جنازے کا بیان

قبر کو زمین کے برابر کیا جائے یا کیسا رکھا جائے

مناسب یہی ہے کہ قبر کو زمین کے برابر کر دیا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو زمین کے ساتھ ہموار کرنے کا حکم دیا ہے،ہاں اگر ایک بالشت کے قدر اونٹ کی کوہان کی طرح اونچی کر لی جائے تو جائز ہے اور جمہور علماء نے اسی کو مستحب قرار دیا ہے،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک بھی اسی طرح کوہان نما ہے۔[3] قبر پر نشان کے طور پر پتھر وغیرہ رکھ دینا جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کو ایک پتھر رکھ کر ممیز کر کے فرمایا تھا:((أَتَعَلَّمُ بِھَا قَبْرَ أَخِي،وَأَدْفِنُ إِلَیْہِ مَنْ مَّاتَ مِنْ أَھْلِي)) ’’میں اس علامت سے اپنے بھائی کی قبر پہچان لوں گا اور میرے اہل میں سے جو فوت ہوا میں اسے اس کے پاس دفن کروں گا۔‘‘ [4]