جنازے کا بیان
میت کی طرف سے صدقہ کرنا
میت کے لیے خیرات کرنا مستحب ہے،اس لیے کہ صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا:اے اللہ کے رسول!میرا باپ فوت ہو گیا ہے اور مال چھوڑ گیا ہے،کوئی وصیت بھی نہیں کی،اگر میں اس کی طرف سے خیرات کروں تو کیا یہ اس کی کوتاہیوں کا کفارہ بنے گا۔آپ نے فرمایا:’’ہاں ‘‘۔[2] اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ فوت ہو گئیں تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول!میری ماں فوت ہو گئی ہے،کیا میں اس کی طرف سے خیرات کر سکتا ہوں۔آپ نے فرمایا:’’ہاں۔‘‘ تو انھوں نے کہا کہ پھر میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف باغ میری ماں کی طرف سے صدقہ ہے۔‘‘[3]