جنازے کا بیان
مرنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کرنا اور اسے ڈھانپنا
مسلمان کی جب روح نکل جائے تواس کی آنکھیں بند کرنا اور کپڑے سے ڈھانپنا ضروری ہے اور اس کے لیے اچھے کلمات کہنے چاہئیں،مثلاً:
’اَللَّھُمَّ اغْفِرْ لَہُ۔اَللَّھُمَّ ارْحَمْہُ‘ ’’اے اللہ!اس کی بخشش فرما۔اے اللہ!اس پر رحم کر۔‘‘
اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِیضَ أَوِ الْمَیِّتَ فَقُولُوا خَیْرًا،فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ یُؤَمِّنُونَ عَلٰی مَا تَقُولُونَ))
’’جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی بات کہو،اس لیے کہ فرشتے اس بات پر آمین کہتے ہیں جو تم کہتے ہو۔‘‘[1]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر گئے تو ان کی آنکھیں کھلی تھیں،آپ نے انھیں بند کیا،پھر فرمایا:
((إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَہُ الْبَصَرُ‘ فَضَجَّ نَاسٌ مِّنْ أَھْلِہِ فَقَالَ:’لَا تَدْعُوا عَلٰی أَنْفُسِکُمْ إِلَّا بِخَیْرٍ،فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ یُؤَمِّنُونَ عَلٰی مَا تَقُولُونَ))
’’روح جب قبض ہو جاتی ہے تو نظر اس کا پیچھا کرتی ہے،پھر اس کے گھر کے افراد رونے لگے تو آپ نے فرمایا:’’اپنے نفسوں کے لیے صرف اچھائی کی دعا کرو،تم جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔‘‘[2]