جنازے کا بیان

جنازے کے ساتھ چلنے کی فضیلت

جنازے کے ساتھ جانا مسنون ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’عُودُوا الْمَرِیضَ وَامْشُوا مَعَ الْجَنَازَۃِ تُذَکِّرْ کُمُ الْآخِرَۃَ‘ ’’بیمار کی عیادت کرو اور جنازے کے ساتھ چلو،یہ عمل تمھیں آخرت یاد کرائے گا۔‘‘[3] جنازہ جلدی اٹھانا چاہیے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَۃِ،فَإِنْ تَکُ صَالِحَۃً فَخَیْرٌ تُقَدِّمُونَھَا إِلَیْہِ،وَإِنْ تَکُ سِوٰی ذٰلِکَ فَشَرٌّ تَضَعُونَہُ عَنْ رِّقَابِکُمْ)) ’’جنازے میں جلدی کرو،اگر نیک ہے تو تم اچھائی کی طرف اسے لے جا رہے ہو اور اگر ایسا نہیں تو ’’شر‘‘ ہے،جسے تم جلدی اپنی گردنوں سے اتار لو گے۔‘‘[4] جنازے کے آگے چلنا بہتر ہے،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم،ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ جنازے کے آگے چلتے تھے۔[5] جنازے کے ساتھ چلنے کی فضیلت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَۃَ مُسْلِمٍ إِیمَانًا وَّاحْتِسَابًا،وَکَان مَعَہُ حَتّٰی یُصَلّٰی عَلَیْھَا وَیُفْرَغَ مِنْ دَفْنِھَا،فَإِنَّہُ یَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِیرَاطَیْنِ،کُلُّ قِیراطٍ مِّثْلُ أُحُدٍ،وَمَنْ صَلّٰی عَلَیْھَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ،فَإِنَّہُ یَرْجِعُ بِقِیرَاطٍ)) ’’جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ چلا،پھر نماز جنازہ اور دفن تک اس کے ساتھ رہا تو وہ دو قیراط ثواب کے ساتھ واپس آیا(جبکہ)ایک قیراط احد پہاڑ کے مثل ہے،جو شخص اس کی نماز جنازہ پڑھ کر دفن سے قبل ہی لوٹ آیا تو وہ ایک قیراط ثواب کے ساتھ واپس آیا۔‘‘[1]