صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

صحابۂ کرام ؓ کو تکلیفیں پہنچانے کی وجہ سے نافرمانوں پر کیا کیا مصیبتیں آئیں

حضرت عباس بن سَہَل بن سعد ساعدی ؓ یا حضرت عباس بن سعد ؓ فرماتے ہیں: جب حضور ﷺ (حضرت صالح ؑ کی قوم ثمود کے علاقے) حِجر کے پاس سے گزرے او ر وہاں پڑائو ڈالا تو لوگوں نے وہاں کے کنوئیں سے پانی نکال کر برتنوں میں بھرلیا۔ جب وہاں سے آگے روانہ ہوئے تو حضورﷺ نے لوگوں سے فرمایا: اس کنوئیں کا پانی بالکل نہ پیو اور نہ اس سے نماز کے لیے وضو کرو اور اس کے پانی سے جو آٹا گوندھاہے وہ اونٹوں کو کھلا دو خود اسے بالکل نہ کھائو۔ آج رات جو بھی باہر نکلے وہ اپنے ساتھ اپنے کسی ساتھی کو ضرور لے کر جائے اکیلا نہ نکلے۔ تمام لوگوں نے حضورﷺ کی تمام باتوں پر عمل کیا۔ البتہ قبیلۂ بنو ساعدہ کے دو آدمی اکیلے باہر نکل گئے، ایک قضائے حاجت کے لیے گیا تھا دوسرا اپنا اونٹ ڈھونڈنے گیا تھا۔ جو قضائے حاجت کے لیے گیاتھا راستہ میں اس کا کسی (جنّ) نے گلا گھونٹ دیا اور جو اپنے اونٹ ڈھونڈنے گیاتھا اسے آندھی نے اٹھاکر قبیلۂ طے کے دو پہاڑوں کے درمیان (یمن میں) جا پھینکا۔ جب حضورﷺ کو ان دونوں کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے فرمایا: ساتھی کے بغیر اکیلے باہر نکلنے سے کیا تم لوگوں کو منع نہیں کیاتھا؟ پھر آپ نے اس کے لیے دعافرمائی، جس کا راستہ میں کسی نے گلا گھونٹا وہ ٹھیک ہوگیا، دوسراآدمی تبوک سے حضورﷺ کے پاس پہنچا۔ 1 ابنِ اِسحاق سے زیاد نے جوروایت کی ہے اس میں یہ ہے کہ جب حضورﷺ مدینہ منورہ واپس پہنچے تو قبیلۂ طے والوں نے اس آدمی کو حضورﷺ کے پاس بھیجا۔2 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضرت عثمان ؓ منبر پر بیان فرمارہے تھے، حضرت جہجاہ غِفاری ؓ نے کھڑے ہوکر حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ سے لاٹھی لی اور اس زور سے ان کے گھٹنے پر ماری کہ گھٹنا پھٹ گیا اور لاٹھی بھی ٹوٹ گئی۔ ابھی سال بھی نہیں گزراتھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جہجاہ کے ہاتھ پر جسم کو کھاجانے والی بیماری لگادی جس سے ان کا انتقال ہوگیا۔ 3 ابنِ سَکَن کی روایت میں ہے کہ حضرت جہجاہ بن سعید غِفاری ؓ اُٹھ کر حضرت عثمان ؓ کی طرف گئے اور ان کے ہاتھ سے چھڑی لے لی اور حضرت عثمان ؓ کے گھٹنے پر اس زور سے ماری کہ وہ ٹوٹ گئی، اس پر لوگوں نے شور مچادیا۔ حضرت عثمان ؓ منبر سے اُترکر اپنے گھر تشریف لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت غِفاری ؓ کے گھٹنے میں بیماری پیداکردی اور سال گزرنے سے پہلے ہی اسی بیماری میں ان کا انتقال ہوگیا۔ حضرت عبد الملک بن عمیر کہتے ہیں: مسلمانوں میں سے ایک آدمی حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے پاس آیا اور اس نے یہ شعر پڑھے (حضرت سعد ؓ بیماری کی وجہ سے اس لڑائی میں شریک نہیں ہوسکے تھے جس پر اس نے یہ اشعار طنزاً پڑھے): نُقَاتِلُ حَتَّی یُنْزِلَ اللّٰہُ نَصْرُہٗ وَسَعْدٌ بِبَابِ الْقَادِسِیَّۃِ مُعْصِمُ فَأُبْنَا وَقَدْ اٰمَتْ نِسَائٌ کَثِیْرَۃٌ وَنِسْوَۃُ سَـعْدٍ لَـیْسَ فِـیْھِنَّ أَیِّـمُ ہم تو اس لیے جنگ کررہے تھے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی مدد نازل کردے ا ور (حضرت) سعد قادسیہ کے دروازے سے چمٹے کھڑے رہے۔ جب ہم واپس آئے تو بہت سی عورتیں بیوہ ہوچکی تھیں، لیکن (حضرت) سعد کی بیویوں میں سے کوئی بھی بیوہ نہیں ہوئی۔ جب حضرت سعد ؓ کو ان شعروں کا پتا چلا تو انھوں نے ہاتھ اٹھاکر یہ دعا مانگی: اے اللہ! اس کی زبان اور ہاتھ کو مجھ سے تو جس طرح چاہے روک دے۔ چناںچہ جنگ قادسیہ کے دن اسے ایک تیر لگا جس سے اس کی زبان بھی کٹ گئی اور ہاتھ بھی کٹ گیا اور وہ قتل بھی ہوگیا۔ 1 حضرت قبیصہ بن جابرکہتے ہیں: ہمارے ایک چچا زاد بھائی نے جنگِ قادسیہ کے موقع پر (حضرت سعد ؓ پر طنز کرنے کے لیے) یہ دوشعر کہے جوگزر گئے، البتہ پہلے شعر میں الفاظ دوسرے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اپنی مدد کو کیسے اتارا؟ جب حضرت سعد ؓ کو ان اشعار کا پتا چلا تو انھوں نے فرمایا: خداکرے اس کی زبان اور ہاتھ بے کار ہوجائیں۔ چناںچہ ایک تیر اس کے منہ پر لگا جس سے وہ گونگا ہوگیا پھر جنگ میں اس کا ہاتھ بھی کٹ گیا۔ اپنا عذر لوگوں کو بتانے کے لیے حضرت سعد نے فرمایا: مجھے اٹھاکر دروازے کے پاس لے چلو۔ چناںچہ لوگ انھیں اٹھاکر باہر لائے پھر انھوں نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا تو اس پر بہت سے زخم تھے جنھیں دیکھ کر تمام لوگوں کو پورایقین ہوگیا کہ یہ واقعی معذور تھے اور کوئی بھی انھیں بزدل نہیں سمجھتاتھا۔ 2 اپنے بڑوں کی وجہ سے ناراض ہونے کے باب میں (طبرانی والی) حضرت عامر بن سعد کی روایت میں حضرت سعد ؓ کا حضرت علی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ؓ کو برا بھلا کہنے والے کو بددعا دینا بھی گزرچکا ہے جس میں یہ بھی ہے کہ ایک بختی اونٹنی تیزی سے آئی لوگ اسے دیکھ کر ادھرادھر ہٹ گئے اس اونٹنی نے اس آدمی کو روندڈالا۔ اور حضرت قیس بن ابی حازم ؓ کی روایت میں حضرت سعد ؓ کا حضرت علی ؓ کو برابھلا کہنے والے کے لیے بددعا کرنا بھی گزرچکاہے جس میں یہ بھی ہے کہ ہمارے بکھرنے سے پہلے ہی اللہ کی قدرت ظاہر ہوئی اور اس کی سواری کے پائوں زمین میں دھنسنے لگے جس سے وہ سرکے بل ان پتھروں پر زور سے گرا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور اس کا بھیجا باہر نکل آیا اور وہ وہیں مرگیا۔ ابو نُعَیم کی روایت میں ہے کہ حضرت سعید بن مسیّب فرماتے ہیں کہ ایک بھڑکاہوا اونٹ آیا اور لوگوں کے درمیان میں سے گزر تاہوا اس آدمی کے پاس پہنچ گیا اور اسے مار کر نیچے گرایا اور پھر اس پر بیٹھ کر اپنے سینے سے اسے زمین پر رگڑتارہا یہاں تک کہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔ حضرت سعید بن مسیّب کہتے ہیں: میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ دوڑ تے ہوئے حضرت سعد ؓ کے پاس جارہے تھے اور کہہ رہے تھے: آپ کو دعا کا قبول ہونا مبارک ہو۔ 1 حضرت ابنِ شوذب کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ کو یہ خبر ملی کہ زیادحجازِ مقدَّس کا بھی والی بننا چاہتاہے۔ انھیں اس کی بادشاہت میں رہناپسند نہ آیا تو انھوں نے یہ دعا کی: اے اللہ! تو اپنی مخلوق میں سے جس کے بارے میں چاہتاہے اسے قتل کرواکر اس کے گناہوں کے کفارے کی صورت بنا دیتاہے، (زیاد) ابنِ سُمَیَّہ اپنی موت مرے قتل نہ ہو۔ چناںچہ زیادکے انگوٹھے میں اسی وقت طاعون کی گلٹی نکل آئی اور جمعہ آنے سے پہلے ہی مرگیا۔ 2 حضرت (عبدالجبار) بن وائل یا حضرت علقمہ بن وائل کہتے ہیں: جو کچھ وہاں (کربلا میں) ہواتھا میں اس موقع پر وہاں موجودتھا۔ چناںچہ ایک آدمی نے کھڑے ہوکر پوچھا: کیا آپ لوگوں میں حسین (ؓ) ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں ہیں۔ اس آدمی نے حضرت حسین ؓ کو گستاخی کے انداز میں کہا: آپ کو جہنم کی بشارت ہو۔ حضرت حسین نے فرمایا: مجھے دوبشارتیں حاصل ہیں: ایک تو نہایت مہربان ربّ وہاں ہوں گے، دوسرے وہ نبی ﷺ وہاں ہوں گے جو سفارش کریں گے اور ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔ لوگوں نے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں ابنِ جویرہ یا ابنِ جویزہ ہوں۔ حضرت حسین ؓ نے یہ دعاکی: اللہ! اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اسے جہنم میں ڈال دے۔ چناںچہ اس کی سواری زور سے بدکی جس سے وہ سواری سے اس طرح نیچے گراکہ اس کا پائوں رکاب میں پھنسارہ گیا اور سواری تیز بھاگتی رہی اور اس کا جسم اور سرزمین پر گھسٹتارہا جس سے اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے گرتے رہے۔ اللہ کی قسم! آخرمیں صرف اس کی ٹانگ رکاب میں لٹکی رہ گئی۔ 1 حضرت کلبی کہتے ہیں: حضرت حسین ؓ پانی پی رہے تھے ایک آدمی نے ان کو تیر مارا جس سے ان کے دونوں جبڑے شل ہوگئے، تو حضرت حسین ؓ نے کہا: اللہ تجھے کبھی سیراب نہ کرے۔ چناںچہ اس نے پانی پیا لیکن پیاس نہ بجھی۔ آخر اتنا پانی پیا کہ اس کا پیٹ پھٹ گیا۔ 2 عبیداللہ بن زیاد کا دربان بیان کرتاہے کہ جب عبیداللہ بن زیاد حضرت حسین ؓکو شہید کرکے آیا تو میں اس کے پیچھے محل میں داخل ہوا۔ میں نے دیکھا کہ محل میں ایک دم آگ بھڑک اٹھی جو اس کے چہرے کی طرف بڑھی، اس نے فوراً اپنی آستین چہرے کے سامنے کردی اور مجھ سے پوچھا: تم نے بھی یہ آگ دیکھی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: اسے چھپا کررکھنا کسی کو مت بتانا۔ 3 حضرت سفیان کہتے ہیں: میری دادی نے مجھے بتایا کہ قبیلہ جُعْفی کے دو آدمی حضرت حسین بن علی ؓکی شہادت کے وقت وہاں موجود تھے۔ ان میں سے ایک کی شرم گاہ اتنی لمبی ہوگئی تھی کہ وہ اسے لپیٹا کرتاتھا اور دوسرے کو اتنی زیادہ پیاس لگتی تھی کہ مشک کو منہ لگاکر ساری پی جایاکرتاتھا۔ حضرت سفیان کہتے ہیں: میں نے ان دونوں میں سے ایک کا بیٹا دیکھا وہ بالکل پاگل نظر آرہاتھا۔ 4 حضرت اَعمش کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت حسین ؓ کی قبر پر پاخانہ کرنے کی گستاخی کی تو اس سے اس کے گھروالوں میں پاگل پن، کوڑھ اور خارش کی وجہ سے کھال سفید ہوجانے کی بیماریاں پیدا ہوگئیں، اور سارے گھر والے فقیر ہوگئے۔ 5