رسالت ِ محمدیہ پر ایمان

عقلی دلائل

1: آخر اس سے کیا مانع ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مقرر کر کے مبعوث کرے جبکہ اس سے قبل سیکڑوں رسول اور ہزاروں نبی مقرر کیے گئے ہیں۔عقلاً و شرعاً کوئی چیز اس سے مانع نہیں تو پھر آپ کی عامۃ الناس کے لیے رسالت ونبوت کا کیونکر انکار کیا جائے؟ 2: آپ کے زمانے کے حالات اس امر کے متقاضی تھے کہ انسانوں کے پاس آسمانی پیغام پہنچے،اللہ تعالیٰ کا قاصد ازسرِ نو معرفتِ الٰہی کی تجدید کرے اور انسان اللہ تعالیٰ کی صحیح پہچان کر لیں۔ 3: اطرافِ عالم کی بہت بڑی آبادی میں اسلام کا تیزی سے پھیلنا اور لوگوں کا اپنے مذاہب ترک کر کے اسے اپنانا،آپ کی صداقت ِنبوت کی دلیل ہے۔ 4: اور آپ کے پیش کردہ اصولوں کا سچا،درست اور کارآمد ثابت ہونا،جن کے فوری اور بابرکت نتائج برآمد ہوئے،یہ سب اس حقیقت کا بیّن ثبوت ہیں کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں اور ان کا حامل،اللہ تعالیٰ کا سچا رسول اور برحق نبی ہے۔ 5: آپ کے ذریعے سے معجزات کا صدور اور خرقِ عادت امور کا وقوع پذیر ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے کام کسی غیر نبی اور رسول کے ہاتھوں ظاہر نہیں ہو سکتے۔ ہم کچھ معجزات ذیل میں تحریر کرتے ہیں جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں بلکہ انھیں تواتر کا درجہ حاصل ہے،جنھیں بجز کسی بے عقل کے کوئی رد نہیں کر سکتا۔ ٭ ’’چاند کا شق ہونا‘‘ جب ولید بن مغیرہ اور دیگر کفارِ قریش نے آپ سے دعوائے نبوت کی صداقت کا معجزہ طلب کیا تو چاند دو ٹکڑے ہو گیا،ایک حصہ پہاڑ کے اوپر جبکہ دوسرا اس کے نیچے جاگرا(پھر دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے۔)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’گواہ رہو!‘‘ [1] اور جب قریش نے دوسرے علاقے کے لوگوں سے شق قمر کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے بھی اپنے اپنے مشاہدے کی خبر دی۔‘‘ قرآنِ پاک میں اس کا اظہار یوں ہوا ہے:﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴿١﴾وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ﴿٢﴾وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ﴾ ’’قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہو گیا اور اگر یہ(کافر)کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو(عہدِ قدیم سے)چلا آرہا ہے اور انھوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے۔‘‘ [2] ٭ غزوۂ احد کے دن حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی آنکھ نکل کر رخسار تک آگئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی جگہ لگا دیا تو وہ پہلے سے بھی بہتر بن گئی۔[3] ٭ غزوۂ خیبر کے دن حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں دکھتی تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اپنا لعابِ دہن لگایا اور ان کی آنکھیں اس طرح ٹھیک ہو گئیں جیسے انھیں کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔[4] ٭ غزوئہ خیبر میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر زخم لگا تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ دم کیا تو انھیں اس کے بعد درد کا احساس تک نہیں ہوا۔[5] ٭ درخت کی گواہی:اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک بدوی آپ کے قریب آیا۔آپ نے پوچھا:’’اے بدوی!تو کہاں جانا چاہتا ہے؟‘‘ اس نے کہا:اپنے اہلِ خانہ کے پاس،آپ نے پوچھا:’’کیا تو کسی بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا:کون سی بھلائی؟ آپ نے فرمایا:’’تو اقرار کرے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ ایک ہے،اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کا بندہ اور رسول ہے۔‘‘ اعرابی نے کہا:آپ کی بات پر کون شہادت دے گا؟ آپ نے فرمایا:’’یہ درخت۔‘‘ آپ نے وادی کے کنارے کھڑے درخت کی طرف اشارہ فرمایا۔وہ درخت زمین کو چیرتا ہوا آپ کے سامنے کھڑا ہوا،آپ نے اس سے تین بار شہادت مانگی اور اس نے بھی تین بار شہادت دی۔[1] ٭ کھجور کے تنے کا رونا اور اس کی آہ و بکا کو تمام مسجد والوں کا سننا:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبۂ جمعہ منبر پر دینے لگے اور اس کھجور کے تنے سے دور ہو گئے تو وہ(جدائی برداشت نہ کرسکا اور)آپ کی محبت کے جذبات سے مغلوب ہوکر رونے لگا اس عالم میں اس درخت کے تنے سے گابھن اونٹنی کی طر ح آواز نکل رہی تھی،جسے تمام مسجد والوں نے سنا۔بالآخر آپ اس کے قریب آئے اور اس پر ہاتھ مبارک رکھا تب وہ خاموش ہوا۔[2] ٭ کسریٰ کے بارے میں آپ نے فرمایا:’’اس نے ہمارا مکتوب پھاڑا ہے،اس کا ملک اسی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گا۔‘‘[3] چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ٭ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے آپ نے فقاہت ِدین کی دعا فرمائی۔چنانچہ وہ اس امت کے بہت بڑے فقیہ بنے۔[4] ٭ آپ کی دعا سے ’’جو‘‘ کے دو مد(ماپنے کا ایک پیمانہ جس کا وزن 625گرام ہے)میں اتنی برکت ہو گئی کہ اسی(80)سے زائد افراد اس سے شکم سیر ہوئے۔[5] ٭ آپ کی دعا سے حدیبیہ کے دن پانی میں برکت ہوئی جب پانی کے ایک چھوٹے سے برتن میں آپ نے ہاتھ رکھا اور انگلیوں کے درمیان سے پانی چشموں کی طرح ابل پڑا۔چنانچہ اس سے پندرہ سو کے قریب لوگوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور وضو کیا۔[6] ٭ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ’’اسراء‘‘ اور بلند و بالا آسمانوں کا ’’معراج‘‘ اور ’’سدر ۃ المنتہی‘‘ تک ’’صعود‘‘(چڑھائی)اور جب آپ(اسی رات میں)اپنے بستر کی طرف لوٹے تو وہ بدستور پہلے کی طرح گرم تھا۔[7] ٭ اور سب سے بڑا معجزہ اور ابدی نشانی قرآنِ کریم ہے۔اس میں گزشتہ لوگوں کے احوال اور آئندہ والوں کی خبریں ہیں،نیز اس میں ہدایت اور نور ہے۔رہتی دنیا تک اس کا اعجاز قائم ہے۔یہ آپ کی نبوت کی سچائی پر ایک عظیم دلیل اور مخلوق میں قیامت تک کے لیے حجتِ ثابتہ ہے۔بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو معجزات عطا ہوئے ان میں سب سے بڑا اور واضح معجزہ قرآنِ مقدس ہی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’مَا مِنَ الْأَنْبِیَائِ نَبِيٌّ إِلَّا وَ قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآیَاتِ مَا مِثْلُہُ آمَنَ عَلَیْہِ الْبَشَرُ،وَ إِنَّمَا کَانَ الَّذِي أُوتِیتُہُ وَحْیًا أَوْحَی اللّٰہُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَکْثَرَہُمْ تَابِعًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ’’ہر نبی کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ ان کی شان یہ تھی کہ اس کی مثل پر لوگ ایمان لے آئیں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے وحی کی صورت میں نشانی عطا کی ہے،مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے تابع فرمان سب سے زیادہ ہوں گے۔‘‘[1]