رسولوں پر ایمان
کتاب و سنت سے وجودِ انبیاء علیہم السلام پر دلائل
ہرمسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ جل مجدہ نے انسانوں میں سے پیغمبروں کا انتخاب فرمایا،ان کی طرف اپنی شریعت وحی فرمائی اور انھیں حکم دیا کہ اسے لوگوں تک پہنچائیں تاکہ قیامت کے دن اپنے برخلاف ان کی حجت ختم کردے۔انھیں واضح احکام دیے اور معجزات کے ذریعے سے اُنھیں تقویت سے نوازا۔سب سے پہلے نبی نوح علیہ السلام تھے[1] اور سب سے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
سب انبیاء بشر تھے اور اکثر بشری عوارض انھیں لاحق تھے۔وہ کھاتے،پیتے،بیمار ہوتے،تندرست ہوتے،بھول جاتے،یاد کرتے،زندہ رہتے اور وفات پاتے،مگر اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں وہ علی الاطلاق برتر،اکمل اور بلا استثنا افضل تھے۔جب تک جملہ انبیاء علیہم السلام پراجمال و تفصیل کے ساتھ ایمان نہ لایا جائے،کوئی بھی شخص ایمان دار نہیں بن سکتا۔عقلی و نقلی دلائل اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔
کتاب و سنت سے وجودِ انبیاء علیہم السلام پر دلائل:
1: اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں اور ان کی بعثت ورسالت کے بارے میں ہمیں خبر دی ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾
’’اور یقینا ہم نے ہر قوم میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے دور رہو۔‘‘[2]
ارشادِ الٰہی ہے:﴿اللّٰهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ۚ إِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ﴿٧٥﴾
’’فرشتوں اور انسانوں میں سے رسولوں کو اللہ ہی منتخب فرماتا ہے،[1] بے شک اللہ تعالیٰ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘[2]
ارشادِ عالی ہے:﴿إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا﴿١٦٣﴾وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا﴿١٦٤﴾رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيزًا حَكِيمًا﴿١٦٥﴾
’’بے شک ہم نے آپ کی طرف اُسی طرح وحی کی ہے،جس طرح نوح اور اس کے بعد دوسرے انبیاء کی طرف کی تھی اور ہم نے ابراہیم،اسماعیل،اسحاق،یعقوب اور ان کی اولاد،عیسیٰ،ایوب،یونس،ہارون اور سلیمان(علیہم السلام)کو وحی بھیجی۔داود(علیہ السلام)کو ہم نے زبور دی اور آپ سے پہلے کے کئی رسولوں کے واقعات ہم آپ کو بتا چکے ہیں اور کئی رسولوں کے حالات ہم نے آپ کو نہیں بتائے اور اللہ نے موسیٰ(علیہ السلام)سے کلام کیا۔یہ رسول(تھے)خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کی اللہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور اللہ بڑا زبردست(اور)بڑی حکمت والا ہے۔‘‘[3] مزید فرمایا:﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾
’’یقینا ہم نے اپنے پیغمبروں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا،اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو(قواعدِ عدل)بھی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔‘‘[4]
نیز فرمایا:﴿وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴿٨٣﴾
’’اور ایوب(علیہ السلام)(کا تذکرہ کیجیے)جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘[5]
اور فرمایا:﴿وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ﴾
’’اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے،وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے تھے۔‘‘[6]
ارشادِ ربانی ہے:﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ﴾
’’اوریقینا ہم نے موسیٰ(علیہ السلام)کو نو(9)کھلی نشانیاں دیں،آپ خود ہی بنی اسرائیل سے پوچھ لیں کہ جب وہ ان کے پاس آئے۔‘‘[7] ارشادِ گرامی ہے:﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۖ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا﴿٧﴾لِّيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا﴿٨﴾
’’اور جب ہم نے انبیاء(علیہم السلام)سے پختہ عہد لیا،آپ سے اور نوح،ابراہیم،موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم(علیہما السلام)سے بھی ہم نے پختہ عہد لیاتاکہ وہ(اللہ)سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔‘‘[1]
2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے اور دیگر انبیاء و رسل علیہم السلام کے متعلق ہمیں خبر دی ہے۔آپ نے فرمایا:
((مَا بَعَثَ اللّٰہُ مِنْ نَّبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَ قَوْمَہُ الْأَعْوَرَ الْکَذَّابَ(الْمَسِیحَ الدَّجَّالَ))
’’اللہ تعالیٰ نے جتنے نبی مبعوث فرمائے،سب نے اپنی قوم کو کانے اور جھوٹے(مسیح دجّال)سے ڈرایا ہے۔‘‘[2]
ارشادِ نبوی ہے:((لَا تُفَضِّلُوا بَیْنَ أَنْبِیَائِ اللّٰہِ))
’’اللہ کے انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو(اس انداز سے کہ اس سے کسی دوسرے کی توہین کا پہلو نکلے۔)‘‘[3]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی تعداد دریافت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مِائَۃُ أَلْفٍ وَّعِشْرُونَ أَلْفًا،(وَالْمُرْسَلُونَ مِنْہُمْ)ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَّ ثَلَاثَۃَ عَشَرَ))
’’ایک لاکھ بیس ہزار نبی ہیں اور ان میں تین سو تیرہ رسول ہیں۔‘‘[4]
فرمانِ نبوی ہے:((وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ!لَوْکَانَ مُوسٰی حَیًّا مَّا وَسِعَہٗ إِلَّا أَنْ یَّتَّبِعَنِي))
’’مجھے اس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔اگر موسیٰ(علیہ السلام)بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میری پیروی کیے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔‘‘[5]
آپ کو ’’خیر البریہ‘‘ کے لقب سے مخاطب کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکسار سے فرمایا:((ذَاکَ إِبْرَاہِیمُ))’’یہ تو ابراہیم(علیہ السلام)ہیں۔‘‘[6]
نیز فرمایا:((مَا یَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ یَّقُولَ:أَنَا خَیْرٌ مِّنْ یُّونُسَ بْنِ مَتّٰی))
’’کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کہے کہ ’’میں(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)یونس بن متّٰی سے بہتر ہوں۔‘‘[1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات آسمانوں پر انبیاء میں سے حضرت یحییٰ،عیسیٰ،یوسف،ادریس،ہارون،موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات کی اور واپسی پر ان کے بعض احوال اور بیت المقدس میں ان کی امامت کرانے کا تذکرہ فرمایا۔[2]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے:((إِنَّ نَبِيَّ اللّٰہِ دَاوُدَ کَانَ یَأْکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ))
’’اللہ تعالیٰ کے نبی داود علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے۔‘‘[3]
3:انسانوں میں سے کروڑوں مسلمان اور دیگر لوگ،یعنی یہود و نصاری اللہ کے بھیجے ہوئے انبیاء و رسل علیہم السلام کو مانتے اور تصدیق کرتے ہیں کہ وہ کامل انسان تھے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انھیں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چنا تھا۔