جہاد کا بیان

غنائم،فے،خراج،جزیہ اور نفل کی تقسیم

٭ غنائم کی تقسیم: ’’غنیمت‘‘اس مال کو کہتے ہیں جس پر مسلمانوں نے کفار سے لڑائی کرتے ہوئے بزور قبضہ کیا ہو۔اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں سے پانچواں حصہ امام کو دیا جائے،وہ مسلمانوں کی اصلاح کے کاموں پر اسے خرچ کرے گا اور باقی چار حصے ان فوجیوں پر تقسیم کر دیے جائیں جو جنگ میں شریک ہوئے تھے،چاہے ان میں سے بعض نے بالفعل لڑائی کی ہو یا نہیں،جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے۔’اَلْغَنِیمَۃُ لِمَنْ شَھِدَ الْوَقْعَۃَ‘ ’’غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا۔‘‘[6] نیز ان میں سے گھوڑ سوار کو تین حصے اور پیدل کو ایک حصہ دیا جائے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللّٰهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ﴾ ’’اور جان لو کہ جو چیز تم نے غنیمت میں حاصل کی ہے،اس میں سے پانچواں حصہ اللہ،(اس کے)رسول،(آپ کے)رشتہ داروں،یتیموں،مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس پر جو ہم نے اپنے بندے پر فرقان کے دن اتارا تھا۔‘‘[7] تنبیہ:جنگ کے لیے لشکر کے نکلنے کے بعد لشکر میں سے کسی دستے نے کوئی مہم سر کی ہے اور کوئی غنیمت حاصل کی ہے تو پوری فوج اس میں حصہ دار ہو گی۔وہ مال غنیمت صرف اسی فوجی دستے میں تقسیم نہیں ہو گاجو اسے لائے تھے۔ ٭مال فے: ’’فے‘‘ سے کفار کے وہ اموال مراد ہیں جو لڑائی کے بغیر ہی کفار سے حاصل کیے جائیں اور مسلمانوں کے ہاتھ لگیں۔اس کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں کا امام اس میں کسی خاص یا عام مصلحت کے تحت جہاں چاہے خرچ کر سکتا ہے جس طرح مالِ غنیمت کے پانچویں حصے میں امام اپنی صوابدیدی نظر استعمال کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿مَّا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ﴾ ’’بستیوں والوں کا جو مال اللہ تعالیٰ بغیر لڑے بھڑے اپنے رسول کو عطا کر دے،وہ اللہ،رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)(آپ کے)قرابت داروں،(دیگر)یتیموں،مساکین اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ یہ محض تمھارے اغنیاء میں دولت بن کر نہ رہ جائے۔‘‘[1] ٭خراج: جن زمینوں پر مسلمانوں نے جنگ کر کے زبردستی قبضہ کیا ہو اور ان پر سالانہ ٹیکس لاگو کر دیا ہو،اسے ’’خراج‘‘کہتے ہیں۔ایسی زمینوں کے بارے میں امام کو اختیار ہے کہ لڑائی کرنے والوں میں تقسیم کر دے یا مسلمانوں کے لیے وقف قرار دے دے یا جس مسلمان یا ذمی کے قبضے میں یہ زمین ہو،اس پر ہمیشہ کے لیے سالانہ ٹیکس لاگو کر دے اور اسے مسلمانوں کے مصالح عامہ میں خرچ کرے،جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے شام،عراق اور مصر کی مفتوحہ اراضی میں کیا تھا۔[2] تنبیہ:اگر امام نے دشمن کے ساتھ ایک معین محصول پر صلح کی ہو،پھر اس علاقے کے سب لوگ اسلام قبول کر لیں تو اسلام کی وجہ سے ’’خراج‘‘ ان سے ساقط ہو جائے گا،البتہ جنگ میں زبردستی قبضے میں لی ہوئی زمینوں کا یہ حکم نہیں ہے،ان کے باشندے بعدازاں مسلمان بھی ہو جائیں تو بھی ان سے’ ’خراج‘‘ساقط نہیں ہو گا۔ ٭جزیہ: یہ ایک ’’مالی ٹیکس‘‘ہے جو ذمیوں سے سالانہ وصول کیا جاتا ہے۔جن ذمیوں کے شہروں پر مسلمانوں نے بالجبر قبضہ کیا ہو،ان سے سالانہ جزیہ چار دینار سونا یا چالیس درہم چاندی فی بالغ مرد کے حساب سے وصول کیا جاتا ہے۔بچوں اور عورتوں سے جزیہ نہیں لیا جاتا اور تنگ دست فقیر اور بوڑھا یا بیمار جو کمانے سے عاجز ہیں،وہ بھی جزیہ سے مستثنیٰ ہیں۔البتہ وہ آدمی ج ن کے علاقے صلح کے ذریعے سے قبضے میں آچکے ہوں تو ان سے وہی مقدار جزیہ لیا جائے گا جس پر صلح ہوئی ہے۔یاد رہے کہ ان کے اسلام قبول کرنے کی صورت میں جزیہ ان سے ساقط ہو جائے گا۔جزیہ بھی مصالح عامہ کے کاموں میں خرچ کیا جاتا ہے اور ان احکام کی بنیاد یہ فرمان ربانی ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ ’’اہل کتاب کے ان لوگوں سے لڑو جو اللہ اور آخرت کے دن کو نہیں مانتے اور نہ اس چیز کو جسے اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)نے حرام کیا ہے،حرام جانتے ہیں اور نہ ہی وہ سچے دین کے تابع ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کریں۔‘‘[1] ٭نفل: ’’نفل‘‘ اسے کہتے ہیں جو امام اس شخص کے لیے طے کرتا ہے جس سے کسی خاص جنگی مہم انجام دینے کا کہا جاتا ہے۔اس کے انجام دینے پر حصۂ غنیمت کے علاوہ مزید حصۂ غنیمت میں سے خمس(پانچویں حصہ)کے اخراج کے بعد بطور خصوصی انعام اسے دیا جاتا ہے مگر یہ حاصل شدہ غنیمت کے چوتھائی سے زائد نہیں ہونا چاہیے اگر دشمن کے علاقے میں داخل ہونے کے وقت یہ اعلان کیا گیا ہو۔جبکہ دشمن کے علاقے سے واپسی پر مہم سر کرنے کی صورت میں تہائی سے زائد نہیں ہونا چاہیے،اس لیے کہ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((شَھِدْتُّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَفَّلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَۃِ وَالْثُّلُثَ فِي الرَّجْعَۃِ)) ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ابتدا میں چوتھائی اور واپسی پر تہائی بطور ’’نفل‘‘دیتے تھے۔‘‘[2] جنگی قیدیوں کے احکام: مسلمان علماء میں اختلاف ہے کہ کافر جنگی قیدیوں کو قتل کر دینا ہی ضروری ہے،یا ان سے فدیہ(معاوضہ)وصول کرکے چھوڑ دیا جائے،یا ان پر احسان کر کے چھوڑ دیا جائے یا ان کو غلام بنا لیا جائے۔اختلاف کا سبب یہ ہے کہ اس بارے میں دو آیتیں آئی ہیں،اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً﴾ ’’ان کی گردنیں اڑاؤ،جب تم انھیں خوب قتل کر لو تو(جو زندہ پکڑے جائیں ان کو)مضبوطی سے باندھ لو،پھر یا احسان کر کے چھوڑ دینا یا معاوضہ لے کر۔‘‘[3] اس آیت کریمہ میں امام کو اختیار دیا گیا ہے کہ قیدیوں پر احسان کر کے چھوڑ دے یا مال،ہتھیار اور اپنے قیدیوں کے عوض میں تبادلہ کرے۔اسی طرح اللہ جل مجدہ کا فرمان ہے: ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ﴾’’مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کر دو۔‘‘[4] اس آیت کریمہ میں قید کیے بغیر قتل کرنے کا حکم ہے۔ جمہور کی رائے یہ ہے کہ امام کو قتل کرنے،فدیہ لینے،احسان کرنے اور غلام بنانے کا پورا اختیار ہے اور وہ مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق فیصلہ کر لے،اس لیے کہ ’’صحیح بخاری‘‘میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض قیدیوں کو قتل کرنا ثابت ہے[1] اور معاوضہ لے کر چھوڑ دینا بھی [2]اور بغیر کسی عوض کے احسان کرنا بھی ثابت ہے۔[3]