روزے کا بیان

روزے کے احکام

صوم(روزے)کی تعریف اور تاریخ فرضیت: 1 روزے کی تعریف: ’’صیام‘‘ لغت عرب میں مطلق رک جانے کو کہتے ہیں۔شرعاً اس کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت کے ارادے سے کھانے،پینے اور عورتوں سے مجامعت اور دیگر روزہ توڑ دینے والی چیزوں سے صبح صادق کے طلوع ہونے سے سورج کے غروب ہونے تک اجتناب کرنا۔ 2 روزے کی تاریخ فرضیت: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے پہلی امتوں کی طرح امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اپنے درج ذیل فرمان میں روزہ فرض قرار دیا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ ’’اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘[1] یہ آیت مبارکہ بروز سوموار شعبان المعظم 2ھ کو نازل ہوئی۔ 3 روزے کی فضیلت: درج ذیل احادیث مبارکہ روزے کی فضیلت واہمیت کو ثابت کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ مِّنَ النَّارِ کَجُنَّۃِ أَحَدِکُمْ مِّنَ الْقِتَالِ‘ ’’روزہ جہنم سے ڈھال ہے،جس طرح تمھارے ایک کی لڑائی سے بچانے والی ڈھال ہوتی ہے۔‘‘ [2] اور فرمایا:’مَنْ صَامَ یَوْمًا فِي سَبِیلِ اللّٰہِ بَعَّدَ اللّٰہُ وَجْھَہُ عَنِ النَّارِ سَبْعِینَ خَرِیفًا‘ ’’جو شخص اللہ عزوجل کے راستہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے،اللہ اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال دور کر دے گا۔‘‘ [3] نیز ارشاد فرمایا:’إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِہِ لَدَعْوَۃً مَّا تُرَدُّ‘ ’’افطار کے وقت روزے دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔‘‘ [4] نیز ارشاد ہے:’إِنَّ فِي الْجَنَّۃِ بَابًا یُّقَالُ لَہُ:الرَّیَّانُ،یَدْخُلُ مِنْہُ الصَّائِمُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،لَا یَدْخُلُ مِنْہُ أَحَدٌ غَیْرُھُمْ،یُقَالُ:أَیْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَیَقُومُونَ،لَا یَدْخُلُ مِنْہُ أَحَدٌ غَیْرُھُمْ،فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ،فَلَمْ یَدْخُلْ مِنْہُ أَحَدٌ‘ ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ’’ریان‘‘ کہا جاتا ہے،قیامت کے دن اس سے روزے دار داخل ہوں گے۔ان کے علاوہ اس میں سے کوئی اندر نہیں جاسکے گا۔پکارا جائے گا روزے دار کہاں ہیں ؟ وہ کھڑے ہوجائیں گے،ان کے سوا کوئی اور اس(دروازے)سے داخل نہیں ہو گا۔جب یہ داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے گا،پھر بعد میں کوئی بھی اس میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ [1] 4 روزے کے فوائد: روزے کے کئی روحانی،اجتماعی اور طبی فائدے ہیں۔روزے کے روحانی فوائد میں ’’صفت صبر‘‘ کا حصول اور اسے قوی بنانا ہے،یہ اپنے آپ پر کنٹرول کرنا سکھاتا ہے اور اس میں معاون بنتا ہے،اسی طرح نفس وروح میں تقویٰ کا ملکہ پیدا کرتا اور اسے بڑھاتا ہے۔اور یہ علت تقوٰی،اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس فرمان سے واضح ہوتی ہے۔ارشاد ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ ’’اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘[2] روزے کے اجتماعی فوائد میں سے یہ ہے کہ اس سے امت میں نظم ونسق اور اتحاد کی عادت پیدا ہوتی ہے،عدل و مساوات سے محبت بڑھتی ہے اور ایمانداروں میں جذبۂ ترحم اور ایک دوسرے پر احسان کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح روزہ معاشرے کو مفاسد اور خرابیوں سے بچاتا ہے۔اور روزے کے طبی فوائد میں سے یہ ہے کہ اس سے آنتیں درست ہوتی ہیں،معدے کی اصلاح ہو جاتی ہے،یہ جسم کو فضلات اور بے کار اجزاء سے پاک وصاف کرتا ہے اور اسی طرح موٹاپے اور پیٹ کی چربی کے بوجھ میں کمی کا موجب بنتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں ہے: ’صُومُوا تَصِحُّوا‘ ’’روزہ رکھو تندرست ہو جاؤ گے۔‘‘ [3] ٭ مستحب روزے: درج ذیل ایام میں روزہ رکھنا مستحب ہے: 1: نو ذو الحجہ کو روزہ رکھنا مستحب ہے:سوائے مُحرِم(جس نے احرام حج باندھا ہے)کے،وہ روزہ نہ رکھے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما ن ہے: ’صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ،أَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِي قَبْلَہُ،وَالسَّنَۃَ الَّتِي بَعْدَہُ وَصِیَامُ یَوْمِ عَاشُورَائَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِي قَبْلَہُ‘ ’’عرفہ کے دن کا روزہ،گذشتہ اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور دس محرم کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘ [1] 2: عاشورہ کا روزہ:یعنی محرم کے نویں اور دسویں دن کا روزہ بھی مستحب ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دس محرم کا روزہ رکھا اور اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا:’فَإِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ۔إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔صُمْنَا الْیَوْمَ التَّاسِعَ‘ ’’ان شاء اللہ ہم اگلے سال نو محرم کا(بھی)روزہ رکھیں گے۔‘‘ [2] 3: شوال کے چھ روزے بھی مستحب ہیں:اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَہُ سِتًّا مِّنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِیَامِ الدَّھْرِ‘ ’’جس نے رمضان کے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے سارا سال روزے رکھے۔‘‘[3] 4: ماہ شعبان کے پہلے پندرہ دنوں میں روزے رکھنا مستحب ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم اسْتَکْمَلَ صِیَامَ شَھْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ،وَمَا رَأَیْتُہُ فِي شَھْرٍ أَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِي شَعْبَانَ‘ ’’رمضان المبارک کے علاوہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا مہینہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور شعبان کے ایام سے زیادہ کسی اور مہینہ میں روزے رکھتے بھی میں نے آپ کو نہیں دیکھا۔‘‘ [4] 5: ذو الحجہ کے پہلے عشرے کے روزے رکھنا مستحب ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مَا الْعَمَلُ فِي أَیَّامٍ أَفْضَلُ مِنْھَا فِي ھٰذِہِ،قَالُوا:وَلَا الْجِھَادُ؟ قَالَ:وَلَا الْجِھَادُ،إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ یُخَاطِرُ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فَلَمْ یَرْجِعْ بِشَيْئٍ‘ ’’ذو الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن نہیں جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو۔لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔فرمایا:’’جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں،الا یہ کہ کوئی شخص اپنی جان ومال کے ساتھ جہاد میں چلا جائے اور پھر(ان دونوں میں سے)کچھ واپس نہ لائے۔(شہید ہو جائے)‘‘ [5] 6: محرم کے مہینے میں روزے بھی اسی قبیل سے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ رمضان المبارک کے بعد کون سا روزہ ا فضل ہے تو آپ نے فرمایا:’شَھْرُ اللّٰہِ الْمُحَرَّمُ‘ ’’اللہ کے مہینے محرم کا۔‘‘[1] 7: ایام بیض،یعنی ہر ماہ کی تیرہ،چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ مستحب ہے۔ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ نَّصُومَ مِنَ الشَّھْرِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامِ الْبِیضِ:ثَلَاثَ عَشْرَۃَ وَأَرْبَعَ عَشْرَۃَ وَخَمْسَ عَشْرَۃَ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ایام بیض،یعنی تیرہ،چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھیں۔[2] 8: سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھنا بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے۔اس بارے میں آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا: ’إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ کُلَّ اثْنَیْنِ وَخَمِیسٍ۔فَیَغْفِرُ اللّٰہُ لِکُلِّ مُسْلِمٍ أَوْ لِکُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا الْمُتَھَاجِرَینِ فَیَقُولُ:أَخِّرْھُمَا‘ ’’ہر سوموار اور جمعرات کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں،سب مسلمانوں یا ایمان والوں کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ معاف کر دیتا ہے،سوائے آپس میں ترکِ گفتگو کرنے والوں کے۔ان کے بارے میں فرماتا ہے کہ ان کا معاملہ مؤخر کر دو۔‘‘ [3] 9: ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطارکرنا مستحب ہے،اس لیے کہ بنی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے: ((أَحَبُّ الصَّلَاۃِ إِلَی اللّٰہِ صَلَاۃُ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ،وَأَحَبُّ الصِّیَامِ إِلَی اللّٰہِ صِیَامُ دَاوُدَ،وَکَانَ یَنَامُ نِصْفَ اللَّیْلِ وَیَقُومُ ثُلُثَہُ وَیَنَامُ سُدُسَہُ،وَیَصُومُ یَوْمًا وَّیُفْطِرُ یَوْمًا)) ’’اللہ کو نمازوں میں داود علیہ السلام کی نماز زیادہ پسند ہے۔روزوں میں بھی داود علیہ السلام کے روزے زیادہ پسند ہیں،وہ نصف رات سوتے اور ایک تہائی قیام کرتے اور پھر چھٹا حصہ سوتے اور اسی طرح ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔‘‘ [4] 10: غیر شادی شدہ نوجوان جو نکاح کی طاقت(سامان وغیرہ)نہیں رکھتا،اس کے لیے روزہ رکھنا بہتر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَائَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ،فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ،وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہُ لَہُ وِجَائٌ)) ’’جو نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ نکاح کر لے،یہ نگاہ کو بہت نیچا کرتا ہے اور شرم گاہ کو بہت بچاتا ہے اور جو طاقت نہیں رکھتا،وہ روزہ رکھے،یہ اس کے لیے(شہوت کی تیزی)ختم کرنے والا ہے۔‘‘ [1] ٭ مکروہ روزے: 1: میدان عرفات میں وقوف کرنے والے حجاج کے لیے یوم عرفہ کا روزہ رکھنا ناجائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ والوں کے لیے یہ روزہ ممنوع قرار دیا ہے۔[2] 2: صرف جمعے کے دن کا روزہ رکھنا بھی درست نہیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إِنَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عِیدُکُمْ فَلَا تَصُومُوہُ إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَہُ أَوْ بَعْدَہُ)) ’’جمعے کا دن تمھارے لیے عید ہے،اس دن کا روزہ نہ رکھو،اِلا یہ کہ ایک دن پہلے یا بعد کا اس کے ساتھ روزہ رکھو۔‘‘[3] 3: صرف ہفتے کے دن روزہ رکھنا بھی درست نہیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا تَصُومُوا یَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِیمَا افْتُرِضَ عَلَیْکُمْ،وَإِنْ لَّمْ یَجِدْ أَحَدُکُمْ إِلَّا لِحَائَ عِنَبَۃٍ أَوْعُودَ شَجَرَۃٍ فَلْیَمْضَغْہُ)) ’’ہفتے کے دن فرض روزے کے علاوہ کوئی روزہ نہ رکھو،اگر اس دن کھانے کو کچھ نہ ملے تو انگور کا چھلکا یا پودے کی لکڑی ہی چبالو۔‘‘[4] 4: شعبان کے آخری ایام میں بھی روزہ مکروہ ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُومُوا‘ ’’جب شعبان کا نصف ہو جائے تو روزے نہ رکھو۔‘‘ [5] تنبیہ:مذکورہ بالا ایام میں روزے رکھنا مکروہ تنزیہی ہے،جبکہ درج ذیل ایام میں روزے رکھنا مکروہ تحریمی،یعنی حرام ہے: 1: وصال کے روزے:یعنی دو یا زیادہ دن افطار کیے بغیر تسلسل سے روزے رکھنا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے:’لَا تُوَاصِلُوا‘ ’’وصال نہ کرو(بغیر افطار کیے لگاتار روزے نہ رکھو)۔‘‘ [1] نیز فرمایا:’إِیَّاکُمْ وَالْوِصَالَ‘ ’’اپنے آپ کو وصال(بلا افطار روزے رکھنے)سے بچاؤ۔‘‘ [2] 2: شعبان کی تیس تاریخ کو شک کا روزہ رکھنا بھی ناجائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’مَنْ صَامَ یَوْمَ الشَّکِّ فَقَدْ عَصٰی أَبَا الْقَاسِمِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘’’جو شک کے دن کا روزہ رکھے،اس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔‘‘ [3] 3: سارے سال کے روزے:یعنی کسی بھی دن چھوڑے بغیر پورا سال روزے رکھنا بھی اسی قبیل سے ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ‘ ’’جس نے ہمیشہ روزہ رکھا،اس نے کوئی روزہ نہ رکھا۔‘‘ [4] نیز فرمایا:’مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ‘’’جس نے ہمیشہ روزہ رکھا،اس نے نہ تو روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔‘‘ [5] 4: خاوند کی موجودگی میں بیوی کا خاوند کی اجازت کے بغیر(نفلی)روزہ رکھنا بھی حرام ہے۔فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’لَا تَصُمِ الْمَرْأَۃُ وَبَعْلُھَا شَاھِدٌ إِلَّا بِإِذْنِہِ‘’’کوئی عورت خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے۔‘‘ [6] ٭ حرام روزے: 1: عید الفطر وعید الاضحی کے دن روزہ رکھنا،عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:دو دنوں میں روزہ رکھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا ہے،ایک عید الفطر کا دن اور دوسرا قربانی کا دن۔‘‘ [1] 2: ایام تشریق،یعنی 13,12,11 ذی الحجہ کے روزے رکھنا:اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منٰی میں ایک اعلان کرنے والے کو بھیجا جو اونچی آواز سے اعلان کر رہا تھا کہ ان ایام میں روزے نہ رکھو کیونکہ یہ کھانے،پینے اور ذکر کے ایام ہیں۔[2] 3: ماہواری اور نفاس کے دنوں میں روزے رکھنا،اس لیے کہ امت کا اجماع ہے کہ حیض ونفاس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((أَلَیْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟ فَذٰلِکَ مِنْ نُّقْصَانِ دِینِھَا))’’کیا ایسے نہیں کہ جب عورت کو حیض آتا ہے،نہ وہ نماز پڑھتی ہے اور نہ ہی روزہ رکھتی ہے۔یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔‘‘ [3] 4: ایسے بیمار آدمی کا روزہ رکھنا کہ جسے روزہ رکھنے سے ہلاکت کا اندیشہ ہو،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾ ’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو،بے شک اللہ تمھارے ساتھ مہربان ہے۔‘‘[4] ٭رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت: کتاب وسنت اور اجماع امت سے ماہِ رمضان کے روزوں کا فرض ہونا ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ ’’ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ہے،جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور(جس میں)ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور(جو حق وباطل کو)الگ الگ کرنے والا ہے،پس جو تم میں سے رمضان کو پالے وہ اس کے روزے رکھے۔‘‘[5] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((بُنِيَ الإِْسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ:شَھَادَۃِ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ،وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ،وَحَجِّ الْبَیْتِ،وَصَوْمِ رَمَضَانَ))’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے،اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا،زکاۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘[6] اور فرمایا:((عُرَی الإِْسْلَامِ وَقَوَاعِدُ الدِّینِ ثَلَاثَۃٌ،عَلَیْھِنَّ أُسِّسَ الإِْسْلَامَ مَنْ تَرَکَ وَاحِدَۃً مِّنْھُنَّ فَھُوَ بِھَا کَافِرٌ حَلَالُ الدَّمِ:شَھَادَۃُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،وَالصَّلَاۃُ الْمَکْتُوبَۃُ،وَصَوْمُ رَمَضَانَ)) ’’اسلام کے قواعد وبنیادیں تین ہیں جن پر اسلام کی عمارت تعمیر کی گئی ہے،جو کسی ایک کو چھوڑ دیتا ہے وہ کافر ہے اور اس کا خون حلال ہے۔اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود(برحق)نہیں،فرض نماز اور رمضان کے روزے۔‘‘[1]