اللہ تعالیٰ پر ایمان
قرآن و سنت سے دلائل
یہ موضوع انتہائی اہم اور قدر و منزلت کا حامل ہے کیونکہ مسلمان کی زندگی کا دار و مدار اسی پر ہے اور اس کا سانچہ اسی کے مطابق ڈھلتا ہے،لہٰذا اسے ایک مسلمان کی زندگی میں ’’اصل الاصول‘‘ کی حیثیت حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ پر ایمان کس طرح لایا جائے؟ ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کے بارے میں یقین کامل رکھتا ہے کہ وہ موجود ہے اور وہی آسمانوں اور زمین کا بنانے والا،پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا،ہر چیز کا رب اور مالک ہے۔اس کے سوا کوئی حقیقی معبود اور اس کے علاوہ کوئی پالنے والا نہیں ہے۔وہ صاحبِ عظمت و جلال،جملہ صفاتِ کاملہ سے متصف اور ہر عیب و نقص سے مبرا ذات ہے۔مسلمانوں کو یہ عقیدہ محض اللہ تعالیٰ کی ہدایت و توفیق اور پھر درج ذیل عقلی اور نقلی[1] دلائل ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔
قرآن و سنت سے دلائل:
1: قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی،مخلوق کی نشوونما اور اپنے اسماء و صفات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ارشاد ہے:
﴿إِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴿٥٤﴾
’’بے شک تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا،پھر وہ عرش پر مستوی ہوا،وہی دن کو رات سے ڈھانپتا ہے کہ وہ تیزی سے اس کے پیچھے(چلی آتی)ہے اور(اسی نے)سورج،چاند اور تارے پیدا کیے،ایسے طور پر کہ سب اسی کے حکم کے تابع ہیں،دیکھو(یہ سب)اسی کی تخلیق ہے اور حکم(بھی)اسی کا ہے۔بڑی ہی برکتوں والا ہے اللہ جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘[2]
اور جب وادیٔ طویٰ کے دائیں کنارے پر مبارک خطے میں درخت سے اپنے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام کو پکارا تو فرمایا: ﴿يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴿٣٠﴾’’اے موسیٰ!یقینا میں ہی اللہ ہوں،سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘[1]
نیز فرمایا:﴿إِنَّنِي أَنَا اللّٰهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴿١٤﴾
’’بے شک میں ہی اللہ ہوں،میرے سوا کوئی معبود نہیں،لہٰذا میری عبادت کر اور میرے ذکر کے لیے نماز پڑھا کر۔‘‘[2]
اپنی عظمت کا اظہار اور اپنے اسماء و صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
﴿هُوَ اللّٰهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ﴿٢٢﴾هُوَ اللّٰهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللّٰهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴿٢٣﴾هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴿٢٤﴾
’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی(حقیقی)معبود نہیں،تمام چھپی اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا،وہی بہت رحم کرنے والا(اور)نہایت مہربان ہے۔وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی(برحق)معبود نہیں،بادشاہ(حقیقی،عیبوں سے)پاک،سلامتی والا،امن دینے والا،نگہبان،(سب پر)غالب،زبردست اور بڑائی والا ہے۔اللہ ان سے پاک ہے جو یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔وہی اللہ بنانے والا،پیداکرنے والا اور صورتیں بنانے والا ہے،اسی کے نام سب سے اچھے ہیں،آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اس کی تسبیح کرتی ہے اور وہ(سب پر)غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘[3]
اپنی تعریف میں فرمایا:﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴿٢﴾الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ﴿٣﴾مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴿٤﴾
’’ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے،بہت رحم کرنے والا،نہایت مہربان(اور)جزا کے دن کا مالک ہے۔‘‘[4]
مسلمانوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:﴿إِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴿٩٢﴾
’’یقینا یہ تمھاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں(تنہا)تمھارا رب ہوں،لہٰذا تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘[5]
سورئہ مؤمنون میں فرمایا:﴿وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ﴿٥٢﴾’’اور میں تمھارا پالنہار ہوں،لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔‘‘[6]
آسمانوں اور زمین میں اپنے ماسوا کسی دوسرے حقیقی رب یا معبود کے موجود ہونے کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ﴿٢٢﴾
’’اگر ان(زمین و آسمان)میں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور بھی(سچے)معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے۔سو اللہ،عرش کا رب ان باتوں سے پاک ہے جو یہ(مشرک)بیان کرتے ہیں۔‘‘[7]
2: تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل علیہم السلام نے اللہ کی ہستی اور ساری کائنات کے لیے اس کی ربوبیت کی خبر دی ہے کہ وہی ان کا خالق ہے اور اسی کا ان میں تصرف ہے۔مزید ان انبیاء ورسل علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی بھی خبر دی ہے۔اللہ جل جلالہ نے ہر نبی اور رسول کے پاس اپنا قاصد بھیجا یا اس سے ہم کلام ہوا یا اس کے دل میں القا کیا جس سے اسے اللہ تعالیٰ کے کلام اور وحی کا یقین ہوا۔
مخلوقات میں سے برگزیدہ انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو،جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود کی خبر دی ہے،جھٹلا دینا عقلاً محال ہے اور یہ بھی ممکن نہیں کہ انھوں نے جھوٹ پر اتفاق کر لیا ہو یا بغیر تحقیق و علم اور بلا یقین و جزم ایک غیر محقق و غیرمستند بات کا اعلان کر دیا ہو،جبکہ انبیاء کا یہ گروہ پاکبازی،عقل و دانش اور سچائی میں تمام انسانوں سے فائق اور برتر ہے۔
3: کروڑوں انسان اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں،اس کی عبادت کرتے ہیں،جبکہ انسانی مزاج میں ہے کہ ایک یا دو آدمیوں کی خبر کا بھی اعتبار کر لیا جاتا ہے،علاوہ ازیں یہ جس ذات پر ا یمان رکھتے،اس کی خبر دیتے،اس کی عبادت کرتے اور اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں،عقل و فطرت بھی اس کی صحت کی گواہی دیتی ہے۔
4: لاکھوں علماء نے بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات و اسماء اور ہر چیز کے لیے اس کی ربوبیتِ عامہ و قدرتِ کاملہ کا اعتراف کیا ہے اور اسی بنیاد پر اس کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں اور محبت و بغض کا معیار بھی اسی کو گردانتے ہیں۔