نماز کا بیان

سجدۂ سہو کا بیان

نماز میں رکعت یا سجدہ یا کوئی اور رکن بھول کر زائد ہو جائے تو نمازی اس غلطی کو دور کرنے کے لیے نماز مکمل کر کے دو سجدے کرے اور پھر سلام پھیرے۔اسی طرح اگر نماز کی سنن مؤکدہ میں سے کوئی چیز رہ جائے تو سلام سے پہلے ’’سجدۂ سہو‘‘ کرے،مثلاً:درمیان کا تشہد چھوٹ جائے اور بالکل یاد نہ آئے یا سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد نہ آئے تو تشہد کے لیے واپس نہ جائے بلکہ آخر میں سلام سے پہلے سجدہ کرے،اسی طرح اگر تشہد مکمل کرنے سے پہلے سلام پھیر دے اور پھر جلدی میں یاد آجائے تو دوبارہ نماز کی تکمیل کرے اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرے،ان احکام پر دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول وفعل ہے۔ دو رکعت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا تھا تو آپ کو اطلاع دی گئی۔آپ دوبارہ آئے نماز مکمل کی اور سلام کے بعد سجدۂ سہو کیا۔[4] ایک بار آپ تشہد کیے بغیر دوسری رکعت سے اٹھ گئے تو سلام سے پہلے ’’سجدۂ سہو‘‘ کیا[5] اور فرمایا:((إذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِہِ فَلَمْ یَدْرِ کَمْ صَلّٰی؟ ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا؟ فَلْیَطْرَحِ الشَّکَّ وَلْیَبْنِ عَلٰی مَا اسْتَیْقَنَ،ثُمَّ یَسْجُدُ سَجْدَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یُّسَلِّمَ،فَإِنْ کَانَ صَلّٰی خَمْسًا شَفَعْنَ لَہُ صَلَاتَہُ،وَإِنْ کَانَ صَلّٰی إِتْمَامًا لَّأَرْبَعٍ کَانَتَا تَرْغِیمًا لِّلْشَّیْطَانِ)) ’’جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے کہ تین پڑھی ہیں یا چار تو شک سے قطع نظر کر کے یقین پر بنا کرے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے،اس صورت میں اگر اس نے واقعتا پانچ رکعات پڑھی ہیں تو پانچویں رکعت اور دو سجدے(مل کر)اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے۔اگر پوری چار رکعتیں تھیں تو یہ سجدے شیطان کے لیے باعث تذلیل ہوں گے۔‘‘[1] امام کے پیچھے اگر مقتدی بھول جائے تواکثر علماء کے نزدیک اس پر ’’سجدۂ سہو‘‘ نہیں ہے لیکن اگر امام بھول جائے تو مقتدی بھی اس کے ساتھ سجدہ کرے گا،اس لیے کہ امام کی متابعت ضروری ہے اور اس لیے بھی کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز کے ساتھ مربوط ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھول گئے تو آپ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی ’’سجدۂ سہو‘‘ کیا تھا۔[2]