صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
دشمن کی تعداد اور ان کے سامان کے زیادہ ہونے کی طرف توجہ نہ کرنا
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: میں غزوۂ موتہ میں شریک ہوا۔ جب مشرکین ہمارے قریب پہنچے تو ہمیں بہت زیادہ سامان، ہتھیار، گھوڑے، ریشمی کپڑے اور سونا نظر آیا، اور یہ سب کچھ اتنا زیادہ تھا کہ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ اسے دیکھ کر میری تو آنکھیں چندھیا گئیں۔ مجھے یوں متأثر ہوتا ہوا دیکھ کر حضرت ثابت بن اَقرم ؓ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! ایسے نظر آرہا ہے کہ تم بہت زیادہ لشکر دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا:جی ہاں۔ انھوں نے فرمایا: تم ہمارے ساتھ غزوہ ٔبدر میں نہیں تھے، تعداد یا سامان کی کثرت کی وجہ سے ہماری مدد نہیں ہوئی تھی۔ 2
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کو یہ خط لکھا:
سلام علیک! اما بعد، آپ کا خط میرے پاس آیا جس میں آپ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ رومیوں نے بہت زیادہ لشکر جمع کرلیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ ہماری مدد سامان یا لشکر کی کثرت کی وجہ سے نہیں کی تھی۔ ہم حضورﷺ کے ساتھ غزوات میں جایاکرتے تھے اور ہمارے پاس صرف دو گھوڑے ہوتے تھے اور اونٹ بھی ضرورت سے کم ہوتے تھے اس لیے ان پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ اور جنگِ اُحد کے دن ہم حضورﷺ کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس صرف ایک گھوڑا تھا جس پر حضورﷺ سوار تھے۔ اس بے سروسامانی میں اللہ تعالیٰ مخالفوں کے خلاف ہماری مدد کرتے تھے۔ اے عمرو! آپ کو معلوم ہوناچاہیے کہ اللہ کی سب سے زیادہ ماننے والا وہ ہے جو گناہوں اور معاصی سے سب سے زیادہ نفرت کرنے والاہے، لہٰذا آپ اللہ کی اطاعت کرو اور اپنے ساتھیوں کو اس کی اطاعت کا حکم کرو۔ 1
حضرت عُبادہ اور حضرت خالد ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت خالد ؓ سے کہا: رومی کتنے زیادہ ہیں اور مسلمان کتنے کم ہیں۔ حضرت خالد ؓ نے فرمایا: نہیں، رومی کتنے کم ہیں اور مسلمان کتنے زیادہ ہیں۔ لشکر کا کم زیادہ ہونا آدمیوں کی تعداد سے نہیں ہوتا، بلکہ جس لشکر کو اللہ کی مدد حاصل ہو وہ زیادہ ہے اور جو اللہ کی مدد سے محروم ہو وہ کم ہے۔ (میں عراق سے شام تک کا سفر بڑی تیزی سے کرکے آیاہوں، اس لیے) زیادہ چلنے کی وجہ سے میرے گھوڑے اَشقر کے کھر گھس گئے ہیں اور اس کے کھروں میں درد ہورہاہے۔ کاش! میرا گھوڑا ٹھیک ہوتا اور ان رومیوں کی تعداد دگنی ہوتی تو پھر مزہ آتا۔ 2