صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

درندوں کا صحابہ کرامؓ کے تابع ہونا اور ان سے باتیں کرنا

؁ْ؁ْحضرت حمزہ بن ابی اُسیدؓفرماتے ہیں: حضورﷺ ایک انصاری کے جنازے کے لیے بقیع تشریف لے گئے۔ راستہ میں ایک بھیڑ یا اپنے بازوپھیلا ئے ہوئے بیٹھاتھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ تمہاری بکریوں میںسے اپنا حصہ مقرر کروانے آیا ہے، لہٰذا اس کا حصہ مقرر کردو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا: جو آپ کی رائے ہو یارسول اللہ! آپ نے فرمایا: ہر چرنے والے ریوڑ میں سے ہر سال ایک بکری (اسے دے دیا کرو)۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ تو زیادہ ہے۔ حضور ﷺ نے اشارہ کرکے بھیڑیے سے کہا: تم چپکے سے جھپٹا مار کرلے جایاکرو۔ پھر وہ بھیڑیا چلاگیا۔ 1 حضرت مطّلب بن عبداللہ بن حَنْطب کہتے ہیں: حضورﷺ مدینے میں تھے ایک بھیڑیا آکر آپ کے سامنے کھڑاہوگیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ درندوں کی طرف سے نمایندہ بن کر آیاہے۔ اگر تم چاہو تو اس کے لیے کچھ حصہ مقرر کردو یہ اسے لے گا اور اس سے زیادہ لینے کی کوشش نہیں کرے گا، اور اگر چاہوتو اسے اس کے حال پر چھوڑ دو اور اپنے جانور اس سے بچانے کی کوشش کرو اور یہ دائو لگا کر تمہارے جتنے جانور لے گیا وہ اس کاحصہ۔ صحابہؓ نے کہا: یارسول اللہ! ہمارا دل تو نہیں چاہتا کہ ہم اسے کچھ اپنے ہاتھ سے خود دیں۔ حضورﷺ نے تین انگلیوں سے اشارہ کرکے بھیڑیے سے کہا: تم جھپٹا مار کر لے جایاکرو۔ چناںچہ وہ بھیڑیا آواز نکالتا ہوا واپس چلاگیا۔ 2 قبیلۂ جُہَینہ کے ایک صاحب کہتے ہیں: جب حضورﷺ نماز پڑھ چکے تو سو کے قریب بھیڑیے بھیڑیوں کے نمایندے بن کر آئے اور آکر بیٹھ گئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ بھیڑیوں کا وفد آپ لوگوں کے پاس آیا ہے، یہ چاہتے ہیں کہ آپ لوگ اپنے جانوروں میںسے ان کا حصہ مقررکرکے انھیں دے دیا کریں، اور باقی جانوروں کے بارے میں آپ لوگ بالکل بے فکر اور بے خوف ہوکر رہاکریں۔ صحابہ ؓ نے حضورﷺ سے فقر وفاقہ اور تنگی کی شکایت کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: انھیں واپس بھیج دو (اور بتادو کہ آپ لوگ ان کی تجویزپر عمل نہیں کرسکتے)۔ چناںچہ وہ بھیڑیے آوازیں نکالتے ہوئے مدینہ سے چلے گئے۔ 1 حضورﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہؓفرماتے ہیں: میں سمندر میں سفر کررہاتھا، جس کشتی میں میں تھا وہ ٹوٹ گئی۔ میں اس کے ایک تختہ پر بیٹھ گیا۔ اس تختہ نے مجھے ایسے گھنے جنگل میں لا پھینکا جس میں شیر تھے۔ ایک شیر مجھے کھانے کے لیے آیا، میں نے کہا: اے ابو الحارث! (یہ شیر کی کنیت ہے) میں حضورﷺ کا غلام ہوں۔ اس پر اس نے اپنا سر جھکادیا اور آگے بڑھ کر مجھے کندھامارا (اور میرے آگے آگے چل پڑا)، یہاں تک کہ مجھے جنگل سے باہر لاکر راستہ پر ڈال دیا، پھر آہستہ سے آوازنکالی جس سے میں سمجھا کہ یہ مجھے رخصت کررہاہے۔ یہ میری اس شیر سے آخری ملاقات تھی۔ 2 حضرت سفینہؓفرماتے ہیں: میں سمندر میں سفر کررہاتھا ہماری کشتی ٹوٹ گئی۔ (ہم ایک جنگل میں پہنچ گئے) ہمیں آگے راستہ نہیں مل رہا تھا۔ وہاں ایک شیر ایک دَم ہمارے سامنے آیا جسے دیکھ کر میرے ساتھی پیچھے ہٹ گئے۔ میں نے شیر کے قریب جاکر کہا: میں حضور ﷺ کا صحابی سفینہ ہوں، ہم راستے سے بھٹک گئے ہیں (ہمیں راستہ بتائو)۔ وہ میرے آگے چل پڑا اور چلتے چلتے ہمیں راستے پر لاکھڑا کیا۔ پھر اس نے مجھے ذرادھکادیا گویاکہ وہ مجھے راستہ دکھا رہاتھا، پھر ایک طرف کو ہٹ گیا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ اب ہمیں رخصت کررہا ہے۔3 حضرت ابنِ منکدر کہتے ہیں: حضورﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہؓ ملکِ روم میں اپنے لشکر سے بچھڑ گئے یا ان کو وہاں رومیوں نے قید کرلیا تھا۔ یہ کسی طرح قید سے بھاگ نکلے اور اپنا لشکر تلاش کررہے تھے تو وہ اچانک ایک شیر کے پاس پہنچے۔ انھوں نے کہا: اے ابو الحارث! میں حضورﷺ کا غلام ہوں، اور میرے ساتھ ایسے اور ایسے ہوا (انھوں نے لشکر سے بچھڑ نے اور قید سے بھاگنے والا سارا واقعہ تفصیل سے اسے سنایا)۔ وہ شیر دُم ہلاتا ہوا آگے آکر ان کے پاس کھڑاہوگیا (اور اس طرح اس نے اپنے تعلق اور فرماں برداری کا اظہار کیا۔ پھر آگے آگے چل پڑا) اور راستہ میں جب کسی جانور کی آواز کسی طرف سے سنتا تو دوڑ کر اس کی طرف جاتا اور اسے بھگا دیتا، پھر ان کے پاس ان کے پہلو میں آجاتا۔ سارے راستہ میں وہ ایسے ہی کر تارہا یہاں تک کہ اس نے انھیں ان کے لشکر تک پہنچا دیا اور پھر واپس چلاگیا۔1 حضرت وہب بن اَبان قُرَشی کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت ابنِ عمرؓ ایک سفر میں گئے۔وہ چلے جارہے تھے کہ راستہ میں ایک جگہ انھیں کچھ لوگ کھڑے ہوئے ملے۔ انھوں نے پوچھا: کیا بات ہے، یہ لوگ کیوں کھڑے ہیں؟ لوگوں نے بتایا: آگے راستہ پر ایک شیر ہے جس سے یہ خوف زدہ ہیں۔ حضرت ابنِ عمر اپنی سواری سے نیچے اُترے اور چل کر اس شیر کے پاس گئے اور اس کے کان کو پکڑ کر مروڑا اور اس کی گردن پر تھپڑ مار کر اسے راستہ سے ہٹادیا۔ پھر (واپس آتے ہوئے اپنے آپ سے) فرمایا: حضورﷺ نے تمھیں غلط بات نہیں فرمائی، میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ابنِ آدم پر وہی چیز مسلط ہوتی ہے جس سے ابنِ آدم ڈرتاہے۔ اگر ابنِ آدم اللہ کے سوا کسی اور چیز سے نہ ڈرے تو اس پر اللہ کے علاوہ اور کوئی چیز مسلط نہ ہو۔ ابنِ آدم اسی چیز کے حوالے کردیا جاتاہے جس چیز سے اسے نفع یا نقصان ملنے کا یقین ہوتاہے۔ اگر ابنِ آدم اللہ کے علاوہ کسی اور چیز سے نفع یا نقصان کا یقین نہ رکھے تو وہ اللہ اسے کسی اور چیز کے بالکل حوالہ نہ کرے۔ 2 حضرت عوف بن مالک ؓ فرماتے ہیں: میں اَرِیحا مقام کے ایک گرجا گھر میں دوپہر کو سورہاتھا۔ (اب تو یہ مسجد بن چکا ہے اور اس میں نماز پڑھی جاتی ہے) جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ کمرہ میں ایک شیر ہے جو میری طرف آرہاہے۔ میں گھبراکر اپنے ہتھیاروں کی طرف اٹھا۔ شیر نے مجھ سے کہا: ٹھہر جائو، مجھے ایک پیغام دے کر تمہارے پاس بھیجا گیاہے تاکہ تم اسے آگے پہنچا دو۔ میں نے کہا: تمھیں کس نے بھیجاہے؟ اس نے کہا: مجھے اللہ نے آپ کے پاس اس لیے بھیجاہے تاکہ آپ بہت سفر کر نے والے معاویہ(ؓ) کو بتادیں کہ وہ جنت والوں میں سے ہیں۔ میں نے کہا: یہ معاویہ کون سے ہیں؟ اس نے کہا: حضرت ابو سفیان ؓ کے بیٹے (ؓ)۔1 حضرت ابوسعید خدریؓفرماتے ہیں: ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کرکے اسے پکڑلیا۔ بکری کا چرواہا بھیڑیے کے پیچھے بھاگا اور اس نے زور لگاکر بھیڑیے سے بکری کو چھڑوا لیا۔ تو بھیڑیا اپنی دُم پر بیٹھ کر کہنے لگا: کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ جو روزی اللہ نے مجھے پہنچائی وہ تم مجھ سے چھینتے ہو۔ اس چرواہے نے کہا: کیا عجیب بات ہے کہ بھیڑیا مجھ سے انسانوں کی طرح بات کررہاہے۔ بھیڑیے نے کہا: کیا میں تمھیں اس سے زیادہ عجیب بات نہ بتائوں۔ یَثرِب میں حضرت محمدﷺ گزشتہ زمانے کی خبریں لوگوں کو بتارہے ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ چرواہا اپنی بکریاں ہانک کر مدینہ پہنچ گیا اور بکریوں کو مدینہ کے ایک کونے میں ایک جگہ اکٹھا کرکے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سارا قصہ سنایا۔ حضورﷺ کے فرمانے پر مدینہ میں اعلان کیا گیا کہ آج سب (مسجدِ نبوی میں) نماز اکٹھے پڑھیں (اپنی مسجدوں میں نہ پڑھیں)۔ جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے باہر آکر اس چرواہے سے فرمایا: انھیں وہ واقعہ سنائو۔ اس نے تمام لوگوں کے سامنے و ہ واقعہ بیان کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ درندے انسانوں سے باتیں نہ کرنے لگیں، اور آدمی سے اس کے کوڑے کا سرا اور اس کی جوتی کا تسمہ بات نہ کرنے لگے، اس کے گھروالوں نے اس کے بعد جو گڑبڑکی ہے وہ اسے اس کی ران نہ بتائے۔ 2 قاضی عیاض نے ذکر کیاہے کہ بھیڑیے سے حضرت اُہبان بن اَوسؓنے بات کی تھی۔ اس لیے انھیں بھیڑیے سے بات کرنے والا کہہ کر پکاراجاتاتھا۔ اور ابنِ واہب نے روایت کی ہے کہ بھیڑیے سے بات کرنے کا واقعہ حضرت ابو سفیان بن حرب اور حضرت صفوان بن اُمیَّہ ؓ کے ساتھ بھی پیش آیاتھا۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک بھیڑیا ایک ہرن کو پکڑنے کی کوشش کررہا ہے اتنے میں ہرن حرم میں داخل ہوگیا، تو وہ بھیڑیا واپس جانے لگا۔ اس سے ان دونوں کو تعجب ہوا۔ اس پر اس بھیڑیے نے کہا: اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ حضرت محمد بن عبداللہ (ﷺ) مدینہ میں تمھیں جنت کی دعوت دے رہے ہیں اور تم انھیں جہنم کی آگ کی طرف دعوت دے رہے ہو۔ (یہ دونوں حضرات اس وقت تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے، اس لیے حضرت صفوان سے) حضرت ابوسفیانؓنے کہا: لات وعزیٰ کی قسم! اگر تم نے مکہ میں اس بات کا تذکرہ کردیاتو سارے مکہ والے مکہ چھوڑدیں گے (اور مدینہ چلے جائیں گے)۔ 1