نماز کا بیان
نماز باجماعت کے احکام
نماز باجماعت،امامت اور دیر سے آنے والے مقتدی کے احکام:
٭ نماز باجماعت کے احکام:
1 نماز باجماعت کا حکم: ہر مومن پر لازم ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے،بشرطیکہ اسے کوئی شرعی عذر نہ ہو۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’مَا مِنْ ثَلَاثَۃٍ فِي قَرْیَۃٍ وَّلَا بَدْوٍ لَّا تُقَامُ فِیھِمُ الصَّلَاۃُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطَانُ،فَعَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ،فَإِنَّمَا یَأْکُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِیَۃَ‘
’’جس شہر یا دیہی آبادی میں تین شخص رہتے ہوں اور ان میں جماعت کا انتظام نہ ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے،لہٰذا نماز باجماعت قائم کرو کیونکہ بھیڑیا ریوڑ میں سے الگ رہنے والی بھیڑ(یا بکری)کو کھا جاتا ہے۔‘‘[1]
اور فرمایا:((وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ!لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ لِّیُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاۃِ فَیُؤَذَّنَ لَھَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَیَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلٰی رِجَالٍ(لَا یَشْھَدُونَ الصَّلَاۃَ)فَأُحَرِّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوتَھُمْ))
’’مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں،پھر میں نماز کا حکم دوں تو نماز کے لیے اذان کہی جائے،پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز
٭ آخری دو رکعات میں بھی سورئہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھی جا سکتی ہے،یہ بھی احادیث سے ثابت ہے۔
پڑھائے اور میں ان لوگوں کا رخ کروں جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے،پس ان کے گھروں کو جلا دوں۔‘‘[1]
ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کی:اے اللہ کے رسول!مجھے مسجد میں لانے والا کوئی نہیں ہے،کیا مجھے اجازت ہے کہ مسجد میں نہ آؤں ؟ آپ نے اسے اجازت مرحمت فرمائی مگر جب وہ جانے لگے تو بلا لیا اور فرمایا:’’کیا اذان سنتے ہو؟‘‘ عرض کی:ہاں،فرمایا:’’تو پھر ضرور آؤ۔‘‘[2]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی جماعت سے پیچھے نہیں رہتا تھا،سوائے منافق کے اور بیمار کو بھی دو انسان چلا کر لاتے تھے اور صف میں کھڑا کر دیتے تھے۔[3]
2:باجماعت نماز کی فضیلت:شریعت میں نماز باجماعت کی بڑی فضیلت آئی ہے اور اس پر اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِینَ دَرَجَۃً))’’جماعت کے ساتھ نماز،اکیلے نماز پڑھنے سے سے ستائیس درجہ زیادہ(ثواب رکھتی)ہے۔‘‘[4]
اور فرمایا:((صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَۃٍ تَزِیدُ عَلٰی صَلَاتِہِ فِي بَیْتِہِ وَصَلَاتِہِ فِي سُوقِہِ بِضْعًا وَّعِشْرِینَ دَرَجَۃً،وَذٰلِکَ أَنَّ أَحَدَھُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا یَنْھَزُہُ إِلَّا الصَّلَاۃُ،لَا یُرِیدُ إِلَّا الصَّلَاۃَ فَلَمْ یَخْطُ خَطْوَۃً إِلَّا رُفِعَ لَہُ بِھَا دَرَجَۃٌ وَّحُطَّ عَنْہُ بِھَا خَطِیئَۃٌ،حَتّٰی یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ،فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِي الصَّلَاۃِ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ تَحْبِسُہُ،وَالْمَلَائِکَۃُ یُصَلُّونَ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَّا دَامَ فِي مَجْلِسِہِ الَّذِي صَلّٰی فِیہِ،یَقُولُونَ:اَللّٰھُمَّ!ارْحَمْہُ،اَللّٰھُمَّ!اغْفِرْلَہُ،اَللَّھُمَّ!تُبْ عَلَیْہِ،مَالَمْ یُؤْذِ فِیہِ مَالَمْ یُحْدِثْ فِیہِ))
’’آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا،گھر اور بازار میں نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجے فضیلت رکھتا ہے۔اس لیے کہ ایک انسان جب اچھا وضو کرتا ہے اور صرف نماز کے لیے مسجد کا رخ کرتا ہے تو ہر قدم کے عوض اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کا درجہ بلند کرتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد وہ جتنی دیر نماز کا انتظار کرتا ہے،نماز ہی میں شمار ہوتا ہے اور فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں،جب تک کہ وہ نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے اور اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ اے اللہ!اس کی مغفرت فرما،اس پر رحم کر، جب تک وہ بے وضو نہ ہو جائے۔‘‘[1]
3:کم ازکم جماعت:دو آدمی اکٹھے ہو جائیں تو ایک امام بن جائے دوسرا مقتدی،یہی جماعت ہے،البتہ جماعت میں کثرت تعداد اللہ کی محبت کا باعث ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((صَلَاۃُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِہِ وَحْدَہُ،وَصَلَاتُہُ مَعَ الرَّجُلَیْنِ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِہِ مَعَ الرَّجُلِ،وَمَا کَثُرَ فَھُوَ أحَبُّ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی))
’’اکیلے کی نماز سے دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا افضل ہے اور دو کے ساتھ نماز پڑھنا ایک کے ساتھ نماز پڑھنے سے افضل ہے۔جماعت میں جتنی زیادہ تعداد ہوگی اتنا ہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔‘‘[2]
جس شخص کا گھر مسجد سے دور ہے لیکن اس کے باوجود وہ نماز باجماعت پڑھنے کے لیے مسجد میں آتا ہے،اس کااجر بہت بڑا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاۃِ أَبْعَدُھُمْ إِلَیْھَا مَمْشًی))’’بے شک زیادہ ثواب نماز کا ان لوگوں کو حاصل ہو گا جو دور سے چل کر مسجد میں آتے ہیں۔‘‘[3]
4:جماعت میں عورتوں کی شمولیت:عورتیں بھی مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے آسکتی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لَا تَمْنَعُوا إِمَائَ اللّٰہِ مَسَاجِدَ اللّٰہِ‘ ’’عورتوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو۔‘‘[4]
البتہ وہ سادہ انداز میں آئیں اور خوشبو استعمال نہ کریں۔اس لیے کہ خوشبو استعمال کر کے مسجد میں آنا،ان کے لیے حلال نہیں ہے۔[5]اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((أَیُّمَا امْرَأَۃٍ أَصَابَتْ بُخُورًا فَلَا تَشْھَدْ مَعَنَا الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ))’’عورت خوشبو استعمال کر کے ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں نہ آئے۔‘‘[6]
نیز عورت کی نماز اپنے گھر میں زیادہ افضل ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’وَبُیُوتُھُنَّ خَیْرٌ لَّھُنَّ‘ ’’اور ان کے گھر،ان کے لیے بہتر ہیں۔‘‘[1]
5:نماز کے لیے نکلنا اور چلنا:مسجد میں جانے کے لیے جو گھر سے نکلتا ہے،اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنا دایاں پاؤں آگے بڑھائے اور کہے:
((بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ،لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ،اَللَّھُمَّ!إِنِّي أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْھَلَ أَوْیُجْھَلَ عَلَيَّ))
’’اللہ کے نام سے،میں اللہ پر توکل کرتا ہوں،کسی نیک کام کرنے کی قوت اور کسی برے کام سے رک جانے کی دسترس،اللہ کے سوا کسی سے حاصل نہیں ہے،اے اللہ!میں تیری حفاظت چاہتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کیا جاؤں،پھسل جاؤں یا پھسلا دیا جاؤں،ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے،جاہلانہ کلام کروں یا مجھ پر جاہلانہ وار کیا جائے۔‘‘[2]
((اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَسْئَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِینَ عَلَیْکَ،وَأَسْأَلُکَ بِحَقِّ مَمْشَايَ ھٰذَا،فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَّلَا بَطَرًا وَّلَا رِیَائً وَّلَا سُمْعَۃً،وَخَرَجْتُ اتِّقَائَ سُخْطِکَ وَابْتِغَائَ مَرْضَاتِکَ،فَأَسْأَلُکَ أَنْ تُعِیذَنِي مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَلِي ذُنُوبِي إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ‘ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَّفِي لِسَانِي نُورًا وَّفِي سَمْعِي نُورًا وَّفِي بَصَرِي نُورًا وَّمِنْ فَوْقِي نُورًا وَّمِنْ تَحْتِي نُورًا وَّعَنْ یَّمِینِي نُورًا وَّعَنْ شِمَالِي نُورًا وَّمِنْ بَیْنِ یَدَيَّ نُورًا وَّمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا،وَأَعْظِمْ لِي نُورًا))
’’اے اللہ!میں مانگنے والوں کے حق اور میرے اس چلنے کے حق کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں،میں بڑائی اور تکبر،ریا اور شہرت کے لیے نہیں نکلا بلکہ تیری ناراضی سے بچنے کے لیے اور تیری رضا حاصل کرنے کے لیے نکلا ہوں۔میرا سوال یہ ہے کہ مجھے آتش جہنم سے بچا اور میرے سارے گناہ معاف کر دے کہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔‘‘[3] ’’اے اللہ!میرا دل،میری زبان،میرا کان اور آنکھ نور سے بھر دے اور مجھے میرے دائیں،بائیں اور اوپر نیچے اور آگے اور پیچھے روشنی عطا کر اور میرے سارے بندن کو نور بنا دے۔اے اللہ!میرے لیے نور کو بڑھا دے۔‘‘[1]
پھر اطمینان کے ساتھ اور پروقار طریقہ سے چلے۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
((إِذَا أَتَیْتُمُ الصَّلَاۃَ فَعَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ،فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوا))
’’جب تم نماز کے لیے آؤ تو اطمینان کے ساتھ چلو،جتنی رکعات مل جائیں ادا کرو اور جو فوت ہو جائیں انھیں(بعد میں)پورا کرلو۔‘‘[2] مسجد میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں آگے کرے اور یہ دعا پڑھے:((أَعُوذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ،بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ،اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ))
’’عظمت والے اللہ کے نام سے اس کے مبارک چہرے اور اس کی قدیم سلطنت کی شیطان مردود کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔اے اللہ!ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر درود وسلام بھیج،اے اللہ!میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘[3]
اور تحیۃ المسجد(مسجد میں داخل ہونے کے بعد)کی دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلَا یَجْلِسْ حَتّٰی یُصَلِّيَ رَکْعَتَیْنِ))’’جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔‘‘[4]
ہاں،اگر سورج طلوع ہو رہا ہے یا غروب ہو رہا ہے تو بیٹھ جائے اور نماز نہ پڑھے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کر دیا ہے۔[5]
اور جب مسجد سے نکلے تو بایاں پاؤں آگے رکھے اور داخل ہونے کے وقت کی دعا ہی پڑھے،البتہ اس میں ’وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘ کے بجائے ’وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِکَ‘ کہے۔یعنی ’’اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔‘‘[1]
٭امامت کا بیان:
1: مردوں کی امامت:اس پر اتفاق ہے کہ مردوں کا امام مرد ہی بنے گا،عورت مردوں کی امامت نہیں کراسکتی۔
2: امامت کا زیادہ حق دار کون ہے؟ جماعت کی امامت کا سب سے زیادہ حق دار وہ شخص ہے جسے کتاب اللہ(قرآن مجید)دوسروں سے زیادہ یاد ہو،پھر سنت کا زیادہ عالم ہو،پھر جس نے ہجرت پہلے کی ہو،پھر وہ شخص جو اسلام لانے میں متقدم ہو اگر ان امور میں برابری ہے تو پھر وہ شخص جو عمر میں زیادہ ہو۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((یَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُھُمْ لِکِتَابِ اللّٰہِ،فَإِنْ کَانُوا فِي الْقِرَائَ ۃِ سَوَائً فَأَعْلَمُھُمْ بِالسُّنَّۃِ،فَإِنْ کَانُوا فِي السُّنَّۃِ سَوَائً فَأَقْدَمُھُمْ ھِجْرَۃً،فَإِنْ کَانُوا فِي الْھِجْرَۃِ سَوَائً فَأَقْدَمُھُمْ سِلْمًا(أَيْ إِسْلَامًا)وَفِي رِوَایَۃٍ:أَکْبَرُھُمْ سِنًّا))
’’لوگوں کی امامت وہ کرائے جو اللہ کی کتاب کا زیادہ حافظ ہو،اگر وہ قراء ت میں برابر ہوں تو سنت کو زیادہ جاننے والا،اگر سنت کے علم میں برابر ہوں تو ہجرت میں سبقت لے جانے والا،اگر ہجرت میں برابر ہوں تو اسلام میں سبقت لے جانے والا۔ایک روایت میں ہے۔پھر بڑی عمر والا۔‘‘[2]
ہاں اگر حاکم وقت،امام مسجد یا صاحب خانہ ہو تو دوسروں سے زیادہ امامت کا مستحق وہی ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((لَا یَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي أَھْلِہِ وَلَا سُلْطَانِہِ،إِلَّا بِإِذْنِہِ))’’کوئی آدمی کسی صاحب خانہ اور حاکم کا اس کی اجازت کے بغیر امام نہ بنے۔‘‘[3]
3: بچے کی امامت:نابالغ بچہ نفل نمازوں میں امام بن سکتا ہے،فرض کے لیے نہیں۔اس لیے کہ فرض پڑھنے والا،نفل پڑھنے والے کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا اور نابالغ کی نماز نفل ہے،لہٰذا فرض میں وہ امامت نہ کرائے۔فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے:’لَا تَخْتَلِفُوا عَلَیْہِ‘ ’’اپنے امام سے اختلاف نہ کرو۔‘‘[4]
اور یہ بھی مخالفت ہے کہ فرض پڑھنے والا نفل پڑھنے والے کے پیچھے نماز پڑھے۔٭
٭ مؤلف کا یہ فرمان:’’فرض پڑھنے والا نفل پڑھنے والے کے پیچھے نماز نہ پڑھے،یہ امام کی مخالفت ہے،جو ناجائز ہے‘‘ محل نظر ہے (البتہ امام شافعی رحمہ اللہ اس مسئلہ میں جمہور کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نابالغ لڑکا فرض نماز میں بھی امام بن سکتا ہے۔ان کا استدلال عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے،جس میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’قرآن کا جو زیادہ قاری ہو وہی امام بنے۔بنا بریں عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت کراتے تھے،جبکہ یہ اس وقت سات سال کی عمر میں تھے۔[1]
4:عورت کی امامت:عورت عورتوں کی نماز میں امام بن سکتی ہے اور وہ صف میں ان کے درمیان ہی کھڑی ہو گی۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ورقہ بنت نوفل رضی اللہ عنہا سے کہا تھا کہ اپنے محلہ کی عورتوں کی امامت کرائے اور انھیں مؤذن مقرر کرنے کی بھی اجازت دی تھی۔[2]
5: نابینا آدمی کی امامت:نابینا نماز کا امام مقرر ہو سکتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو بار مدینہ میں اپنے پیچھے امیر بنا کر چھوڑ گئے تھے۔وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے،جبکہ وہ نابینا تھے۔[3]
6: مفضول کی امامت:افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی امامت بھی جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ نے مختلف مواقع میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے،جبکہ آپ ان دونوں بلکہ کل مخلوق سے افضل ہیں۔[4]
7: تیمم والے کی امامت:جس نے تیمم کیا ہو،وہ وضو کرنے والوں کا امام بن سکتا ہے،اس لیے کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے تیمم کے ساتھ ایک فوجی دستے کو نماز پڑھائی تھی،جبکہ وہ سب وضو سے تھے،پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تھا تو آپ نے انکار نہیں فرمایا۔[5]
(کیونکہ معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فرض نماز ادا کرتے تھے اور پھر اپنی قوم کی امامت کراتے تھے،جیسا کہ صحیح البخاري،الأذان،باب إذا صلٰی ثم أمّ قوما،حدیث:711 میں ہے:’کَانَ مُعَاذٌ یُّصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثُمَّ یَأْتِي قَوْمَہُ فَیُصَلِّي بِھِمْ‘ ’’کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے پھر اپنی قوم کے پاس آتے اور انھیں نماز پڑھاتے۔‘‘معاذ کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فرض ہوتی تھی ارشاد نبوی ہے:’إِذَا أُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَا صَلَاۃَ إِلَّا الْمَکْتُوبَۃَ:‘’’جب نماز کھڑی ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہوتی۔‘‘ صحیح مسلم،صلاۃ المسافرین،باب کراھۃ الشروع في نافلۃ بعد شروع المؤذن في إقامۃ الصلاۃ:،حدیث:710۔اور افرادِ قوم ان کے پیچھے فرض پڑھتے تھے جبکہ یہ نفل پڑھ رہے ہوتے تھے۔(الاثری)
8: مسافر کی امامت:مسافر مقیم لوگوں کا نماز میں امام بن سکتا ہے۔البتہ مقیم لوگ مسافر امام کی نماز کے بعد اٹھ کر نماز پوری پڑھیں گے،اس لیے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو نماز پڑھائی اور آپ مسافر تھے،جبکہ وہ مقیم تھے،پھر فرمایا:
((یٰأَھْلَ مَکَّۃَ!أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ))’’اے اہل مکہ!اپنی نماز پوری کر لو،ہم مسافر لوگ ہیں۔‘‘[1]
اگر مسافر مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو وہ اس کے ساتھ پوری نماز پڑھے گا۔ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مقیم امام کے پیچھے پوری نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا:یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔[2]
9: مقتدی کا امام کے ساتھ کھڑا ہونا:اگر مقتدی ایک ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہو گا۔اسی طرح اگر کوئی عورت دوسری عورتوں کی امامت کرارہی ہے تو وہ بھی ان کے درمیان کھڑی ہوگی اور اگر مقتدی دو یا زیادہ ہوں تو امام کے پیچھے مرد کھڑے ہوں گے اور پھر ان کے پیچھے عورتیں اور اگر ایک مرد اور ایک عورت مقتدی ہو تو مرد امام کے دائیں جانب اور عورت ان کے پیچھے کھڑی ہو گی۔چاہے وہ مرد نابالغ لڑکا ہو۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((خَیْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُھَا وَشَرُّھَا آخِرُھَا،وَخَیْرُ صُفُوفِ النِّسَائِ آخِرُھَا وَشَرُّھَا أَوَّلُھَا))
’’مردوں کی صفوں میں بہتر پہلی اور گھٹیا آخری ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری بہتر اور پہلی صف گھٹیا ہے۔‘‘[3]
اور اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کے موقع پر جابر رضی اللہ عنہ کو جو بائیں طرف کھڑے تھے،اپنی دائیں طرف کر دیا تھا اور پھر جبار بن صخر رضی اللہ عنہ آئے اور بائیں طرف کھڑے ہو گئے۔آپ نے دونوں کو پیچھے دھکیل دیا اور وہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے۔[4]
اور اسی طرح انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کیااور میری ماں کو اپنے پیچھے۔[5] نیز انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں اور ایک یتیم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور عورت ہمارے پیچھے۔[6]
10: امام کے سترے کا مقتدیوں کے لیے کافی ہونا:اگر امام نے ’’سترہ‘‘ بنا لیا ہو تو مقتدیوں کوالگ الگ ’’سترہ‘‘ بنانے کی ضرورت نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آگے ایک نیزہ کھڑا کر لیا کرتے تھے،پھر کسی کو بھی اپنے پیچھے ’’سترہ‘‘ بنانے کا حکم نہیں کرتے تھے۔[1]
11: امام کی اقتدا کا واجب ہونا:مقتدیوں پر لازم ہے کہ امام کی اتباع کریں اور کسی بھی حرکت میں امام سے پہل کرنا حرام ہے اور برابر رہنا بھی ناپسند ہے۔اگر تکبیر تحریمہ امام سے پہلے کہہ لی ہے تو دوبارہ تکبیر تحریمہ کہے،ورنہ نماز باطل ہوگی۔اسی طرح اگر سلام پہلے کہے تو بھی نماز باطل ہے۔اگر رکوع یا سجدہ یا ان سے سر اٹھانے میں پہل کر لے تو امام کے بعد رکوع یا سجدہ کرنا دوبارہ لازم ہو گا۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’إِنَّمَا جُعِلَ الإِْمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَیْہِ،فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا،وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا،وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ،فَقُولُوا:اَللّٰھُمَّ!رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ،وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا،وَإِذَا صَلّٰی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ‘
’’امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے،سو اس پر اختلاف نہ کرو۔جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو،جب وہ رکوع کرے تب تم رکوع کرو اور جب وہ ’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ‘ کہے تو تم ’اَللّٰھُمَّ!رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘ کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔‘‘[2]
نیز آپ کا فرمان ہے:’أَمَا یَخْشٰی أَحَدُکُمْ۔إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ قَبْلَ الإِْمَامِ۔أَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ رَأْسَہُ رَأْسَ حِمَارٍ،أَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ صُورَتَہُ صُورَۃَ حِمَارٍ‘
’’جو امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے،کیا وہ ڈرتا نہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کا سریا شکل وصورت گدھے کی طرح بنا دے۔‘‘[3]
12: کسی عذر کی بنا پر مقتدی کا امام کی جگہ لینا:دوران نماز امام بے وضو ہو جائے یا نکسیر پھوٹ پڑے یا کوئی اور عارضہ لاحق ہو جائے جس کی وجہ سے وہ نماز جاری نہ رکھ سکے تو جائز ہے کہ مقتدیوں میں سے کسی کو آگے کر دے،جو نماز مکمل کرائے اور خود امام چلا جائے۔عمر رضی اللہ عنہ جب زخمی کیے گئے تو انھوں نے عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام بنایا تھا۔[4] اور علی رضی اللہ عنہ نے بھی نکسیر کی وجہ سے اپنا نائب امام بنایا تھا۔[5]
13: امام نماز باجماعت ہلکی پڑھائے:امام کے لیے مستحب ہے کہ قراء ت میں تخفیف کر کے ہلکی نماز پڑھائے،نماز لمبی نہ کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ لِلنَّاسِ فَلْیُخَفِّفْ،فَإِنَّ فِیھِمُ الضَّعِیفَ وَالسَّقِیمَ وَالْکَبِیرَ،وَإِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ لِنَفْسِہِ فَلْیُطَوِّلْ مَا شَائَ))
’’جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے،اس لیے کہ ان میں کمزور،بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں،ہاں جب اکیلا پڑھے تو جتنی چاہے طویل کرے۔‘‘[1]
امام پہلی رکعت دوسری رکعت کی بہ نسبت طویل پڑھائے،ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت دوسری رکعت کی بہ نسبت طویل پڑھتے تھے۔[2]
14: مقتدیوں کے ہاں ناپسندیدہ شخص کی امامت مکروہ ہے:اگر لوگ کسی شخص کو ناپسند کرتے ہوں تو وہ شخص ان کی امامت نہ کرائے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
’ثَلَاثَۃٌ لَّا تَرْتَفِعُ صَلَاتُھُمْ فَوْقَ رُؤُوسِھِمْ شِبْرًا:رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَّھُمْ لَہُ کَارِھُونَ،وَامْرَأَۃٌ بَاتَتْ وَزَوْجُھَا عَلَیْھَا سَاخِطٌ،وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ‘
’’تین آدمیوں کی نماز ایک بالشت کے قدر بھی ان کے سروں کے اوپر(قبولیت کے لیے)نہیں اٹھتی،ایک وہ جو کسی قوم کی امامت کراتا ہے اور وہ اسے ناپسند کرتے ہیں اور وہ عورت جس پر اس کا خاوند ساری رات ناراض رہا اور وہ دو بھائی جو آپس میں قطع تعلق کر چکے ہیں۔‘‘[3]
15: امام کے قریب کون کھڑا ہوگا:یہ امر مستحب ہے کہ امام کے قریب معمر اور بزرگ اہل علم وفضل کھڑے ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لِیَلِنِي مِنْکُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّھٰی‘
’’تم میں صاحب عقل و دانش وفراست میرے قریب کھڑے ہوا کریں۔‘‘[4]
16: سلام کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کرنا:یہ بھی مستحب ہے کہ امام سلام کے بعد دائیں(یا بائیں)طرف سے مڑے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اسی طرح تھا۔حضرت ہلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:’کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَؤُمُّنَا فَیَنْصَرِفُ عَلٰی جَانِبَیْہِ جَمِیعًا عَلٰی یَمِینِہِ وَعَلٰی شِمَالِہِ‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے امام ہوتے تھے اور کبھی دائیں طرف سے(ہماری طرف)پھرتے اور کبھی بائیں طرف سے۔‘‘[1]
17: صفیں برابر کرنا:امام اور مقتدی صفوں کی درستی اور انھیں سیدھا رکھنے کا خصوصی اہتمام کریں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف توجہ کر کے فرمایا کرتے تھے:
’تَرَاصُّوا وَاعْتَدِلُوا‘ ’’ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اور سیدھے کھڑے ہوا کرو۔‘‘[2]
اور فرمایا:’سَوُّوا صُفُوفَکُمْ فَإِنَّ تَسْوِیَۃَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاۃِ‘
’’اپنی صفیں سیدھی کرو،صف کی درستی نماز کی تکمیل سے ہے۔‘‘[3]
اور ارشاد ہے:’لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَکُمْ أَوْ لَیُخَالِفَنَّ اللّٰہُ بَیْنَ وُجُوھِکُمْ‘
’’تم اپنی صفیں سیدھی کرو گے یا پھراللہ تمھارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔‘‘[4]
مزید فرمایا:’مَا مِنْ خَطْوَۃٍ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنْ خَطْوَۃٍ یَّمْشِیھَا یَصِلُ بِھَا صَفًّا‘
’’صف میں خالی جگہ پر کرنے کے لیے آدمی جو قدم بڑھاتا ہے،اس سے بڑھ کر کوئی قدم اللہ کا پسندیدہ نہیں۔‘‘[5]
٭مسبوق کا حکم:
1: مسبوق کسے کہتے ہیں ؟ وہ شخص جسے جماعت کی پوری نماز نہ مل سکے بلکہ بعد میں آکر نماز میں مل جائے،اسے مسبوق کہتے ہیں۔مسبوق کا ہر صورت میں امام کے ساتھ مل جانا ضروری ہے:نماز پڑھنے والا جب مسجد میں آتا ہے اور امام کو رکوع،سجدہ،جلسہ یا قیام جس کسی بھی حالت میں پاتا ہے تو اس پر فورًا اس کے ساتھ شامل ہونا ضروری ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’إِذَا أَتٰی أَحََدُکُمُ الصَّلَاۃَ وَالإِْمَامُ عَلٰی حَالٍ فَلْیَصْنَعْ کَمَا یَصْنَعُ الإِْمَامُ‘
’’جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے آئے تو وہ امام کی پیروی کرے،خواہ امام جس حالت میں بھی ہو۔‘‘[6]
جمہور علماء کا اس پر عمل ہے کیونکہ دیگر روایات بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔
2: کیا رکوع کے پالینے سے رکعت پوری ہوجاتی ہے؟ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ اگر مقتدی امام کو رکوع میں پائے اور اس کے سر اٹھانے سے پہلے رکوع کر لے تو مقتدی کی ایک رکعت پوری ہو گئی،اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یہ ہے:
’إِذَا جِئْتُمْ إِلَی الصَّلَاۃِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوھَا شَیْئًا،وَمَنْ أَدْرَکَ الرَّکْعَۃَ فَقَدْ أَدْرَکَ الصَّلَاۃَ‘
’’جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو سجدہ کرو اور اسے شمار نہ کرو اور جو رکعت پالے اس نے نماز پالی۔‘‘[1]
جبکہ علماء کی ایک دوسری جماعت یہ کہتی ہے کہ مدرک رکوع مدرک رکعت نہیں ہے مذکورہ حدیث ضعیف ہے اور صحیح حدیث میں قراء ت فاتحہ کو شرط قرار دیا گیا ہے،فرمایا:’لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ‘
’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی۔‘‘[2]
3: امام کے سلام پھیرنے کے بعد مقتدی کا فوت شدہ نماز کی قضا دینا:امام کے سلام کے بعد مقتدی فوت شدہ رکعات کو پورا کرے،چاہے تو فوت شدہ رکعات کو آخر نماز قرار دے،جیسا کہ اس حدیث سے مستفاد ہے:
((فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوا))’’جتنی رکعات پاؤ پڑھ لو اور جو رہ جائیں انھیں پورا کرلو۔‘‘[3]
مثلًا:مغرب کی ایک رکعت پالی ہے تو اٹھ کر دو رکعت پڑھے،پہلی میں فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھے اور دوسری میں صرف فاتحہ۔پھر تشہد پڑھ کر سلام پھیرے اور اسی کو بعض محققین اہل علم راجح قرار دیتے ہیں۔[4]
٭ امام نووی شرح مسلم(220/1)میں لکھتے ہیں:’’اکثر روایات میں ’مَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوا‘ ہے،ایک روایت میں ’وَاقْضِ مَا سَبَقَکَ‘ ہے،امام شافعی اور جمہور علماء سلف وخلف اسی کے قائل ہیں کہ مسبوق نے جو رکعتیں امام کے ساتھ پڑھی ہیں،وہ اس کی اول نماز ہے اور سلام کے بعد باقی کی تکمیل کرے گا۔امام ابو حنیفہ اور ایک طائفہ اس کے برعکس قائل ہیں۔امام مالک سے دونوں روایتیں منقول ہیں۔اور ’وَاقْضِ مَا سَبَقَکَ‘ میں قضا سے مراد فقہاء کا اصطلاحی مفہوم نہیں بلکہ لغوی معنی ہے،یعنی ادائیگی نماز،جیسا کہ قرآن پاک میں ہے ( اور چاہے تو فوت شدہ کو اپنی نماز کی پہلی رکعات سمجھے اور سلام کے بعد ان کی قضا کرے،جیسا کہ دوسری روایت کے الفاظ:’وَاقْضِ مَا سَبَقَکَ‘ ’’اور جو تم سے رہ جائے اس کی قضا کرو۔‘‘ [1]سے مستفاد ہے۔بنا بریں مغرب کی ایک رکعت رہ جانے والے پر لازم ہے کہ اٹھے اور سورئہ فاتحہ اور کوئی سورت جہرًا پڑھے،پھر تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔
4: مقتدی کا سورۂ فاتحہ کے علاوہ امام کے پیچھے قراء ت کرنا:جہری نماز میں مقتدی صرف سورۂ فاتحہ پڑھے مزید کچھ نہ پڑھے بلکہ خاموش رہے اور امام کی قراء ت ہی اسے کافی ہو گی۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’مَنْ کَانَ لَہُ إِمَامٌ فَقِرَائَ ۃُ الإِْمَامِ لَہُ قِرَائَ ۃٌ‘ ’’جس کا امام ہو تو امام کی قراء ت اس کی قراء ت ہے۔‘‘[2]
نیز آپ کا فرمان ہے:’مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ‘ ’’کیا بات ہے کہ قرآن کی قراء ت مجھ پر گراں ہو رہی ہے۔‘‘[3]
چنانچہ لوگ جہری نمازوں میں آپ کے ساتھ(سورۂ فاتحہ کے سوا باقی)قراء ت کرنے سے رک گئے۔
اور فرمایا:’وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا‘ ’’اور جب وہ قراء ت کرے تو خاموش رہو۔‘‘[4]
ہاں امام جن نمازوں میں ’’جہر‘‘ نہیں کر رہا تو مقتدی ان میں سورۂ فاتحہ بالاتفاق پڑھے گا۔٭
(﴿فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ﴾(الجمعۃ 10:62)’’جب نماز ادا کر لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ...‘‘(الاثری)
٭ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کے متعلق جمہور محدثین وفقہاء کی تحقیق یہ ہے کہ مقتدی بھی امام کے پیچھے آہستہ فاتحۃ الکتاب کی قراء ت لازمًا کریں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ‘ یعنی ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو فاتحۃ الکتاب نہ پڑھے۔‘‘ صحیح البخاري،الأذان،باب وجوب القراء ۃ للإمام والمأموم والصلوات کلھا:،حدیث:756،اور حدیث ’مَنْ کَانَ لَہُ إِمَامٌ فَقِرَائَ ۃُ الإِْمَامِ لَہُ قِرَائَ ۃٌ‘ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔(تحفۃ الأحوذي)اور بعض اکابرین نے قراء ت سے ماسوی الفاتحہ بھی مراد لی ہے۔حدیث ’مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ‘ میں مقتدی کی ایسی قراء ت جو امام کی قراء ت میں منازعت پیدا کرے،یعنی جہرًا ہی مراد ہے،جیسا کہ ’مَا لِي أُنَازَعُ‘ کا لفظ دال ہے اور اس لیے کہ سنن أبي داود،الصلاۃ،باب من ترک القراء ۃ في صلاتہ بفاتحۃ الکتاب،حدیث:823اور ترمذی میں صحیح حدیث:311 ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:’’تم اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:ہاں،آپ نے فرمایا:’’نہ پڑھو سوا فاتحۃ الکتاب کے‘‘ خطابی کہتے ہیں:اس کی سند جید ہے،اس میں کوئی طعن نہیں ہے اور روایت ’وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا‘ میں جو انصات ہے،فاتحہ کا پڑھنا اس کے منافی نہیں ہے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ قراء ت سے مراد ماسوی الفاتحہ کی قراء ت ہے۔(الاثری)
5: فرض نماز کے ہوتے ہوئے نفلی نماز ادا کرنا:فرض نماز کی تکبیر ہو جائے تو نفل٭ میں داخل ہونا ناجائز ہے اور اگر نفل پڑھ رہا ہے تو اسے فورًا منقطع کر دے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’إِذَا أُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَا صَلَاۃَ إِلَّا الْمَکْتُوبَۃُ‘
’’جب نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض کے سوا کوئی نماز نہیں ہے۔‘‘[1]
6: جو شخص نیند،سفر یا بھول جانے کی وجہ سے نماز ظہر ادا نہ کر سکے۔یہاں تک کہ جب وہ آیا تو نماز عصر کھڑی ہو چکی تھی تو اب یہ شخص کیا کرے:؟:اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے۔بعض کی رائے یہ ہے کہ ’’ظہر‘‘ کی نیت سے امام کے ساتھ شامل ہو جائے اور سلام کے بعد عصر پڑھے،جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ عصر کی نیت کرے اور ساتھ شامل ہوجائے۔امام کے فارغ ہونے کے بعد ظہر پڑھے۔
7: نمازی صف کے پیچھے اکیلا نماز نہ پڑھے:مقتدی اگر صف میں شامل نہ ہو اور پیچھے کھڑا ہو جائے تو ناجائز ہے۔
اگر کسی مجبوری کے بغیر اکیلا پیچھے نماز پڑھے تو نماز نہیں ہوئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے اسی طرح نماز پڑھی تو آپ نے فرمایا:’اِسْتَقْبِلْ صَلَاتَکَ،لَا صَلَاۃَ لِلَّذِي خَلْفَ الصَّفِّ‘
’’نماز دوبارہ پڑھو،جو اکیلا صف کے پیچھے نماز پڑھے،اس کی نماز نہیں ہے۔‘‘[2]
اگر امام کے دائیں طرف کھڑا ہو جائے تو جائز ہے۔
8: پہلی صف افضل ہے:امام کے دائیں طرف پہلی صف میں ملنے کی کوشش کرنی چاہیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ،قَالُوا:یَارَسُولَ اللّٰہِ!وَعَلَی الثَّانِي؟ قَالَ:وَعَلَی الثَّانِي‘
’’پہلی صف والوں کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ رحمت نازل کرتے ہیں اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا:اور دوسری صف والوں کے لیے بھی۔فرمایا:اور دوسری صف والوں کے لیے بھی۔‘‘[3]
اور فرمایا:((خَیْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُھَا وَشَرُّھَا آخِرُھَا،وَخَیْرُ صُفُوفِ النِّسَائِ آخِرُھَا وَشَرُّھَا أَوَّلُھَا))
’’مردوں کی بہترین صف پہلی ہے اور کم تر آخری اور عورتوں کی بہترین صف پچھلی ہے اور کم تر پہلی۔‘‘[4]
٭ سنن رواتب بھی شرعًا نفل میں داخل ہیں۔(الاثری)
نیز فرمایا:((إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی مَیَامِنِ الصُّفُوفِ))
’’اللہ تعالیٰ رحمت کرتے ہیں اور اس کے فرشتے ان لوگوں کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں،جو صفوں کے دائیں طرف نماز پڑھتے ہیں۔‘‘[1]
اور فرمایا:((إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی الَّذِینَ یَصِلُونَ الصُّفُوفَ))
’’اللہ رحمت کرتے ہیں اور اس کے فرشتے ان لوگوں کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔‘‘[2]
اور ارشاد ہے:((تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي وَلَیَأْتَمَّ بِکُمْ مَّنْ بَعْدَکُمْ،لَا یَزَالُ قَوْمٌ یَّتَأَخَّرُونَ حَتّٰی یُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ))
’’آگے بڑھو اور میری اقتدا کرو اور تمھارے پیچھے والے تمھاری اقتدا کریں گے اور کچھ لوگ ہمیشہ پیچھے ہوتے رہتے ہیں،یہاں تک کہ اللہ بھی انھیں پیچھے کر دیتا ہے۔‘‘[3]