بیع و تجارت کا بیان
اجارہ کا بیان
٭ اجارہ کی تعریف:
معلوم مدت کے لیے کام کرنے اور اس کی نقد رقم کی صورت میں اجرت ادا کرنے کے معاہدے کا نام ’’اجارہ‘‘ہے۔٭
٭ صحیح مسلم،البیوع،باب کراء الأرض بالذھب والورق،حدیث:1547-115۔حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ثلث ربع وغیرہ پر مزارعت کرنا اجارے سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ صورت ظلم و غرر اور مخاطرے سے خالی ہوتی ہے۔اگر فائدہ ہوتا ہے تو دونوں کو ہوتا ہے۔اور اگر نقصان ہوتا ہے تودونوں کو ہوتا ہے۔جبکہ اجارہ میں ایک جانب،یعنی مالکِ زمین کو لازماً اور ہرصورت میں فائدہ ہوتا ہے۔دیکھیے حاشیہ الروض المربع:287/5(ع،و)٭ اس صورت میں زمین کی ملکیت تبدیل نہیں ہوتی،یعنی زمین مالک ہی کی ہوتی ہے۔(الاثری)اور اگر زمین کی ملکیت ہی اسے ہبہ کر دے تو یہ سب سے بہتر صورت ہے۔(ع،ر)٭ عربی زبان کا لفظ ’’اجارہ‘‘بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے،مثلاً:زمین کو ٹھیکے پر دینا بھی اجارہ ہے،کسی چیز کو کرایے پر لینا یا دینا بھی اجارہ ہے ریلوں،بسوں اور ٹرانسپورٹ کا کرایہ دینا بھی اجارہ ہے اور کسی کو ایک معین مدت کے لیے مزدور رکھنا بھی اجارہ ہے۔(عبدالرحمن کیلانی)
٭ اجارہ کا حکم:
یہ جائز ہے،اس لیے کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:﴿لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا﴾’’اگر تو چاہتا تو اس کام پر مزدوری لے لیتا۔‘‘[1]
اور فرمایا:﴿إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾
’’بلاشبہ بہترین شخص،جسے آپ اجرت پر رکھیں،وہی ہو سکتا ہے جو طاقتور اور امین ہو۔‘‘[2]
مزید ارشاد ربانی ہے:﴿عَلَىٰ أَن تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ﴾’’اس شرط پر کہ تو میرے پاس آٹھ سال مزدور رہے گا۔‘‘[3]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی:ثَلَاثَۃٌ أَنَا خَصْمُھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ:رَجُلٌ أَعْطٰی بِي ثُمَّ غَدَرَ،وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّ افَأَکَلَ ثَمَنَہُ،وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِیرًا فَاسْتَوْفٰی مِنْہُ وَلَمْ یُعْطِہِ أَجْرَہُ‘
’’اللہ عزوجل فرماتا ہے:’’میں قیامت کے دن تین اشخاص کے خلاف مدعی بنوں گا‘‘ایک شخص جو میرے نام سے ’’عہد‘‘کرتا ہے اور پھر دھوکا دیتا ہے،ایک وہ شخص جو آزاد کو بیچ کر اس کے پیسے کھا جاتا ہے اور ایک وہ شخص جو مزدور سے پوری مزدوری کرائے مگر پھراسے اجرت نہ دے۔‘‘[4]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے موقع پر بنو دِیل کے ایک ماہر شخص کو مزدور بنایا تھا جو انھیں مدینہ منورہ کے راستے بتاتا تھا۔[5]
٭ اجارہ کی شرائط:
1: منافع(کرایہ دینے والا شخص جو نفع اٹھائے گا وہ)متعین و معروف ہونا چاہیے،مثلاً:مکان میں رہائش اختیار کرنا ہے،کپڑا سینا ہے وغیرہ،اس لیے کہ یہ ’’بیع‘‘کی طرح ہے اور بیع میں ’’مبیع‘‘ کا متعین و معروف ہونا ضروری ہے۔
2: نفع کا جائز ہونا بھی ضروری ہے،یہی و جہ ہے کہ لونڈی زنا کے لیے اجرت پر دینا یا عورت کو گانے یا نوحہ کے لیے اجرت پر رکھنا،اسی طرح کفار اوریہود و نصارٰی کے ’’معبد‘‘(عبادت گاہ)کی تعمیر کے لیے زمین کرایے پر دینا یا شراب خانے کے لیے دکان کرایہ پر دینا سب ناجائز ہیں۔
3: اجرت متعین ہو،اس لیے کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
((أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَھٰی عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِیرِ حَتّٰی یُبَیَّنَ لَہُ أَجْرُہُ))
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدور کی مزدوری متعین کیے بغیر مزدور رکھنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘[6]
٭ اجارہ کے احکام:
1: علم یا ہنر سکھانے کے لیے استاد کو تنخواہ دینا جائز ہے،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے بعض قیدیوں کو مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھانے کے عوض چھوڑا تھا۔
2: یہ بھی جائز ہے کہ کوئی شخص کھانے اور کپڑے کے عوض کام کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِنَّ مُوسٰی آجَرَ نَفْسَہُ ثَمَانِيَ سِنِینَ أَوْعَشْرًا عَلٰی عِفَّۃِ فَرْجِہِ وَطَعَامِ بَطْنِہِ))
’’موسیٰ(علیہ السلام)نے آٹھ یا دس سال کے لیے اپنی شرم گاہ کی عفت(نکاح کرنے)اور اپنے پیٹ کے کھانے پر مزدوری کی ہے۔[1]
3: متعین مدت کے لیے(مثلاً:10سال،20سال)کوئی مکان کرایے پر لینا درست ہے،جبکہ ظن غالب یہ ہو کہ مکان اس مدت تک باقی رہے گا۔
4: ایک شخص نے کوئی چیز کرایے پر دے دی مگر لینے والے کو اس کے استفادے سے روک دیا ہے تو جتنی مدت رکاوٹ رہے گی،اس کا کرایہ ساقط ہو جائے گا اور اگر مستاجر(کرایے پر لینے والا)خود ہی اس سے فائدہ نہیں حاصل کر رہا تو اس کو پورا کرایہ دینا پڑے گا۔
5: کرایے پر دی ہوئی چیز تلف ہو جائے تو ’’عقدِ اجارہ‘‘فسخ ہو جائے گا،مثلاً:مکان منہدم ہو جائے یا جانور مر جائے،وغیرہ۔البتہ جتنی مدت اجرت پر لینے والے نے اس سے فائدہ حاصل کیا ہے،اس کا کرایہ اس کو دینا پڑے گا۔
6: اجرت پر دی ہوئی چیز میں اگر عیب کا پتہ لگے تو ’’عقد‘‘فسخ ہو جائے گا ا لّا یہ کہ وہ عیب مستاجر کو پہلے سے معلوم ہو اور اس کے باوجود اس نے اسے اجرت پر لینا قبول کیا ہو تو ’’عقد‘‘درست ہے اور اگر اس نے کچھ مدت اس عیب والی چیز سے فائدہ حاصل کر لیا ہے تو اتنی مدت کا کرایہ دینا ہو گا۔
7: ’’اجیر مشترک‘‘| درزی،لوہار وغیرہ کے فعل اور تفریط سے اگر کوئی چیز ضائع ہو جائے تو وہ اس کا ضامن ہو گا اور اگر اس کی دکان سے کوئی چیز ضائع ہو جائے تو یہ(کاریگر)ضامن نہیں ہے،اس لیے کہ سامان ودیعت(امانت)کے حکم میں ہے(کاریگر کے پاس سامان مالک کی امانت ہے۔)
اور ’’ودیعت‘‘ضائع ہو جائے تو ضمان نہیں ہے،الّا یہ کہ’ ’صاحب ودیعت‘‘(کاریگر)کی کوتاہی کا اس کے ضائع ہونے میں کوئی دخل ہو اور اسی طرح ’’اجیر خاص‘‘ سے جسے کسی نے خاص اپنے کام کے لیے مزدور رکھا ہے،اگر اس
٭ وہ کاریگر جو مختلف لوگوں کے آرڈرز کی تعمیل کرتا ہے،مثلاً:درزی یا لوہار وغیرہ۔واللہ اعلم۔(ع،ر)
سے کوئی چیز ضائع ہو جائے تو یہ ضامن نہیں ہے،الّا یہ کہ ثابت ہو جائے کہ اس نے کوتاہی کی ہے یا اس سلسلے میں زیادتی کا مرتکب ہوا ہے۔
8: اجرت تو معاہدہ ہوتے ہی لازم ہو جاتی ہے،البتہ ادائیگی اس وقت لازم ہو گی جب اجرت پر مزدور رکھنے والا شخص اس سے مطلوبہ فائدہ حاصل کرے یا اس کا کام مکمل ہو جائے الّا یہ کہ ادائیگی عقد کے ساتھ ہی مشروط ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:’لٰکِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا یُوَفّٰی أَجْرَہُ إِذَا قَضٰی عَمَلَہُ‘
’’لیکن کام کرنے والے کاریگر کو اس کی مزدوری کام پورا کرنے پر پوری دے دی جائے۔‘‘[1]
9: مستاجر(کاریگر)مزدوری وصول کرنے کے لیے آجر(مالک)کی چیز روک سکتا ہے،اگر اس چیز میں اس نے کام کیا ہے،مثلاً:اس نے کپڑے کی سلائی کی ہے اور اگر اس چیز میں اس کے کام اور عمل کی تاثیر نہیں ہے،مثلاً:اس نے اجرت پر کسی کا سامان وغیرہ اٹھایا ہے تو وہ مالک کا سامان نہیں روک سکتا بلکہ طے شدہ جگہ پر سامان پہنچا کر اجرت طلب کرے گا۔
10: ایک شخص جو طب کا ماہر نہیں ہے،کسی کا اجرت پر علاج کرتا ہے یا دوا دیتا ہے اور نقصان کر دیتا ہے تو وہ ضامن ہے۔
اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَنْ تَطَبَّبَ وَلَا یُعْلَمُ مِنْہُ طِبٌّ فَھُوَ ضَامِنٌ‘ ’’جو علاج کرتا ہے اور طب میں وہ معروف نہیں ہے تو وہ ضامن ہے۔‘‘[2]
امام ابو داود رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا:ہمیں معلوم نہیں کہ یہ صحیح ہے یا نہیں۔٭