صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

فضیلت والے اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا شوق

حضرت شقیق کہتے ہیں: ہم نے دن کے شروع میں جنگِ قادسیہ میں لڑائی شروع کی۔ جب ہم واپس آئے تو نماز کا وقت ہوچکاتھا اور مؤذن صاحب زخمی ہوچکے تھے، اس لیے ہر مسلمان یہ چاہنے لگا کہ اذان کی سعادت اسے ہی نصیب ہو اور اتنا تقاضا بڑھا کہ قریب تھا کہ آپس میں تلواروں سے لڑپڑیں۔ آخر حضرت سعدؓنے ان میں اذان کے لیے قرعہ اندازی کی اور ایک آدمی کا نام قرعہ میں نکلا اور اس نے اذان دی۔3