جنازے کا بیان

میت کو دفن کرنے کا حکم

جسم کو مٹی میں دفنانا فرض ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ﴾’’پھر اسے موت دی اور قبر میں دفن کرایا۔‘‘[4] دفنانے کے چند احکام حسب ذیل ہیں: ٭ قبر گہری کھودی جائے تاکہ درندے اور پرندے میت تک رسائی حاصل نہ کر سکیں اور دفن کرتے وقت اچھی طرح قبر بند کی جائے تاکہ ہوا باہر نہ آسکے اور دوسروں کے لیے ایذا کا باعث نہ بن جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’اِحْفِرُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الْاِثْنَیْنِ وَالثَّلَاثَۃَ فِي قَبْرٍ وَّاحِدٍ‘ ’’قبر گہری کھودو،اچھی بناؤ اور ایک قبر میں دو دو تین تین دفن کرو۔‘‘[5] صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی پہلے کس کو قبر میں اتاریں۔تو آپ نے فرمایا:’قَدِّمُوا أَکْثَرَھُمْ قُرْآنًا‘ ’’جسے قرآن زیادہ آتا ہے،اسے آگے کرو۔‘‘[1] ٭ ’’شق‘‘ کے انداز کی قبر بھی(ضرورت کے وقت)جائز ہے مگر افضل ’’لحد‘‘ ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے:’اَللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا‘ ’’لحد ہمارے لیے ہے اور شق ہمارے غیروں کے لیے۔‘‘[2] ’’لحد‘‘ قبر کے گڑھے میں نیچے دائیں طرف کھودنا اور ’’شق‘‘ گڑھے کے درمیان میں کھودنا ہوتا ہے۔ ٭ دفن میں شریک ہونے والوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے تین بار مٹی قبر کے سرہانے کی طرف سے ڈالیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا،جیسا کہ سنن ابن ما جہ کی روایت سے ثابت ہے۔[3] ٭ میت کو قبر کی پائنتی کی طرف سے داخل کیا جائے،بشرطیکہ آسانی سے ایسا ہو سکے اور قبر میں میت کو دائیں پہلو پر قبلہ رخ کر کے لٹایا جائے اور کفن کے بندھن کے جوڑ کھول دیے جائیں اور یہ دعا پڑھی جائے:’بِسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُولِ اللّٰہِ‘ ’’اللہ کے نام سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر(ہم اسے رکھ رہے ہیں۔)‘‘[4] ٭ عورت کو قبر میں رکھتے وقت پردہ کر لیا جائے،اس لیے کہ سلف صالحین رحمہ اللہ کا عورت کے لیے یہی معمول تھا،مرد کے لیے نہیں۔