قربانی اور عقیقہ کے احکام و مسائل

عقیقہ کا بیان

عقیقہ کی تعریف: عقیقہ اس جانور کو کہتے ہیں جو بچے کی پیدائش کے ساتویں دن ذبح کیا جاتا ہے۔ عقیقہ کا حکم: جسے قدرت ہو،اس پر اپنے بچے کی ولادت سے ساتویں دن عقیقہ کرنا سنت مؤکدہ ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((کُلُّ غُلَامٍ رَّھِینَۃٌ بِعَقِیقَتِہِ تُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ سَابِعِہِ وَیُحْلَقُ،وَیُسَمّٰی)) ’’ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے۔ساتویں دن اس کی طرف سے(جانور)ذبح کیا جائے،اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال تراشے جائیں۔‘‘[3] ٭ عقیقہ کی حکمت: اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتِ اولاد کا شکر ادا کرنا اور بچے کی حفاظت ونگہبانی کے لیے اللہ عزوجل کی جناب میں وسیلہ بنانا ہے۔ ٭ عقیقہ کے احکام: 1: جانور عیب سے پاک ہو لیکن اس میں عمر کی وہ قید لازم نہیں جو قربانی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس میں بھیڑ،بکری،چھترا،بکرا دنبہ اگرچہ کھیرا ہو کفایت کر جاتا ہے۔ 2: اس کی تقسیم اس طریقے پر ہونی چاہیے جو قربانی میں ملحوظ ہوتا ہے کہ گھر والے بھی کھائیں گے،خیرات بھی کریں گے اور تحفے میں بھی دیں گے۔ 3: لڑکے کی طرف سے دو جانور ذبح کیے جائیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے دو،دو مینڈھے ذبح کیے تھے۔[4] یہ بھی مستحب ہے کہ ساتویں دن بچے کا نام رکھا جائے اور اچھا سا نام تجویز کیا جائے۔اسی دن سرمونڈا جائے اور بالوں کے ہم وزن سونا یا چاندی خیرات کر دی جائے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((کُلُّ غُلَامٍ رَّھِینَۃٌ بِعَقِیقَتِہِ تُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ سَابِعِہِ،وَیُسَمّٰی وَیُحْلَقُ رَأْسُہُ)) ’’ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے ساتھ رہن(گروی)ہے،ساتویں دن اس کی طرف سے(جانور)ذبح کیا جائے،اس کا نام رکھا جائے اور سر مونڈا جائے۔‘‘[1] 4: نومولود بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنا علماء کے نزدیک مستحب ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے: ((أَذَّنَ فِي أُذُنِ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ۔حِینَ وَلَدَتْہُ فَاطِمَۃُ۔بِالصَّلَاۃِ)) ’’جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو جنم دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کان میں نماز والی اذان کہی۔‘‘[2] 5: اگر ساتواں دن گزر جائے اور جانور ذبح نہ ہو سکے تو چودہویں دن یا اکیسویں دن بھی ذبح کرنا درست ہے،[3] اگر بچہ سات دن سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کی طرف سے عقیقہ نہ کیا جائے۔