نماز کا بیان
قصر،جمع،بیمار کی نماز اور نمازِ خوف کا بیان
1نماز قصر کا معنی:
قصر کا معنی یہ ہے کہ چار رکعت والی نماز دو رکعت پڑھی جائے،جس میں سورئہ فاتحہ اور کسی دوسری سورت کی قراء ت ہو گی۔مغرب اور صبح کی نماز میں قصر نہیں ہے،اس لیے کہ مغرب کی تین رکعتیں ہیں اور صبح کی دو رکعتیں۔
2قصر کا حکم:
شریعت میں ’’قصر‘‘ کے بارے میں اللہ عزوجل کا یہ حکم وارد ہے:
﴿وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ﴾
’’اور جب تم سفر میں جارہے ہو تو تم پر نماز قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔‘‘[1]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِھَا عَلَیْکُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَہُ))
’’یہ تم پر اللہ کی ایک خیرات ہے،تم اس کی خیرات قبول کرو۔‘‘[2]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے جب بھی سفر کیا تو نماز میں قصر کیا،اس سے اس کا سنت مؤکدہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔
3مسافت کی مقدار جس میں قصر کرنا مسنون ہے:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت کے ساتھ قصر کی کوئی مسافت متعین نہیں کی۔تاہم جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور ائمۂ کرام رحمہ اللہ نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سفر کی مسافت کا اعتبار کیا ہے جس میں آپ نے قصر کی تھی۔وہ تقریباً چار برد،یعنی اڑتالیس میل٭ بنتا ہے،اس لیے ان کے ہاں یہ ادنیٰ مسافت ’’قصر‘‘ قرار پائی ہے،یعنی اگر کوئی شخص اڑتالیس میل سفر اختیار کرتا ہے تو وہ چار رکعت والی نماز،مثلاً:ظہر،عصر اور عشاء کو دو رکعت ادا کرے۔
4آغاز اور انتہائے قصر:
مسافر اپنے شہر کی رہائشی آبادی سے جدا ہوتے ہی قصر کر سکتا ہے اور اپنے شہر کی حدود میں آنے تک قصر کرتا رہے،الایہ کہ کسی جگہ چار یا زیادہ دن رہنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو وہ پوری نمازاداکرے گا،پھرقصر نہیں کر سکتا۔اس لیے کہ اقامت کے ارادے سے اس کی طبیعت میں ٹھہراؤ اور سکون قلب حاصل ہو جائے گا اور جس غرض کے لیے ’’قصر‘‘کی مشروعیت تھی وہ باقی نہیں رہی،یعنی مسافر کا سفری پریشانی میں مبتلا ہونا اور دل کا سفری ضرورتوں میں مشغول ہونا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ تبوک میں بیس دن مقیم رہے اور اس دوران میں آپ نماز قصر ادا
٭ یہ موقف مرجوح ہے،ان روایات میں صرف یہ ذکر ہے کہ آپ نے اڑتالیس میل کے سفر پر قصر کی تھی،اس سے کم میں قصر کی نفی اس میں نہیں ہے،جبکہ صحیح مسلم،صلاۃ المسافرین،باب صلاۃ المسافرین و قصرھا،حدیث:691 میں ہے:’کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذَا خَرَجَ مَسِیرَۃَ ثَلَاثَۃِ أَمْیَالٍ أَوْ ثَلَاثَۃِ فَرَاسِخَ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ‘ یعنی ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا نو میل کے سفر پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے تھے۔‘‘ یہ حدیث صریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین یا نو میل کے سفر پر قصر کرتے تھے اور یہ اڑتالیس شرعی میل سے بہت کم ہے۔راوی کو تین اور نو میں شک ہے،لہٰذا نو میل(22کلو میٹر)یقینی ہے اور اسی کو حد قصر سفر قرار دیا جانا بہتر ہے۔واللہ اعلم۔(الاثری)
5سفر میں نوافل:
مسافر ’’سنن راتبہ‘‘ اور دیگر نوافل،ماسوائے صبح کی سنتوں اور وتر کے،کیونکہ ان دونوں کا چھوڑنا مستحسن نہیں ہے،ترک کر سکتا ہے اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ میں اگر نوافل پڑھوں تو پھر ’’قصر‘‘ کی کیا ضرورت ہے،پھر نماز پوری پڑھتا۔‘‘[2]
ہاں مسافر اگر نوافل پڑھنا چاہے تو بلا کراہت جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی حالت میں صلاۃ الضحیٰ(چاشت کی نماز)آٹھ رکعت پڑھی تھی[3] اور آپ جانور کی پیٹھ پر بھی سفری راستے میں نفل پڑھ لیتے تھے۔
6ہر مسلمان کے لیے قصر کرنا سنت ہے:
مسافر پیدل چل رہا ہے یا سواری پر،اونٹ پر سفر کر رہا ہے یا بس پر یا ہوائی جہاز پر،بہرصورت وہ قصر کر سکتا ہے۔
نمازوں کو جمع کرنا:
1.نمازیں جمع کرنے کا حکم:
سفر میں دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرکے پڑھنا جائز ہے،ہاں عرفات میں نماز ظہر اور عصر کو جمع کرنا اور مزدلفہ میں نماز مغرب اور عشاء کو جمع کرنا لازم ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ نے ظہر اور عصر ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ عرفات میں ادا کی اور جب مزدلفہ آئے تو عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ ادا فرمائی۔[4]
2.جمع کا طریقہ:
مسافر کے لیے جمع تقدیم اور جمع تاخیر دونوں طرح جائز ہے۔جمع تقدیم اس طرح کہ نماز ظہر وعصر کو ظہر کے وقت میں پڑھ لے اور جمع تاخیر یہ کہ نماز عصر کے وقت میں دونوں کو ادا کرے۔اسی طرح مغرب وعشاء دونوں مغرب کے وقت میں پڑھے تو یہ جمع تقدیم ہے اور عشاء کے وقت میں پڑھے تو جمع تاخیر ہے۔
اس لیے کہ غزوئہ تبوک کے سفر میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاخیر کر کے ظہر اور عصر اکٹھی پڑھیں اور مغرب و عشاء بھی اکٹھی ہی ادا کیں،جبکہ آپ لڑائی کے لیے تبوک میں ٹھہرے ہوئے تھے۔[5]
اسی طرح اہل بلد(شہر والے)بھی مسجد میں بارش یا سخت سردی یا تیز آندھی کی وجہ سے مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے پڑھ سکتے ہیں،بشرطیکہ عشاء کے لیے دوبارہ آنے میں مشقت کا خطرہ ہو۔
اگر شدت بیماری کی وجہ سے مریض کو نمازوں کی ادائیگی میں تکلیف ہو رہی ہے تو وہ بھی دو نمازیں جمع کر کے پڑھ سکتا ہے،اس لیے کہ دو نمازوں کو جمع کرنے کی علت،مشقت ہے اور حضر میں بھی شدید ضرورت پیش آسکتی ہے،مثلاً:جان ومال اور عزت کا خوف ہو تو ایسی صورتوں میں ’’ظہرین‘‘(ظہر اور عصر)ایک وقت میں اور عشائین(مغرب اور عشاء)ایک وقت میں پڑھی جاسکتی ہیں۔یہ بھی صحیح سند سے ثابت ہے کہ نبیٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بارش کے بغیر بھی ایک ہی وقت میں دو نمازیں اکٹھی پڑھی تھیں۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:((أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم صَلّٰی بِالْمَدِینَۃِ سَبْعًا وَّثَمَانِیًا،اَلظُّھْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ))
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر اور عصر کی آٹھ رکعتیں اور مغرب اور عشاء کی سات رکعتیں ایک ساتھ پڑھی تھیں۔‘‘[1]
بیمار کی نماز:
اگر مریض کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر نماز ادا کرے اور سجدہ،رکوع سے نیچا کرے اور اگر بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکے تو پہلو پر لیٹ کر نماز پڑھے اور اگر اس سے بھی عاجز ہو تو پیٹھ پر سیدھا لیٹ جائے،ٹانگیں قبلہ کی طرف پھیلا دے اوراشارے سے ادائیگی کر لے،اس لیے کہ ترک نماز کسی بھی صورت جائز نہیں۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے بواسیر کی تکلیف تھی،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:((صَلِّ قَائِمًا،فَإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا،فَإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَعَلٰی جَنْبٍ))
’’کھڑے ہو کر نماز پڑھا کر،اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو بیٹھ کر،اگر اس کی بھی طاقت نہیں ہے تو پہلو پر لیٹ کر۔‘‘[2]
نیز ارشاد ربانی ہے:﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾’’اللہ کسی جان کو اس کی استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔‘‘[3]
نماز خوف:
1 نماز خوف کی مشروعیت:
خوف کے وقت مخصوص انداز سے نماز کی ادائیگی اللہ عزوجل کے اس
فرمان سے ثابت ہے:﴿وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا﴾
﴿فَلْيَكُونُوا مِن وَرَائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ﴾
’’اور جب آپ ان میں ہوں اور ان کے لیے نماز قائم کریں تو ان کا ایک گروہ آپ کے ساتھ اپنے ہتھیار لیے کھڑا ہو،پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو یہ گروہ آپ کے پیچھے چلا جائے اور دوسرا گروہ جنھوں نے(آپ کے ساتھ)نماز نہیں پڑھی،وہ آجائے اور آپ کے ساتھ نماز ادا کرے اور وہ اپنا بچاؤ کریں اور اپنے ہتھیار ساتھ رکھیں۔‘‘[1]
2 سفر میں نماز خوف کا طریقہ:
اس نماز کی ادائیگی کے مختلف طریقے احادیث میں وارد ہیں،جس کی وجہ خوف کا کم وبیش ہونا ہے۔اگر لڑائی سفر میں ہے تو اس کی مشہور ترین کیفیت یہ ہے کہ فوج کو دوحصوں میں بانٹ دیا جائے۔ایک جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو جائے اور دوسری امام کے پیچھے،امام انھیں ایک رکعت پڑھائے اور کھڑا رہے،اس اثنا میں یہ مقتدی اپنے طور پر ایک رکعت پڑھ لیں اور سلام پھیر دیں۔یہ جماعت سلام کے بعد دشمن کے مقابلے میں جا کھڑی ہو اور دوسرا گروہ آجائے،امام انھیں بھی ایک رکعت پڑھائے اور تشہد میں بیٹھا رہے،یہ گروہ ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لے اور پھر امام کے ساتھ سلام پھیریں۔
نماز خوف کی یہ کیفیت حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ماخوذ ہے جو کہ صحیح مسلم میں مروی ہے۔[2]
3 حضر میں نماز خوف کا طریقہ:
اگر لڑائی ’’حضر‘‘ میں ہو رہی ہو،جہاں نماز قصر نہیں ہوتی تو پہلا گروہ دو رکعتیں امام کے ساتھ پڑھے اور دو رکعتیں اپنے طور پر اور امام کھڑا رہے پھر دوسرا گروہ آکر دو رکعتیں امام کے ساتھ ادا کرے اور امام بیٹھا رہے،اتنے میں وہ دو رکعتیں اپنے طور پر پڑھ لیں گے اور بعد ازاں امام ان کے ساتھ سلام پھیر دے گا۔
4 اگر لڑائی کی شدت کی وجہ سے فوج کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ناممکن ہو تو:؟
اگر لڑائی شدت اختیار کر جائے اور فوج کو تقسیم کر کے انھیں نماز پڑھانا ممکن نہ ہو تو اکیلے اکیلے اشارے کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ پیدل ہوں یا سوار،قبلہ رخ ہوں یا نہ کیونکہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:﴿فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾’’اگر تمھیں خطرہ ہے تو پیدل یا سوار ہو کر(نماز ادا کرو)۔‘‘ [3]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’وَإِنْ کَانُوا أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَلْیُصَلُّوا قِیَامًا وَّرُکْبَانًا‘
’’اور اگر وہ(دشمن)زیادہ ہوں تو مسلمان پیدل اور سوار ہو کر نماز پڑھ لیں۔‘‘[4]
5 دشمن کا متلاشی یا دشمن سے بھاگنے والا:
جو شخص دشمن کی تلاش میں ہو اور اس کے نکل جانے کا اندیشہ ہو یا دشمن اس کے پیچھے پڑا ہوا ہو اور اسے پکڑے جانے کا خطرہ ہو یا کسی موذی جانور کی ایذا رسانی کا اندیشہ ہو تو جس طرح بھی ممکن ہو نماز پڑھے،پیدل چلتے ہوئے یا دوڑتے ہوئے قبلہ رخ ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔چنانچہ ارشاد ربانی ہے:﴿فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾’’پس اگر تمھیں خطرہ ہو تو پیدل یا سوار ہو کر(نماز ادا کرو)۔‘‘ [1]
نیز عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی تلاش میں بھیجا۔ان کا بیان ہے کہ مجھے نماز کی تاخیر کا خوف ہوا تو میں نے چلتے چلتے اشارے کے ساتھ نماز ادا کی تھی۔[2]