زکاۃ کا بیان
وہ اموال جن کی زکاۃ ادا نہیں کی جاتی
1: غلاموں،گھوڑوں،خچروں اور گدھوں میں زکاۃ نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِہِ وَغُلَامِہِ صَدَقَۃٌ‘
’’مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکاۃ نہیں ہے۔‘‘ [6]
اور اس لیے بھی کہ خچروں اور گدھوں کی زکاۃ لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔
2: جو مال نصاب سے کم ہو،اس میں بھی زکاۃ نہیں ہے،الّا یہ کہ مالک اپنی خوشی سے دے دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’لَیْسَ فِیمَا دُونَ خَمْسَۃِ أَوْسُقٍ مِّنَ التَّمْرِ صَدَقَۃٌ،وَلَیْسَ فِیمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِّنَ الْوَرِقِ
صَدَقَۃٌ،وَلَیْسَ فِیمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِّنَ الإِْبِلِ صَدَقَۃٌ‘
’’کھجوروں کے پانچ وسق سے کم میں صدقہ نہیں ہے اور چاندی میں پانچ اوقیہ سے کم میں صدقہ نہیں ہے اور پانچ عدد اونٹ سے کم میں صدقہ نہیں ہے۔‘‘[1]
3: تازہ استعمال ہونے والے پھلوں اور سبزیوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاۃ ثابت نہیں ہے۔البتہ فقراء اور ہمسایوں کو اس میں سے دے دینا مستحب ہے،اس لیے کہ اللہ رب العزت کا یہ فرمان عام ہے:﴿أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ﴾
’’جو تم پاک مال کماتے ہو اور جو ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا ہے،اس میں سے خرچ کرو۔‘‘[2]
4: عورتوں کے زیورات پر بھی راجح قول کے مطابق زکاۃ ہے،اس لیے کہ احادیث میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔[3]
5: قیمتی جواہرات جیسا کہ زمرد یاقوت،موتی اور دیگر جواہرات جب تجارت کی غرض سے حاصل شدہ ہیں تو ان میں سامان تجارت کی طرح زکاۃ لازم ہوگی۔
6: گھریلو سامان،مکانات،کارخانے،گاڑیاں اور گھوڑے میں بھی زکاۃ نہیں ہے،اس لیے کہ شارع سے ان میں زکاۃ کا حکم نہیں آیا ہے۔