روزے کا بیان
روزے کا کفارہ کب واجب ہوتا ہے
1: جبر کے بغیر عمدًا مجامعت کرنا،اس لیے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ’’ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا:اے اللہ کے رسول!میں ہلاک ہو گیا!آپ نے فرمایا:’’کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟‘‘ اس نے کہا:رمضان المبارک میں میں نے اپنی عورت سے جماع کر لیا ہے۔فرمایا:’’کیا ایک غلام موجود ہے جسے آزاد کر سکو؟‘‘اس شخص نے کہا:نہیں فرمایا:’’دو ماہ لگاتار روزے رکھ سکتے ہو؟۔‘‘ اس نے کہا:نہیں آپ نے فرمایا:’’کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاسکتے ہو؟‘‘عرض کی:نہیں،پھر وہ بیٹھ گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کی ایک زنبیل لائی گئی تو آپ نے فرمایا:’’یہ لے جاؤ اور اسے خیرات کردو۔‘‘ وہ شخص کہنے لگا:کس کو خیرات کردوں،اللہ کی قسم!اس علاقہ میں میرے اہل بیت سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا:
’اِذْھَبْ فَأَطْعِمْہُ أَھْلَکَ‘ ’’اسے لے جاؤ اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔‘‘ [1]
2: بلاعذر کھانا یا پینا،یہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ اورمالک رحمہ اللہ کے نزدیک کفارے کا موجب ہے۔ان کی دلیل یہ ہے کہ ایک شخص نے رمضان میں افطار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارے کا حکم دیا۔[2]
اسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا میں نے جان بوجھ کر اپنی بیوی سے جماع کرکے روزہ افطار کیا ہے۔آپ نے اسے غلام آزاد کرنے یا دو ماہ لگاتار روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا۔‘‘ [3]