جنازے کا بیان
قریب المرگ شخص کو ’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘ کی تلقین کرنا
جب ایک مسلمان محسوس کرے کہ اس کے بھائی کی موت کا وقت قریب ہے تو اسے کلمۂ اخلاص کی تلقین کرے،یعنی اسے ’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘ کہنے کا حکم دیں،اسے تلقین کرے،اسی طرح اس کا ورد اس کے سامنے شروع کر دے تاکہ اسے یاد آجائے اور وہ بھی یہ کلمۂ مبارکہ کہہ لے جب وہ ’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘ اپنی زبان سے کہے تو پھر تلقین سے رک جائے۔ہاں،اگر اس کے بعد اس نے کوئی اور بات کہہ دی تو پھر تلقین شروع کرے،کوشش یہ ہو کہ آخری لفظ اس کی زبان پر یہی کلمہ ’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘ ہو تاکہ وہ جنت میں داخل ہو جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی ہے:’لَقِّنُوا مَؤْتَا کُمْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘’’اپنے مرنے والوں کو ’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘ کی تلقین کرو۔‘‘[2]
نیز فرمایا:’مَنْ کَانَ آخِرُ کَلَامِہِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ‘ ’’جس کی آخری کلام ’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘ ہوئی وہ بہشت میں داخل ہو گا۔‘‘[3]