بیع و تجارت کا بیان
سودی بینک
اس دور میں اسلامی ممالک میں بھی بالعموم بنکوں میں سودی کاروبار کیا جاتا ہے،ان کے ساتھ غیرسودی لین دین بھی شدید ضرورت کے وقت تو جائز ہے،جبکہ عام حالات میں نہیں،جیسے کسی کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں تحویل رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔اس بنا پر مخلص مسلمان بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ جدید اسلامی بنکوں کا اجرا کریں جو سودی معاملات سے پاک ہوں۔
٭متوقع اسلامی بینکوں کی صورت:
ہم اس اسلامی بینک کی ایک مختصر تصویر پیش کرتے ہیں،وہ یہ کہ کسی شہر میں مسلمان بھائی باہم مل بیٹھیں اور ایک ادارہ قائم کریں جس کا نام خزانۃ الجماعۃ ہو سکتا ہے،ایک شخص کو محافظ مقرر کریں جو اس کے چلانے کی ذمہ داری قبول کر لے اور اس خزانے(بینک)کے مقاصد درج ذیل ہوں:
1 امانتیں وصول کرنا،یعنی احباب کی رقموں کی مفت حفاظت۔
2 مسلمان بھائیوں کے لیے قرضہ جات کا اجرا۔
3 مشارکت،یعنی کاشتکاری،تجارت،تعمیر اور صنعت کے ان میدانوں میں سرمایہ لگانا جہاں ادارے کو منافع حاصل ہونے کی توقع ہو۔
4 ایک شہر سے دوسرے شہر میں رقم منتقل کرنے کے مفت انتظامات،بشرطیکہ اس شہر میں اس بینک کی شاخ موجود ہو۔
5 سال گزرنے پر خزانے(بینک)کے حسابات صاف کر لیے جائیں اور منافع حصہ داروں میں حصہ رسد کے مطابق بانٹ دیا جائے۔