھ مجامعت نہیں کی گئی اور پہلے جدائی کر دی گئی ہے تو علماء کے نزدیک وہ شخص عدت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کا مجاز ہے اور اگر مجامعت کے بعد تفریق ہوئی ہے تو امام مالک رحمہ اللہ و امام احمد رحمہ اللہ کے بقول یہ عورت ہمیشہ کے لیے اس مرد پر حرام ہو گئی ہے۔(مؤلف) 5: ایام عدت میں نکاح:عورت طلاق یا خاوند کی وفات کی ’’عدت‘‘میں ہو تو اس سے نکاح کرنا باطل ہے،البتہ اگر کسی نے اس حالت میں نکاح کر لیا ہے تو ’’عقد‘‘ باطل ہونے کی بنا پر دونوں کے درمیان تفریق لازم ہے اور اگر خلوت ہو گئی ہے تو عورت کے لیے مہر ثابت ہو گیا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ﴾’’اور جب تک عدت پوری نہ ہو نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرو۔‘‘[1] 6:ولی کے بغیر نکاح: ولی کی اجازت کے بغیر عورت اگر کسی مرد کے ساتھ نکاح کر لیتی ہے تو یہ نکاح باطل ہے،اس لیے کہ ’’ولی‘‘کا ہونا نکاح کے ارکان میں سے ایک رکن ہے،جس کے فقدان سے نکاح نہیں ہوتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا نِکَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ‘ ’’ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے۔‘‘[2] ان کے درمیان تفریق کر دینی چاہیے،اگر ملاپ ہوا ہے تو عورت کو مہر ملے گا اور ایک حیض سے ’’استبرائے رحم‘‘٭ کے بعد اگر ولی کی اجازت عورت کو حاصل ہو جائے تو اس مرد سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔ 7: غیر کتابیہ کا فرہ سے نکاح: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ﴾’’مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔‘‘[3] بنا بریں مسلمان کسی مجوسی،سیکولر اور بت پرست عورت کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا،جبکہ مسلمان عورت کا علی الاطلاق کافر کے ساتھ نکاح حرام ہے،برابر ہے کہ وہ کافر اہل کتاب سے ہو یا غیر اہل کتاب سے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ ’’یہ(مسلمان)عورتیں ان(کافروں)کے لیے حلال نہیں اور نہ وہ(کافر مرد)ان کے لیے حلال ہیں۔‘‘[4] تنبیہات: 1: کافر میاں بیوی میں سے اگر ایک اسلام قبول کر لیتا ہے تو نکاح باطل ہو جائے گا،عدت گزرنے سے پہلے اگر دوسرا بھی مسلمان ہو جائے تو دونوں پہلے نکاح پر قائم رہیں گے اور اگر عدت گزرنے کے بعد اسلام قبول کرے تو جمہور علماء کے نزدیک نیا نکاح ضروری ہے۔(اگر عورت کتابیہ ہے اوراس کا خاوند مسلمان ہوجاتا ہے تو ٭ حیض کی آمد اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا رحم حمل سے خالی ہے،اسی لیے حیض کے انتظار کو ’’استبرائے رحم‘‘سے تعبیر کیا گیا ہے۔(ع،ر) سابقہ نکاح برقرار ہے۔) 2: اگر رخصتی سے پہلے منکوحہ(بیوی)مسلمان ہو جائے تو اس کے لیے مہر نہیں ہے،اس لیے کہ جدائی کا باعث عورت ہے٭(اور جب بیوی جدائی کا باعث بنے تو اسے مہر نہیں ملا کرتا)اور اگر خاوند رخصتی سے پہلے اسلام قبول کر لے تو کافر عورت کے لیے نصف مہر ہے۔ہاں،رخصتی اور خلوت کے بعد عورت اگر اسلام قبول کرتی ہے تو وہ پورے مہر کی مستحق ہے اور کسی ایک فریق کے ’’مرتد‘‘ ہونے کی صورت میں بھی مندرجہ بالا احکام نافذ ہوں گے۔٭ 3: ایک شخص کی چار سے زیادہ بیویاں ہیں اور وہ مسلمان ہو جاتا ہے اور عورتیں بھی اس کے ساتھ اسلام قبول کر لیتی ہیں یا مسلمان نہیں ہوتیں ویسے اہل کتاب(یہود و نصارٰی)سے ہیں(جن کی عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے)تو ان میں چار کا انتخاب کر لے اور باقی کو جدا کر دے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جس کے پاس اسلام قبول کرنے کے وقت دس بیویاں تھیں،فرمایا:’اِخْتَرْ مِنْھُنَّ أَرْبَعًا‘ ’’ان میں سے چار کا انتخاب کر لے۔‘‘[1] اسی طرح مسلمان ہونے والے شخص کے نکاح میں اگر دو بہنیں ہیں تو ان میں سے ایک کو جدا کر دے،اس لیے کہ دو بہنوں کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا حلال نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ﴾’’اور(یہ بھی تم پر حرام ہے کہ)تم دو بہنوں کو اکٹھا کرو۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بہنوں کے خاوند کو جس نے اسلام قبول کر لیا تھا،حکم دیا:’طَلِّقْ أَیَّتَھُمَا شِئْتَ‘ ’’ان میں سے جسے چاہے طلاق دے دے۔‘‘[3]