مسجد نبوی کی زیارت کا حکم
مدینہ منورہ کے مقامات فضیلت کی زیارت
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جب ایک مسلمان کو مسجد نبوی میں نماز پڑھنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر کھڑا رہنے کی سعادت سے مشرف کیا ہے اور اس عظیم شہر طیبہ میں داخل کر کے عزت وتکریم دی ہے تو اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ نماز کے لیے مسجد قبا جائے،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد میں تشریف لے جاتے اور نماز پڑھتے تھے۔اسی طرح صحابۂ کرام کا بھی یہی معمول تھا۔اور آپ کا فرمان ہے:((مَنْ تَطَھَّرَ فِي بَیْتِہِ ثُمَّ أَتٰی مَسْجِدَ قُبَائَ فَصَلّٰی فِیہِ صَلَاۃً کَانَ لَہُ کَأَجْرِ عُمْرَۃٍ))
’’جو اپنے گھر سے اچھی طرح وضو کر کے مسجد قبا کی طرف نماز کے لیے جاتا ہے،اسے ایک عمرے کا ثواب ملے گا۔‘‘[2]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سوار ہو کر اور کبھی پیدل چل کر ’’مسجد قبا‘‘ جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔[3]
اسی طرح وہ شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کے لیے بھی جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے اور سلام کہتے تھے۔[4]
شہدائے احد کی اس زیارت کے ساتھ ’’جبل احد‘‘ کا مشاہدہ بھی ہو جائے گا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’أُحُدٌ جَبَلٌ یُّحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ‘ ’’احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ [5]
ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابو بکر،حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم احد پر کھڑے تھے کہ احد پہاڑ کانپنے لگا تو آپ نے احد پہاڑ پر پاؤں مار کر فرمایا:’أُسْکُنْ أُحُدُ!فَلَیْسَ عَلَیْکَ إِلَّا نَبِيٌّ وَّصِدِّیقٌ وَّشَھِیدَانِ‘’’احد!سکون اختیار کر کہ تجھ پر(اللہ کا)نبی،ایک صدیق اور دو شہید(کھڑے)ہیں۔‘‘[6]
اسی طرح زائر کو بقیع کے قبرستان کی زیارت بھی کرنی چاہیے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قبرستان میں جاتے اور اہل بقیع کو سلام کہتے تھے۔[1]
اور اس لیے بھی کہ اس میں ہزاروں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم،تابعین عظام اور اللہ کے نیک بندے رحمۃ اللہ علیہم مدفون ہیں۔وہاں جاکر انھیں بایں الفاظ سلام کہے:
((اَلسَّلَامُ عَلٰی أَھْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ،وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِینَ،وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَا حِقُونَ،أَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعافِیَۃَ))
’’اے مومنین،مسلمین،اہل دیار!تم پر سلامتی ہو،ہم سے آگے جانے والوں اور پیچھے رہنے والوں پر اللہ رحم فرمائے،اور ہم(بھی)ان شاء اللہ تم سے آملیں گے۔میں اللہ سے اپنے اور تمھارے لیے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘[2]