قرآنِ کریم پر ایمان
قرآن وسنت سے دلائل
مسلمانوں کا اس بات پر ایمان ہے کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو اس نے مخلوق میں سب سے بہتر اور انبیاء و رسل علیہم السلام میں سب سے افضل،ہمارے نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے،جیسا کہ دیگر کتابیں سابقہ انبیاء ورسل علیہم السلام پر نازل کی ہیں۔اس نے قرآنِ کریم کے احکام کے ذریعے سے پہلی آسمانی کتب کے احکام منسوخ کر دیے ہیں جس طرح آپ کی رسالت سے پہلی رسالتوں کا اختتام کر دیا۔یہ کتاب ربانی شریعت پر مشتمل ہے۔اس کے اتارنے والے نے وعدہ کیا ہے کہ جو اس پر عمل کرے گا وہ دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرے گا اور اس سے اعراض کرنے والوں کو اس نے دونوں جہانوں میں بدبختی کی وعید سنائی ہے۔یہی وہ واحد کتاب ہے جس کے بارے میں اللہ نے ضمانت دی ہے کہ اس میں کمی بیشی اور تبدیلی نہیں ہو سکتی اور یہ دنیا میں قیامت تک برقرار رہے گی۔درج ذیل نقلی و عقلی دلائل سے ہم ان دعووں کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔
کتاب وسنت سے دلائل:
1:اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں قرآنِ پاک میں خبر دی ہے:﴿تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا﴿١﴾
’’بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان(قرآن)اتارا،تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔‘‘[1] اور فرمایا:﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَـٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ﴿٣﴾
’’(اے پیغمبر!)ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمھاری طرف بھیجا ہے،بہترین اسلوب میں ایک قصہ بیان کرتے ہیں اوریقیناتم اس سے پہلے بے خبر تھے۔‘‘[2] مزید فرمایا:﴿إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللّٰهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا﴿١٠٥﴾
’’(اے پیغمبر!)بے شک ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے تحت لوگوں میں فیصلہ کریں اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنیں۔‘‘[3] نیز فرمایا:﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللّٰهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ﴿١٥﴾يَهْدِي بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴿١٦﴾
’’اے اہل کتاب!تمھارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے جو کچھ تم کتاب میں سے چھپاتے تھے،وہ اس میں سے بہت سی باتیں تمھیں کھول کھول کر بتا دیتا ہے اور بہت سی چیزوں سے درگزر کرتا ہے۔تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے روشنی اور واضح کتاب آچکی ہے،جس کے ذریعے سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہوں کی ہدایت دیتا ہے جو اس کی رضا کے کام کرتے ہیں اور اپنے حکم سے انھیں تاریکیوں سے نکال کر نور(ایمان)کی طرف لاتا ہے اور سیدھے راستے پر چلاتا ہے۔‘‘[4] ارشادِ عالی ہے:﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ﴿١٢٣﴾وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ﴿١٢٤﴾
’’سو جو میری ہدایت پر چلے گا،وہ نہ تو گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا،تو یقینا اس کے لیے تنگ زندگی ہو گی اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔‘‘[1] ارشادِ ربانی ہے:﴿وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ﴿٤١﴾لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ﴿٤٢﴾
’’اور بے شک یہ کتابِ عزیز ہے،اس پر جھوٹ کا دخل نہ تو آگے سے ہو سکتا ہے اور نہ پیچھے سے،حکمت اور تعریف والے(اللہ)کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔‘‘[2]
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴿٩﴾
’’بے شک ہم ہی نے ذکر(قرآن)اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘[3]
2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن پر وحی نازل ہوئی،انھوں نے بھی ہمیں قرآنِ پاک کی خبر دی اور فرمایا:((أَلَا إِنِّي أُوتِیتُ الْکِتَابَ وَ مِثْلَہُ مَعَہُ))
’’خبردار!مجھے کتاب(قرآن)اور اس کے ساتھ اس کی مثل(حدیث)دی گئی ہے۔‘‘[4] نیز فرمایا:
’خَیْرُکُمْ مََّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَ عَلَّمَہُ‘ ’’تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اوراسے(دوسروں کو)سکھائے۔‘‘[5]
مزید فرمایا:’لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَیْنِ:رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الْقُرْآنَ فَہُوَ یَتْلُوہُ آنَائَ اللَّیْلِ وَ آنَائَ النَّہَارِ،وَ رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَہُوَ یُنْفِقُہُ آنَائَ اللَّیْلِ وَ آنَائَ النَّہَارِ‘
’’صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا چاہیے،ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن(کا علم)دیا ہے،وہ دن رات اسے پڑھتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہے،وہ اسے دن رات(اللہ کی راہ میں)لٹاتا ہے۔‘‘[6]
یہ بھی فرمایا:((مَا مِنَ الْأَنْبِیَائِ مِنْ نَّبِيٍّ إِلَّا وَ قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآیَاتِ مَا مِثْلُہُ آمَنَ عَلَیْہِ الْبَشَرُ،وَ إِنَّمَا کَانَ الَّذِي أُوتِیتُ وَحْیًا أَوْحَی اللّٰہُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَکْثَرَہُمْ تَابِعًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ))
’’ہر نبی کو ایسے معجزات دیے گئے ہیں کہ ان کی شان یہ تھی کہ اس کے مثل پر لوگ ایمان لے آئیں۔مجھے وحی کا معجزہ عطا کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف کی ہے،سو میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے پیروکار سب سے زیادہ ہوں گے۔‘‘[7]
فرمانِ نبوی ہے:’وَ لَوْ کَانَ مُوسٰی حَیًّا بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ مَّا حَلَّ لَہُ إِلَّا أَنْ یَّتَّبِعَنِي‘ ’’اگر آج تم میں موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہ ہوتا۔‘‘[1]
3: کروڑوں مسلمانوں کا ایمان اور اعتقاد ہے کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجی ہے۔وہ اسی یقین سے سرشار ہو کر اس کی تلاوت کرتے ہیں اور بہت سے مسلمانوں نے اسے حفظ بھی کر رکھا ہے اور وہ اس کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔