بیع و تجارت کا بیان

سود کے احکام

اصول ربویات:جن چیزوں میں سود وقوع پذیر ہوتا ہے وہ بنیادی طور پر چھ ہیں۔سونا،چاندی،گندم،جو،کھجور اور نمک،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((اَلذَّھَبُ بِالذَّھَبِ،وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ،وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ،وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ،وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ،وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ،سَوَائً بِسَوَائٍ،یَدًا بِیَدٍ،فَإِذَا اخْتَلَفَتْ ھٰذِہِ الْأَصْنَافُ فَبِیعُوا کَیْفَ شِئْتُمْ،إِذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ)) ’’سونا سونے کے ساتھ،چاندی چاندی کے ساتھ،گندم گندم کے ساتھ،جو جو کے ساتھ،کھجور کھجور کے ساتھ اور نمک نمک کے ساتھ تبادلہ میں نقدونقد اور برابر ہونے چاہئیں اور اگر یہ اجناس مختلف ہو جائیں تو جس طرح چاہو،بیع کرو،بشرطیکہ اس ہاتھ دو اور اس ہاتھ لو والا معاملہ ہو۔‘‘[1] صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم،تابعین عظام اور ائمۂ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ان چھ چیزوں پر ان اشیاء کو بھی قیاس کیا ہے جو ان کے ساتھ معنی اور علت میں یکساں ہیں،یعنی ماپی جانے والی اور وزن کی جانے والی،کھائی جانے والی اور ذخیرہ رکھی جانے والی چیزیں،مثلاً:غلہ کی ہمہ اقسام،تیل کی ہمہ اقسام،شہد اور گوشت وغیرہ۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:جو اشیاء پیمانے سے ماپی جاتی ہیں یا انھیں تولا جاتا ہے،جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے ان میں سود ہوتا ہے۔[2]