نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا
حضرت ابو بکر ؓ کا مشقتیں برداشت کرنا
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب حضور اَقدس ﷺ کے مرد صحابہ ؓ کی تعداد اَڑتیس ہوگئی تو وہ ایک دفعہ اِکھٹے ہوئے اور حضرت ابو بکر ؓ نے حضور ﷺ سے اس بات کا اِصرار کیا کہ اب کھل کر اِسلام کی دعوت دی جائے۔ آپ نے فرمایا: اے ابو بکر! ابھی ہم لوگ تھوڑے ہیں۔ لیکن حضرت ابو بکر اِصرار کرتے رہے جس پر حضور ﷺ نے کھلم کھلا دعوت دینے کی اجازت دے دی۔ چناںچہ مسلمان مسجدِ (حرام) کے مختلف حصوں میں بکھر گئے اور ہر آدمی اپنے قبیلہ میں جاکربیٹھ گیا اور حضرت ابو بکر لوگوں میں بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور حضور ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو بکر اِسلام میں سب سے پہلے بیان کرنے والے ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف (کھلم کھلا کھڑے ہوکر) دعوت دی تو مشرکین حضرت ابوبکر اور مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور مسجد ِ(حرام )کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کو خوب مارا گیا اور حضرت ابوبکر کو توخوب مارا بھی گیا اور پاؤں تلے روندا بھی گیا۔ عتبہ بن ربیعہ فاسق حضرت ابوبکر کے قریب آکر اُن کو کئی تلے والے دو جوتوں سے مارنے لگا، جن کو اُن کے چہرے پر ٹیڑھا کرکے مارتا تھا اور حضرت ابوبکر کے پیٹ پر کودتا بھی تھا (زیادہ مار کھانے کی وجہ سے اتنا وَرم آگیا تھا) کہ اُن کا چہرہ اور ناک پہچانا نہیں جا رہا تھا۔
(حضرت ابو بکر کے قبیلہ) بنو تیم والے دوڑتے ہوئے آئے اور حضرت ابوبکرسے مشرکین کو ہٹایا اور اُن کو ایک کپڑے میں ڈال کر ان کے گھر لے گئے اور انھیں حضرت ابو بکر کے مرجانے میں کوئی شک نہیں تھا۔ پھر قبیلہ بنو تیم نے مسجدِ (حرام) میں واپس آکر کہا کہ اللہ کی قسم! اگر ابوبکر مرگئے تو ہم (اُن کے بدلے میں) عتبہ بن ربیعہ کو مار ڈالیں گے۔ پھر قبیلہ والے حضرت ابوبکر کے پاس واپس آئے۔ (حضرت ابو بکر کے والد)ابو قحافہ اور قبیلہ بنو تیم والے اُن سے بات کرنے کی کوشش کرتے رہے (لیکن وہ بے ہوش تھے ، انھوں نے سارا دن کوئی جواب نہ دیا) تو دن کے آخر میں (ہوش آنے پر) حضرت ابو بکر نے بات کی تو یہ کہا کہ رسول اللہ (ﷺ) کا کیا ہوا؟ تو وہ لوگ حضرت ابوبکر کو برا بھلا کہنے لگے اور انھیں ملامت کرنے لگے اور اُٹھ کر چل دیے اور اُن کی والدہ اُمّ خیر سے کہہ گئے کہ اُن کا دھیان رکھیں اور انھیں کچھ کھلا پلا دیں۔ جب وہ لوگ چلے گئے اور اُن کی والدہ اکیلی رہ گئیں تو وہ (کھانے پینے کے لیے) اِصرار کرنے لگیں، مگر حضرت ابو بکریہی پوچھتے رہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کیا ہوا؟ ان کی والدہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تمہارے حضرت کی کوئی خبر نہیں۔ تو حضرت ابو بکر نے کہا کہ آپ اُمّ جمیل بنتُ الخطّاب کے پاس جائیں اور اُن سے حضور ﷺ کے بارے میں پوچھ کر آئیں ۔ چناںچہ وہ اُمّ جمیل کے پاس گئیں اور ان سے کہا کہ ابو بکر تم سے محمد بن عبداللہ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ اُمّ جمیل نے کہا: میں نہ تو ابو بکر کو جانتی ہوں اور نہ محمد بن عبداللہ کو۔ ہاں! اگر تم کہو تو میں تمہارے ساتھ تمہارے بیٹے کے پاس چلی چلتی ہوں؟ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چناںچہ حضرت اُمّ جمیل ان کے ساتھ ان کے گھر آئیں تو دیکھا کہ حضرت ابو بکر زمین پر لیٹے ہوئے ہیں (ان میں بیٹھنے کی بھی سکت نہیں ہے) اور سخت بیمار ہیں۔ حضرت اُمّ جمیل اُن کے قریب جاکر زور زور سے رونے لگیں اور انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کو جن لوگوں نے یہ تکلیف پہنچائی ہے وہ بڑے فاسق اور کافر لوگ ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن سے آپ کا بدلہ ضرور لے گا۔ حضرت ابو بکر نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا کیا بنا؟ حضرت اُمّ جمیل نے کہا: یہ آپ کی والدہ سن رہی ہیں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: ان سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حضرت اُمّ جمیل نے کہا کہ حضور ﷺ ٹھیک ٹھاک ہیں۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ حضور ﷺ کہاں ہیں؟ انھوں نے کہا کہ دارِاَ رقم میں (حضرت اَر قم کے گھر میں )۔ تو حضرت ابو بکر نے کہا: اللہ کی قسم! جب تک میں حضور ﷺ کی خدمت میں خود حاضر نہ ہو جاؤں اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گا نہ پیوں گا ۔
حضرت اُمّ خیر اور حضرت اُمّ جمیل دونوں ٹھہری رہیں یہاں تک کہ (کافی رات ہوگئی اور) لوگوں کا چلنا پھر نا بند ہوگیا۔ پھر یہ دو نوں حضرت ابو بکر کو سہارا دیتے ہوئے لے کر چلیں، یہاں تک کہ حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئیں۔ حضور ﷺ حضرت ابو بکر کو دیکھ کر اُن پر جھک گئے اور اُن کا بوسہ لیا اور سارے مسلمان بھی اُن پر جھک گئے اور اُن کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اور اُن کی یہ حالت دیکھ کر حضور ﷺ پر انتہائی رِقّت طاری ہوگئی۔ حضرت ابو بکر نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! مجھے اور تو کوئی تکلیف نہیں ہے، بس اس فاسق نے میرے چہرے کو بڑی تکلیف پہنچائی ہے۔ اور یہ میری والدہ ہیں جو اپنے بیٹے کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہیں اور آپ بہت برکت والے ہیں، آپ میری والدہ کو اللہ کی طرف دعوت دیں اور ان کے لیے اللہ سے دعا کریں شاید اللہ تعالیٰ ان کو آپ کے ذریعہ آگ سے بچا دے۔ چناںچہ حضورﷺ نے اُن کے لیے دعا فرمائی اور اُن کو اللہ کی دعوت دی اور وہ مسلمان ہوگئیں۔ اور صحابۂ کرام ؓ حضورﷺ کے ساتھ اس گھر میں ٹھہرے رہے اور ان کی تعداد اُنتالیس تھی۔ جس دن حضرت ابوبکر کو مارا گیا اس دن حضرت حمزہ بن عبد المطّلب ؓ مسلمان ہوئے تھے۔ اور حضور ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ اور ابو جہل بن ہشام (کی ہدایت)کے لیے دعا مانگی تھی جوحضرت عمر کے حق میں قبول ہوئی۔ آپ نے بدھ کے دن دعا کی تھی اور حضرت عمر جمعرات کو مسلمان ہوئے تھے۔ ( ان کے مسلمان ہونے پر) حضور ﷺ اور گھر میں موجود صحابہ نے اس زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا جس کی آواز مکہ کے اوپر والے حصہ میں بھی سنائی دی۔
حضرت اَرقم ؓ کے والد نابینا کا فر تھے، وہ یہ کہتے ہوئے باہر آئے کہ اے اللہ! میرے بیٹے اور اپنے چھوٹے سے غلام اَرقم کی مغفرت فرما کیوں کہ وہ کافر ہوگیا (یعنی انھوں نے اِسلام کا نیا دین اختیار کر لیا ہے)۔ حضرت عمر نے کھڑے ہوکر کہا: یا رسول اللہ! ہم اپنا دین کیوں چھپائیں جب کہ ہم حق پر ہیں اور ان کافروں کا دین کھلم کھلا ظاہر ہوجب کہ وہ نا حق پر ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے عمر! ہم تھوڑے ہیں، ہمیں جو تکلیف اٹھانی پڑی ہے وہ تم نے دیکھ ہی لی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کوحق دے کر بھیجاہے! میں جتنی مجلسوںمیں کفر کی حالت میں بیٹھا ہوں میں اُن تمام مجلسوں میں جاکر ایمان کو ظاہر کروں گا۔ چناںچہ وہ ( دارِاَ رقم سے) باہر نکلے اور بیت اللہ کا طواف کیا، پھر قریش کے پاس سے گزرے جو اُن کا انتظار کر رہے تھے۔ ابوجہل بن ہشام نے (دیکھتے ہی) کہا: فلاں آدمی کہہ رہا تھا کہ تم بے دین ہوگئے ہو۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ مشرکین (یہ سن کر) حضرت عمر کی طرف جھپٹے۔ حضرت عمر نے حملہ کرکے عتبہ کو نیچے گرا لیا اور اس پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے اور اسے مارنے لگے اور اپنی انگلی اس کی دونوں آنکھوں میں ٹھونس دی۔ عتبہ چیخنے لگا، لوگ پرے ہٹ گئے۔ پھر حضرت عمر کھڑے ہوگئے۔ جب بھی کوئی سُورما آپ کے قریب آنے لگتا تو آپ قریب آنے والوں میں سے سب سے زیادہ باعزت آدمی کو پکڑ لیتے (اور اس کی خوب پٹائی کرتے) یہاں تک کہ سب لوگ (حضرت عمر سے) عاجز آگئے ۔ اور وہ جن مجلسوں میں بیٹھا کرتے تھے ان تمام مجلسوں میں جاکر انھوں نے ایمان کا اعلان کیا اور یوں کفار پرغالب آکر حضور ﷺ کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اب آپ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میں جتنی مجلسوںمیں حالتِ کفر میں بیٹھا کرتا تھا میں ان تمام مجلسوں میں جاکر بے خوف وخطر اپنے ایمان کا اعلان کرکے آیا ہوں۔ پھر حضور ﷺ باہر تشریف لائے اور آپ کے آگے آگے حضرت عمر اور حضرت حمزہ بن عبدالمطّلب تھے، یہاں تک کہ آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور اطمینان سے ظہر کی نماز ادا فرمائی، پھر حضرت عمر کے ہمراہ دارِاَرقم واپس تشریف لائے۔ اس کے بعد حضرت عمر اکیلے واپس چلے گئے اور ان کے بعد حضور ﷺ بھی واپس تشریف لے گئے۔ صحیح قول یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ بعثتِ نبوی کے چھ سال کے بعد اس وقت مسلمان ہوئے تھے جب کہ صحابۂ کرام ہجرت فرما کر حبشہ جا چکے تھے۔1
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالا اپنے والدین کو اسی دینِ اِسلام پر پایا، اور روزانہ حضور ﷺ صبح اور شام دونوں وقت ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے۔ جب مسلمانوں پر بہت زیادہ ظلم ہونے لگا تو حضرت ابو بکر ؓ سر زمینِ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے اِرادے سے چل پڑے۔ جب آپ برک الغِمَاد پہنچے تو وہاں قبیلہ قارہ کے سردار ابنِ دَغِنہ سے ملاقات ہوئی۔ ا س نے پوچھا: اے ابو بکر! کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت ابو بکر نے کہا: مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے، اب میرا ارادہ ہے کہ میں زمین کی سیاحت کروں اور اپنے ربّ کی عبادت کروں۔ ابنِ دَغِنہ نے کہا: تمہارے جیسے آدمی کو نہ خود نکلنا چاہیے اور نہ اس کو نکالنا چاہیے،کیوں کہ تم نایاب چیزیں حاصل کرکے لوگوں کو دیتے ہو اور صلہ رحمی کرتے ہو، ضرورت مندوں کابوجھ اٹھاتے ہو اور مہمان نوازی کرتے ہو اور مصائب میں مدد کرتے ہو۔ میں تمہیں پناہ دیتا ہوں۔ تم واپس چلو اور اپنے شہر میں اپنے رب کی عبادت کرو۔ چناںچہ حضرت ابوبکر واپس آگئے اور ابنِ دَغِنہ بھی آپ کے ساتھ آیا اور شام کے وقت ابنِ دَغِنہ نے قریش کے سرداروں کے پاس چکر لگایا اور اُن سے کہا کہ ابو بکر جیسے آدمی کو نہ خود (مکہ سے) جانا چاہیے، اور نہ کسی کو ان کو نکالنا چاہیے۔ کیا تم ایسے آدمی کو نکالتے ہو جو نایاب چیزیں حاصل کرکے لوگوں کو دیتا ہے اور صلہ رحمی کرتا ہے اور ضرورت مندوں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور مہمان نوازی کرتا ہے اور مصائب میں مدد کرتا ہے ؟
قریش ابنِ دَغِنہ کے پناہ دینے کا اِنکار نہ کرسکے اور انھوں نے ابنِ دَغِنہ سے کہا کہ ابو بکر سے کہہ دو کہ وہ اپنے ربّ کی عبادت اپنے گھر میں کریں، وہاں ہی نماز پڑھا کریںاور وہاں جتنا چاہیں قرآن شریف پڑھیں،اور علی الاعلان عبادت کرکے اور بلند آواز سے قرآن پڑھ کر ہمیں تکلیف نہ پہنچائیں، کیوں کہ ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہماری عورتوں اور بچوں کو فتنہ میں ڈال دیںگے۔ ابنِ دَغِنہ نے یہ بات حضرت ابو بکر کو کہہ دی۔ کچھ عرصہ تک تو حضرت ابو بکر ایسے ہی کرتے رہے کہ اپنے گھر میں ہی اپنے ربّ کی عبادت کرتے اور اپنی نماز میں آواز اونچی نہ کرتے اور اپنے گھر کے علاوہ کہیں بھی اونچی آواز سے قرآن نہ پڑھتے۔ پھر حضرت ابو بکر کو خیال آیا تو انھوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنالی اور اس میں نماز پڑھنے لگے اور قرآن اونچی آواز سے پڑھنے لگے تو مشرکوں کی عورتیں اور بچے حضرت ابوبکر پر ٹوٹ پڑے۔ وہ انھیں دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے، کیوں کہ حضرت ابو بکر بہت زیادہ رونے والے آدمی تھے۔ جب وہ قرآن پڑھا کرتے تو انھیں اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہتا (اور بے اختیا ر رونے لگ جاتے ) تو اس سے قریش کے مشرک سردار گھبرا گئے۔ انھوں نے ابنِ دَغِنہ کے پاس آد می بھیجا۔
چناںچہ ابنِ دَغِنہ اُن کے پاس آئے تو مشرکینِ قریش نے ان سے کہا: ہم نے ابوبکر کو اس شرط پر تمہاری پناہ میں دیا تھا کہ وہ اپنے گھر میں اپنے ربّ کی عبادت کریں گے، لیکن انھوںنے اس شرط کی خلاف ورز ی کی ہے اور اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنالی ہے جس میں علی الا علان نماز پڑھتے ہیں اور قرآن اونچی آواز میں پڑھتے ہیں، ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہماری عورتوں اور بچوں کو فتنہ میں ڈال دیں گے، آپ ان کو ایسا کرنے سے روک دیں۔ اگر وہ اپنے گھر میں اپنے ربّ کی عبادت کرنا چاہیں تو ٹھیک ہے، اور اگر وہ علی الا علان سب کے سامنے عبادت کر نے پر مُصِر ہوں تو آپ اُن سے کہیں کہ وہ آپ کی پناہ آپ کو واپس کردیں، کیوں کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم آپ کے عہد کو توڑیں اور یوں علی الا علان اونچی آواز سے قرآن پڑھنے کی ہم ابو بکر کو اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ابنِ دَغِنہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ جس شرط پر میں نے تم کو اپنی پناہ میں لیا تھا وہ شرط تمہیں معلوم ہے۔ یا تو آپ وہ شرط پوری کریں، یا میری پناہ مجھے واپس کر دیں کیوں کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ عرب کے لوگ یہ سنیں کہ میں نے جس آدمی کو پناہ دی تھی وہ پناہ توڑ دی گئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: میں تمہاری پناہ کو واپس کرتا ہوں اور اللہ عزّوجل کی پناہ پر راضی ہوں۔ آگے ہجرت کے بارے میں لمبی حدیث ذکر کی ہے۔1
ابنِ اسحاق نے اس حدیث کو اس طرح روایت کیا کہ حضرت ابوبکر ؓ ہجرت کے ارادے سے (مکہ سے) روانہ ہوئے۔ ایک یا دو دن سفر کیا ہی تھا کہ اُن کی ابنِ دَغِنہ سے ملاقات ہوئی اور وہ ان دنوں اَحابِیش ( قبیلہ قارہ کے مختلف خاندانوں) کے سردار تھے۔ انھوں نے پوچھا کہ اے ابو بکر! کہاں جا رہے ہو ؟ انھوں نے کہا: میری قوم نے مجھے نکال دیا، مجھے بہت تکلیف پہنچائی اور انھوں نے میرے لیے (مکہ میں زندگی گزارنا) تنگ کردیا ۔ ابنِ دَغِنہ نے کہا: کیوں؟ اللہ کی قسم! تم سارے خاندان کی زینت ہو، تم مصائب میں مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہو اور بھلے کام کرتے ہواور نایاب قیمتی چیزیں حاصل کرکے دوسروں کو دیتے ہو ۔ تم (مکہ) واپس چلو (آج سے) تم میری پناہ میں ہو۔ چناںچہ حضرت ابوبکر ؓ ابنِ دَغِنہ کے ساتھ (مکہ) واپس آگئے اور وہاں ابنِ دَغِنہ نے حضرت ابوبکر کے ساتھ کھڑے ہوکر اعلان کیا: اے جماعتِ قریش! میں نے ( ابوبکر ) ابنِ ابی قحافہ کو پناہ دے دی، لہٰذا اب ہر ایک ان سے اچھا ہی سلوک کرے۔ چناںچہ مشرکین نے حضرت ابوبکر کو تکلیف پہنچانی چھوڑ دی۔
اور اس روایت کے آخر میں یہ ہے کہ ابنِ دَغِنہ نے کہا: اے ابوبکر! میں نے تم کو اس لیے پناہ نہیں دی تھی کہ تم اپنی قوم کو تکلیف پہنچاؤ اور تم جس جگہ (یعنی گھر کا صحن جہاں آج کل عبادت کرتے ) ہو اسے وہ نا پسند کرتے ہیں اور انھیں اس وجہ سے تمہاری طرف سے تکلیف پہنچ رہی ہے۔ تم اپنے گھر کے اندر رہو اور وہاں جو چاہو کرو۔ حضرت ابوبکر نے کہا: کیا میں تمہاری پناہ تمہیں واپس کر دوں اور اللہ تعالیٰ کی پناہ پر راضی ہوجاؤں ؟ ابنِ دَغِنہ نے کہا: آپ مجھے میری پناہ واپس کردیں۔ حضرت ابوبکر نے کہا: میںنے تمہاری پناہ تمہیں واپس کردی۔ چناںچہ ابنِ دَغِنہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اعلان کیا: اے جماعتِ قریش! ابنِ ابی قحافہ نے میری پناہ مجھے واپس کر دی ہے، اب تم اپنے ساتھی کے ساتھ جو چاہو کرو ۔1
ابنِ اسحاق نے ہی حضرت قاسم سے اس طرح روایت کیا ہے کہ جب حضرت ابو بکر ؓ ابنِ دَغِنہ کی پناہ سے باہر آگئے تو وہ کعبہ کی طرف جا رہے تھے کہ انھیں راستہ میں قریش کا ایک بے وقوف ملا جس نے اُن کے سر پر مٹی ڈالی۔حضرت ابوبکر کے پاس سے ولید بن مغیرہ یا عاص بن وائل گزرا، اس سے حضرت ابوبکر نے کہا: تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ یہ بے وقوف میرے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ اس نے کہا: یہ تو تم خود اپنے ساتھ کر رہے ہو۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اے میرے ربّ! تو کس قدر حلیم ہے۔ اے میرے ربّ! تو کس قدر حلیم ہے۔ اے میرے ربّ! تو کس قدر حلیم ہے۔2
صفحہ ۳۵۶ پر حضرت اسماء ؓکی حدیث گزر چکی ہے کہ چیخ و پکار کی آواز حضرت ابو بکر ؓ تک پہنچی۔ لوگوں نے اُن سے کہا: اپنے حضرت کو بچالو۔ حضرت ابو بکرہمارے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ اُن کی چار زلفیں تھیں اور وہ یہ کہتے جارہے تھے کہ تمہارا ناس ہو! کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور لایا ہے تمہارے پاس کھلی نشانیاں تمہارے رب کی۔ وہ حضور ﷺ کو چھوڑ کر حضرت ابو بکر پر ٹوٹ پڑے۔ پھر حضرت ابو بکر ہمارے پاس واپس آئے (اور کافروں نے آپ کو اتنا مارا تھاکہ )جس زلف کو بھی پکڑ تے وہ ہاتھ میں آجاتی (یعنی سر کے بال چوٹوں کی وجہ سے جھڑنے لگ گئے تھے)۔ اور وہ فرمارہے تھے:
تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ! تو بہت برکت والا ہے اے بڑائی اور عظمت والے!