نماز کا بیان
شرائط نماز
٭شرائط فرضیت نماز:
1: اسلام:وجوب نماز کی شرطوں میں ایک اسلام ہے کیونکہ کافر پر نماز فرض نہیں ہے،اس لیے کہ نماز سے پہلے شہادتین کا اقرار ضروری ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ،وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ))
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑتا رہوں،یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔‘‘[2]
اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لیے آپ کا فرمان ہے:
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرائض کے ساتھ سنتوں کی ترغیب وتاکید فرمائی ہے اور ساری زندگی آپ کا اس پر عمل رہا ہے،لہٰذا یہ بھی مؤکدہ سنتیں ہیں۔(الاثری)
’فَادْعُھُمْ إِلٰی أَنْ یَّشْھَدُوا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،فَإِنْ ھُمْ أَطَاعُوا لَکَ بِذٰلِکَ فَأَخْبِرْھُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي کُلِّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ‘
’’ان کو دعوت دے کہ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں،اگر وہ تیری یہ بات مان لیں تو انھیں بتا دے کہ اللہ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔‘‘[1]
2: عقل مند ہونا:اس لیے کہ پاگل پر نماز فرض نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ:عَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ،وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتّٰی یَحْتَلِمَ،وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتّٰی یَعْقِلَ))
’’تین انسان مرفوع القلم ہیں،سویا ہوا جاگنے تک،نابالغ بالغ ہونے تک اور پاگل عقل درست ہونے تک۔‘‘[2]
3: بالغ ہونا:اس لیے کہ نا بالغ بچے پر نماز فرض نہیں ہے۔جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے معلوم ہے،البتہ تعلیم وتربیت کے لیے بچے کو استحباباً سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دیا جائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’مُرُوا أَوْلَادَکُمْ بِالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَائُ سَبْعِ سِنِینَ،وَاضْرِبُوھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَائُ عَشْرِ سِنِینَ،وَفَرِّقُوا بَیْنَھُمْ فِي الْمَضَاجِعِ‘
’’اپنی اولاد کو جب وہ سات سال کے ہو جائیں،نماز کا حکم کرو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز کے لیے سرزنش کرو اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو۔‘‘[3]
4: وقت کا داخل ہونا:اس لیے کہ وقت سے پہلے نماز فرض نہیں ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾’’بے شک نماز ایمان والوں پر وقت مقررہ پر فرض ہے۔‘‘[4]
اور اس لیے بھی کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اوقات نماز کی تعلیم دی اور فرمایا:’’(اے محمد!)اٹھیں اور(ظہر کی)نماز پڑھیں۔‘‘چنانچہ آپ نے سورج ڈھلنے پر ظہر کی نماز پڑھی،پھر عصر کے وقت آکر فرمانے لگے:’’اٹھیں اور نماز پڑھیں ‘‘ چنانچہ آپ نے جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوا،عصر کی نماز پڑھی،پھر مغرب کے وقت آکر فرمانے لگے:’’اٹھیں اور نماز پڑھیں ‘‘ چنانچہ آپ نے سورج غروب ہونے پر مغرب کی نماز پڑھی،پھر عشاء کے وقت آکر کہنے لگے:’’اٹھیں اور نماز پڑھیں ‘‘ چنانچہ آپ نے سرخی کے غائب ہونے پر عشاء کی نماز پڑھی،پھر صبح صادق کے وقت آئے،پھر دوسرے دن ظہر کے وقت آکر فرمانے لگے:’’اٹھیں اور نماز پڑھیں ‘‘ چنانچہ آپ نے جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوا،ظہر کی نماز پڑھی،پھر عصر کے وقت آکر کہنے لگے:’’اٹھیں اور نماز پڑھیں ‘‘ چنانچہ آپ نے جب ہر چیز کا سایہ اس کے دومثل ہوا،عصر کی نماز پڑھی،پھر مغرب کے لیے پہلے دن کے وقت ہی میں آئے،پھر آدھی یا راوی کے بقول ایک تہائی رات ہونے پر عشاء کے لیے آئے اور نماز ادا کی،پھر اچھی طرح روشنی ہونے پر صبح کے لیے آئے اور نماز ادا کی اور پھر فرمایا:’’ان دو وقتوں کے درمیان(نمازوں کے)اوقات ہیں۔‘‘[1]
5: حیض ونفاس کے خون سے پاک ہونا:اس لیے کہ حیض اور نفاس والی عورت پر نماز فرض نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’إِذَا أَقْبَلَتْ حَیْضَتُکِ فَدَعِي الصَّلَاۃَ‘ ’’جب تجھے ماہواری آجائے تو نماز ترک کر دے۔‘‘[2]
٭صحت ِنماز کی شرائط:
1: طہارت:نماز کی صحت کے لیے شرط ہے کہ آدمی بے وضو نہ ہو،جنبی نہ ہو اور اس کے کپڑے،بدن اور جگہ پلید نہ ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’لَا تُقْبَلُ صَلَاۃٌ بِغَیْرِ طُھُورٍِ‘ ’’پاکیزگی کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔‘‘[3]
2: شرم گاہ کو چھپانا:اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشار ہے:﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾’’ہرمسجد(میں حاضری)کے وقت اپنے آپ کو مزین کر لیا کرو۔‘‘[4]
لہٰذا سترپوشی نہ ہو تو نماز صحیح نہیں ہوتی،اس لیے کہ کپڑوں کی زینت وہی ہے جس میں ستر ہو۔مرد پر ناف سے لے کر دونوں گھٹنوں تک جسم کا ڈھانپنا ضروری ہے اور چہرے اور ہتھیلیوں کے علاوہ عورت کے لیے سارا جسم ستر ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ صَلَاۃَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ‘ ’’اللہ بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کرتا۔‘‘[5]
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:کیا عورت قمیص اور اوڑھنی میں بغیر تہبند کے نماز پڑھ سکتی ہے۔تو آپ نے فرمایا: ((إِذَا کَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا یُّغَطِّي ظُھُورَ قَدَمَیْھَا))’’(ہاں جائز ہے)جب اس کی قمیص اتنی لمبی ہو کہ اس کے قدموں کے ظاہر کو ڈھانپ رہی ہو۔‘‘[1]
3: قبلہ رخ ہونا:کیونکہ اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾
’’اور جہاں بھی ہو اسی(مسجد حرام)کی طرف منہ کرو۔‘‘[2]
ہاں خوف یا بیماری یا اسی انداز کے کسی اور عذر کی بنا پر یہ شرط ساقط ہو جائے گی۔جیسا کہ مسافر سواری کی پیٹھ پر بیٹھ کرنفل ادا کر سکتا ہے،خواہ اس کا چہرہ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اورطرف،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا گیا کہ جب آپ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف آرہے تھے تو آپ سواری پر نماز پڑھ رہے تھے،خواہ سواری کا رخ جدھر بھی ہوتا۔[3]