جنازے کا بیان
عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کا حکم
علماء کا اتفاق ہے کہ عورتوں کا بار بار قبرستان جانا حرام ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لَعَنَ اللّٰہُ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ‘ ’’اللہ نے قبروں کی زیارت کے لیے کثرت سے جانے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔‘‘[1]
مذکورہ حدیث کی بنا پر بعض علماء نے عورتوں کے قبرستان جانے کو مطلقًا ناپسند کیا ہے،البتہ بعض دیگر علماء نے کبھی کبھار جانے کی رخصت دی ہے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی عبد الرحمان رضی اللہ عنہ کی قبر پر گئی تھیں۔جب ان سے پوچھا گیا تو فرمایا:ہاں پہلے قبروں کی زیارت ممنوع تھی،بعد ازاں اس کی اجازت دے دی گئی تھی۔[2]
البتہ جو علماء جواز کے قائل ہیں،وہ یہ شرط ضرور لگاتے ہیں کہ وہ وہاں جاکر کوئی خلاف شرع کام نہ کرے،قبر کے پاس نوحہ نہ کرے،اونچی آواز نہ نکالے،زیب وزینت کر کے نہ جائے،میت کو امداد کے لیے نہ پکارے اور نہ اس سے اپنی حاجات کا سوال کرے اور اسی طرح کے دیگر کام جو دینی امور سے ناواقف عورتیں کرتی ہیں،نہ کرے۔