صحابہ کرام ؓ کی بیعت

نصرت پر بیعت ہونا

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مکہ میں دس سال اس طرح گزارے کہ آپ لوگوں کے پاس حج کے موقع پر اُن کی قیام گاہوں میں عُکاظ اور مَجَنّہ کے بازاروں میں جایا کرتے تھے اور اُن سے فرماتے: کون مجھے ٹھکانا دے گا اور کون میری مدد کرے گا؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچا سکوںاور اسے (اس کے بدلہ میں) جنت ملے گی۔چناںچہ آپ کو کوئی آدمی ایسا نہ ملتا جو آپ کو ٹھکانا دے اور آپ کی مدد کرے (بلکہ آپ کی مخالفت اس حد تک پھیل گئی تھی کہ )کوئی آدمی یمن یامُضَرسے (مکہ کے لیے) روانہ ہونے لگتا تو اس قوم کے لوگ اور اس کے رشتہ دار اس کے پاس آکر اسے کہتے کہ قریش کے نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دے۔ اور آپ لوگوں کی قیام گاہوں کے درمیان میں سے گزرتے تو لوگ آپ کی طرف انگلیوں سے اشارہ کرتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یثرِب سے ہمیں آپ کے پاس بھیج دیا۔ ہم آپ کو ٹھکانا دینے کے لیے تیار ہوگئے اور ہم نے آپ کی تصدیق کی۔ پھر ہمارے آدمی ایک ایک کرکے حضور ﷺ کے پاس جاتے رہے اور آپ پر ایمان لاتے رہے اور آپ اُن کو قرآن سکھاتے رہے۔ وہاں سے وہ آدمی مسلمان ہوکر اپنے گھر واپس آتا تو اس کے اِسلام کی وجہ سے اس کے گھر والے مسلمان ہوجاتے، حتیٰ کہ اَنصار کے ہر محلہ میں مسلمانوں کی ایک جماعت ایسی تیار ہوگئی جو اپنے اِسلام کا اظہار کرتے تھے۔ پھر ان سب نے مل کرمشورہ کیا اور ہم نے کہا کہ کب تک ہم حضور ﷺ کو ایسے ہی چھوڑے رکھیں کہ آپ یوں ہی لوگوں میں پھر تے رہیں اور مکہ کے پہاڑوں میں آپ کو دھتکارا جاتا رہے اور آپ کو ڈرایا جاتا رہے ۔ چناںچہ ہمارے ستّر آدمی گئے اور موسمِ حج میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے آپ سے شِعْبِ عَقَبہ میں ملنا طے کیا۔ چناںچہ ہم وہاں ایک ایک دو دو آدمی ہوکر سب اکھٹے ہوگئے اور ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے کس چیز پر بیعت کریں؟ آپ نے فرمایا:تم لوگ مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ تمہارا دل چاہے یا نہ چاہے ہر حال میں تم سنوگے بھی اورمانوگے بھی، اور تنگی اور فراخی دونوں حالتوں میں خرچ کروگے، اَمر بالمعروف اور نہی عن المنکرکروگے، تم اللہ کی خوشنودی کی بات کروگے، اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے نہیں ڈرو گے، تم میری مدد کروگے، اور جب میں تمہارے ہاںآجاؤں اس وقت تم میری اُن تمام چیزوں سے حفاظت کرو گے جن سے تم اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہو، اور تمہیں (اس کے بدلہ میں) جنت ملے گی۔ ہم لوگ کھڑے ہو کر آپ کی طرف گئے تو حضرت اَسعد بن زُرارہ ؓ نے آپ کا ہاتھ پکڑلیا۔ حضرت اَسعد اُن ستّر آدمیوں میں عمر میں سب سے چھوٹے تھے۔اوربیہقی کی روایت میں یہ ہے کہ یہ میرے علاوہ باقی سب سے چھوٹے تھے۔ انھوں نے کہا:اے اہلِ یثرِب! ٹھہرو، ہم ان کے پاس سفر کرکے صرف اس وجہ سے آئے ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور آج آپ ﷺ کو تم (اپنے ہاں) لے جاؤ گے تو اس سے سارا عرب تمہارا دشمن بن جائے گا۔ تمہارے بہترین لوگوں کو قتل کردیا جائے گا اور تلواریں تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گی۔ اگر تم ان چیزوں پر صبر کرسکتے ہو تو پھران کو ضرور لے جاؤ اور تمہیں اللہ تعالیٰ اس کا (بڑا) اجر عطا فرمائیں گے۔ اور اگر تمہیں اپنے بارے میںکچھ خطرہ ہو تو انھیں یہیں چھوڑ دو اور انھیں صاف صاف بتادو، تو اس طرح تمہارا عذر اللہ کے ہاں زیادہ قابلِ قبول ہوگا۔ ان لوگوں نے کہا:اے اَسعد! تم ہم سے پیچھے ہٹ جاؤ۔ اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی اس سے ہم کو کوئی روک سکتا ہے۔چناںچہ ہم کھڑے ہوکر آپ سے بیعت ہوئے۔ آپ نے ہم سے عہد لیااور جو کام ہمارے ذمہ تھے وہ ہمیں بتائے اور اُن کاموں کے کرنے پر آپ نے جنت کا وعدہ فرمایا۔ 1 حضرت کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ شِعْبِ عَقَبہ میں جمع ہوکر حضور ﷺ کا انتظار کررہے تھے کہ تھوڑی دیر کے بعد حضور ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ حضرت عباس بن عبدالمطّلبؓ بھی آپ کے ساتھ تھے اور وہ اس وقت تک اپنی قوم کے دین پر تھے، لیکن انھوں نے چاہا کہ اپنے بھتیجے کے اس معاملہ میں موقع پرحاضر ہوں اور اُن کے لیے (اَنصارِمدینہ سے) عہد وپیمان لیں۔ چناںچہ جب حضور ﷺ بیٹھ گئے تو سب سے پہلے حضرت عباس بن عبد المطّلب نے بات شروع کی اور کہا: اے جماعتِ خزرج! جیسا کہ تمہیں معلوم ہے محمدہم میں سے ہیں۔ ہم نے ان کی اپنی قوم کے اُن لوگوں سے حفاظت کی ہے جو اِن کے بارے میں ہمارے ہم خیال ہیں (یعنی ہماری طرح ان پر ایمان نہیں لائے ہیں)، تو یہ اپنی قوم میں عزت سے اور اپنے شہر میں حفاظت سے رہ رہے ہیں۔ اور اب انھوں نے سب کچھ چھوڑ کر تمہارے ساتھ جانے اور تمہارے ہاں رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے، لہٰذا اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم ان کو جس چیز کی دعوت دے رہے ہو اسے تم پورا کر لوگے اور مخالفوں سے ان کی حفاظت کر لوگے تو تم جانو اور تمہاری ذمہ داری۔ اور اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ جب یہ تمہارے ہاں پہنچ جائیں گے توان کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دوگے اور ان کی مدد چھوڑ بیٹھوگے تو ابھی سے ان کو یہیں چھوڑ جاؤ،کیوں کہ یہ اپنی قوم اور اپنے شہر میں بڑی عزت اور حفاظت سے رہ رہے ہیں۔ ہم نے حضرت عباس سے کہا: ہم نے آپ کی ساری بات سن لی۔ یا رسول اللہ! اب آپ فرمائیں اپنے لیے اور اپنے ربّ کے لیے ہم سے جو عہد لینا چاہیں وہ لے لیں۔ چناںچہ حضور ﷺ نے گفتگو فرمائی، قرآن پڑھ کر سنایا، ان سب کو اللہ کی طرف دعوت دی اور اِسلام کی ترغیب دی اور فرمایا: میں تم کو اس بات پر بیعت کرتا ہوں کہ جن چیزوں سے تم اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہو اُن تمام چیزوں سے میری بھی حفاظت کروگے ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت براء بن معرور ؓ نے کھڑے ہوکر حضور ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا:ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! ہم ان تمام چیزوں سے آپ کی ضرور حفاظت کریں گے جن سے ہم اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہیں، آپ ہمیں بیعت فرمالیں۔ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہم لوگ بڑے جنگ جُو ہیںاور پشت ہا پشت سے لڑنا ہمیںوراثت میں ملا۔حضرت براء حضور ﷺ سے بات کررہے تھے کہ درمیان میں حضرت ابوالہیثم بن التَیِّہان بولے: یا رسول اللہ! کچھ لوگوں سے یعنی یہود سے ہمارے پرانے تعلقات ہیں ان تعلقات کو ہم (آپ کی وجہ سے) ختم کردیں گے، توکہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ ہم ان سے تعلقات ختم کر دیں اورپھر اللہ تعالیٰ آپ کو غالب کردیں اور آپ ہمیں چھوڑ کر اپنی قوم کے پاس واپس چلے جائیں؟ حضور ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: میراخون تمہاراخون ہے، جہاں تمہاری قبر بنے گی وہاں میری قبر بنے گی۔ میںتم میں سے ہوں اور تم مجھ سے ہو۔ جس سے تم لڑوگے میں اس سے لڑوں گا اور جس سے تم صلح کروگے اس سے میں صلح کروں گا۔ حضرت کعب ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: تم اپنے میں سے بارہ آدمی ذمہ دار نمائندے بنادو جو اپنی قوم کی ہر بات کے ذمہ دار ہوں گے۔ چناںچہ انھوںنے اپنے میں سے بارہ آدمی ذمہ داربنائے جن میں نو خزرج کے اور تین اَوس کے تھے۔ 1 حضرت عروہ سے مرسلا منقول ہے کہ حضور ﷺ سے سب سے پہلے حضرت ابو الہیثم بن التیہان ؓ بیعت ہوئے۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے اور کچھ لوگوں کے درمیان پرانے تعلقات اور معاہدے ہیں، ہم ان تعلقات اور معاہدوں کو (آپ کی وجہ سے) ختم کر دیں گے، لیکن ہوسکتا ہے کہ ہم تو تمام تعلقات اور معاہدے ختم کریں اور تمام لوگوں سے جنگ کریں، اور آپ اپنی قوم میں واپس چلے جائیں ۔ حضور ﷺ اُن کی بات سے مسکرائے اور فرمایا: میرا خون تمہارا خون ہے، جہاں تمہاری قبر بنے گی وہاں میری بنے گی۔ جب حضرت ابو الہیثم حضور ﷺ کے جواب سے مطمئن ہوگئے تو انھوں نے اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوکر کہا: اے میری قوم! یہ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوںکہ یہ بالکل سچے ہیں، اور آج یہ اللہ کے حرم میں اور اس کی پناہ میںاور اپنی قوم اور خاندان کے بیچ میں رہ رہے ہیں۔ یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ اگر تم ان کو اپنے ہاں لے جاؤ گے تو سارے عرب مل کر تم پر ایک کمان سے تیر چلائیں گے۔ اگر تم اللہ کے راستے میں قتل ہوجانے اور مال و اولاد سب کچھ چلے جانے پر خوشی خوشی راضی ہو تو ان کو ضرور اپنے علاقہ کی طرف جانے کی دعوت دو، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسولِ برحق ہیں۔اوراگرتمہیں ڈر ہو کہ تم ان کی مدد نہیں کر سکو گے تو ابھی سے انھیں چھوڑدو۔ تو اس پر سب نے کہاکہ اللہ اور رسول جو بھی کام ہمارے ذمہ لگائیں گے وہ ہمیں قبول ہے۔ یا رسول اللہ! ہماری جان کے بارے میں آپ جو فرمائیں گے ہم ویسے ہی کریںگے۔ اے ابو الہیثم! ہمارے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان میں سے ہٹ جاؤ، ہم تو ان سے ضرور بیعت ہوں گے۔ حضرت ابو الہیثم کہتے ہیں: میں سب سے پہلے بیعت ہوا پھر باقی سارے بیعت ہوئے۔2 حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ تمام لوگ حضور ﷺ سے بیعت ہونے کے لیے جمع ہوگئے تو حضرت عباس بن عُبادہ بن نَضْلہ ؓ نے جو کہ قبیلۂ بنو سالم بن عوف کے ہیں، کہا: اے جماعتِ خزرج! کیا تم جانتے ہو کہ تم اس آدمی سے کس بات پر بیعت ہورہے ہو؟ لوگوں نے کہا:ہاں! حضرت عباس بن عبادہ نے کہا: ان سے بیعت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم کو عرب و عجم سے لڑنا پڑے گا، اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جب تمہارے مال ہلاک ہونے لگیں اور تمہارے سردار قتل ہونے لگیں تو تم ا س وقت اُن کو دشمن کے حوالے کر دو گے تو ابھی سے انھیں چھوڑ دو، کیوں کہ اللہ کی قسم! بعد میں ان کو چھوڑ نے سے تم دنیا و آخرت میںرسوا ہوجاؤ گے۔ اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مالی نقصانات اور سرداروں کے قتل ہونے کے باوجود تم اس چیز کو پورا کر لوگے جس کی تم ان کو دعوت دے رہے ہو تو پھر تم ان کو ضرور لے جاؤ،کیوں کہ ان کو لے جانا اللہ کی قسم! دنیا و آخرت کی خیر ہی خیر ہے۔ تمام لوگوں نے کہا: چاہے ہمارے سارے مال ہلاک ہوجائیں اور ہمارے سارے سردار قتل ہوجائیں ہم پھر بھی ان کو لے کر جائیں گے۔ یا رسول اللہ! اگر ہم اپنے اس وعدے کو پورا کر دیں گے تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا: جنت۔ ان لوگوں نے کہا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں ۔ چناںچہ آپ نے ہاتھ بڑھایااور وہ سب آپ سے بیعت ہوگئے۔ 1 حضرت مَعْبدبن کعب اپنے بھائی حضرت عبداللہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ (بیعت کے بعد) حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنی اپنی قیام گاہوں پر ایک ایک دو دو ہو کر واپس چلے جاؤ، تو حضرت عباس بن عُبادہ ؓ نے کہا: یا رسول اللہ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! اگر آپ فرمائیں توہم کل ہی اپنی تلواریں لے کر مِنیٰ والوں پر ٹوٹ پڑیں؟ آپ نے فرمایا: ابھی ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا، تم اپنی قیام گاہوں کو واپس چلے جاؤ ۔ 2