جنازے کا بیان

قبر پر بیٹھنے کی کراہت

مسلمان کے لیے ناجائز ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی قبر پر بیٹھے یا اپنے پاؤں سے اسے روندے،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (لَا تَجْلِسُوا عَلَی الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَیْھَا)) ’’قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔‘‘[1] نیز فرمایا:((لَأَنْ یَّجْلِسَ أَحَدُکُمْ عَلٰی جَمْرَۃٍ فَتُحْرِقَ ثِیَابَہُ فَتَخْلُصَ إِلٰی جِلْدِہِ خَیْرٌ لَّہُ مِنْ أَنْ یَّجْلِسَ عَلٰی قَبْرٍ)) ’’تم میں سے کوئی آدمی انگارے پر بیٹھے اور انگارہ کپڑے جلا کر اس کے چمڑے تک پہنچ جائے،یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔‘‘[2]