صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحابۂ کرام ؓکے دشمنوں کی پکڑ
حضرت زید بن اَسلم وغیرہ حضرات کہتے ہیں: حضرت سُراقہ بن مالک ؓ (ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے،ہجرت کے موقع پر انھوں) نے حضورﷺ کی تلاش میں جانے نہ جانے کے بارے میں تین دفعہ تیروں سے فال نکالی تھی۔ ہر دفعہ فال میں نہ جانا نکلتاتھا،لیکن وہ پھر بھی حضورﷺ کی تلاش میں گھوڑے پر سوار ہو کر چل پڑے اور حضورﷺ اور آپ کے ساتھیوں تک پہنچ گئے۔ حضورﷺ نے ان کے لیے بددعا کی کہ ان کے گھوڑے کے پائوں زمین گڑجائیں۔ چناںچہ ایسے ہی ہوا اور ان کے گھوڑے کے پائوں زمین میں دھنس گئے۔ اس پر انھوں نے کہا: اے محمد! آپ اللہ سے دعاکریں کہ وہ میرے گھوڑے کو چھوڑدے، میںآپ کی تلاش میں آنے والوں کو واپس کروں گا۔ چناںچہ حضورﷺ نے ان کے لیے دعاکی:اے اللہ! اگر یہ سچ ہے تو اس کے گھوڑے کو چھوڑدے۔ اس پر ان کے گھوڑے کے پائوں زمین سے باہر نکل آئے۔ 1
حضرت عمیر بن اِسحاق کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت سراقہؓنے کہا: اے دونوں حضرات! میرے لیے اللہ سے دعا کردیں، میں آپ دونوں سے وعدہ کرتاہوں کہ دوبارہ آپ حضرات کا پیچھا نہیں کروں گا۔ چناںچہ ان دونوں حضرات نے دعا کی تو اس کا گھوڑا باہر نکل آیا۔اس نے پھر پیچھاکرنا شروع کردیا جس پر پھر گھوڑے کے پائوں زمین میں دھنس گئے، تو انھوں نے کہا: میرے لیے اللہ سے دعاکردیں اور اب پکا وعدہ کرتاہوں کہ اب پیچھا نہیں کروں گا۔ اور حضرت سراقہ نے ان حضرات کی خدمت میں زادِسفر اور سواری بھی پیش کی، ان حضرات نے فرمایا: اس کی تو ضرورت نہیں ہے، بس تم ہمارا پیچھا چھوڑ دو اپنی ذات سے ہمیں نقصان نہ پہنچائو۔ انھوں نے کہا: بہت اچھا، ایسے ہی کروں گا۔2
حضرت ابومعبد خزاعی ؓ حضورﷺ کے سفر ہجرت کی لمبی حدیث بیان کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت سُراقہ ؓ نے کہا: اے محمد! آپ اللہ سے دعا کردیں کہ وہ میرے گھوڑے کو چھوڑ دے میں واپس چلاجائوں گا اور جتنے لوگ مجھے آپ کی تلاش میں ملیں گے میں ان سب کو واپس لے جائوں گا۔ چناںچہ حضورﷺ نے دعا فرمائی جس سے ان کا گھوڑا باہر نکل آیا۔ انھیں واپسی میں بہت سے لوگ ملے جو حضورﷺ کو تلاش کررہے تھے، انھوں نے ان سب سے کہا: واپس چلے چلو، اس طرف کا سارا علاقہ میں اچھی طرح دیکھ آیا ہوں اور تمھیں معلوم ہی ہے کہ نشاناتِ قدم پہچاننے کے بارے میں میری نگاہ کتنی تیز ہے۔ چناںچہ وہ سب واپس چلے گئے۔ 1
حضرت انس بن مالک ؓ ہجرت کی حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے مڑکردیکھا تو انھیں ایک گھوڑے پر سوار نظر آیا جو بالکل قریب آچکا تھا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ گھوڑے سوار تو ہمارے بالکل پاس آگیاہے۔ حضورﷺ نے اس طرف متوجہ ہوکر دعامانگی: اے اللہ! اسے پچھاڑدے۔ حضرت انس فرماتے ہیں: حضور ﷺ کے دعا فرماتے ہی گھوڑے نے اسے پچھاڑ دیا اور خود ہنہنا تے ہوئے کھڑا ہوگیا۔ چناںچہ اس سوار نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے جو بھی حکم دیںمیں اس کے لیے تیار ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: آگے مت آئو اپنی جگہ ٹھہر ے رہو (بلکہ واپس چلے جائو) اور کسی کو ہماری طرف نہ آنے دینا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ سوار یعنی حضرت سراقہ ؓ دن کے شروع میں تو حضورﷺ کے خلاف کوشش کرنے والے تھے اور دن کے آخر میں ہتھیار کی طرح حضورﷺ کے لیے حفاظت کا ذریعہ بن گئے۔ 2
اور پہلی جلد میں صفحہ ۴۵۰ میں ہجرت کے باب میں نبی کریم ﷺ کی ہجرت کے بارے میں حضرت براء ؓ کی روایت میں حضرت سراقہ ؓ کا قصہ گزر چکاہے۔
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: اَربَد بن قیس اور عامر بن طُفَیل حضور ﷺ سے ملنے مدینہ آئے۔جب یہ دونوں حضورﷺ کے پاس آئے تو حضورﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ دونوں بھی حضور ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے۔ عامر بن طفیل نے کہا:اے محمد! اگر میں اسلام لے آئوں تو آپ مجھے کیا خاص چیز دیں گے؟حضورﷺ نے فرمایا:تمھیں بھی وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو سارے مسلمانوں کو حاصل ہیں اور تم پر بھی وہ تمام ذمہ داریاں ہوں گی جو اِن پر ہیں۔ عامر بن طفیل نے کہا:اگر میں اسلام لے آئوں تو کیا آپ اپنے بعد خلیفہ بننے کا حق مجھے دیں گے۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ حق نہ تمھیں مل سکتاہے اور نہ تمہاری قوم کو، البتہ تمھیں گھڑ سوار دَستہ کا کمانڈر بنادیں گے۔ عامر نے کہا:میں تو اب بھی نجد کی گھڑسوار فوج کا کمانڈرہوں۔ اچھا آپ ایسا کریں دیہات کی حکومت مجھے دے دیں اور شہروں کی حکومت آپ لے لیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، ایسے نہیں ہوسکتا۔ جب دونوں حضورﷺ کے پاس سے واپس جانے لگے تو عامر نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! میں سارے مدینہ کو آپ کے خلاف گھوڑے سوار اور پیادہ فوج سے بھر دوں گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تمھیں ایسا کرنے سے روک دے گا، تم ایسا نہیں کرسکوگے۔
جب اَربد اور عامر باہر نکلے تو عامر نے کہا:اے اَربد! میں محمد کو باتوں میں مشغول کرلوں گا تم تلوار سے ان کا کام تمام کردینا، کیوںکہ جب تم محمد (ﷺ) کو قتل کردوگے تو لوگ زیادہ سے زیادہ خون بہا پر راضی ہوجائیں گے، اس سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کریں گے اور لڑائی کو اچھا نہیں سمجھیں گے، ہم انھیں خون بہادے دیں گے۔اَربد نے کہا: ٹھیک ہے میں تیار ہوں۔ چناںچہ دونوں واپس آئے اور عامر نے کہا: اے محمد! آپ ذرا میرے ساتھ کھڑے ہوں میںآپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ حضورﷺ اٹھ کر اس کے ساتھ گئے۔ وہ دونوں ایک دیوار کے ساتھ بیٹھ گئے، حضورﷺ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور عامر سے باتیں کرنے لگے۔ اَربَد نے حضورﷺ پر تلوارسوتنے کا ارادہ کیا، جب اس نے تلوار کے قبضہ پر ہاتھ رکھا تو اس کا ہاتھ خشک ہوگیا اور وہ تلوار نہ سونت سکا اس طرح اسے کافی دیر ہوگئی۔ حضورﷺ نے مڑ کر اَربَد کی طرف دیکھا تو اس کی یہ بزدلانہ حرکت نظرآئی۔ حضورﷺ دونوں کو چھوڑ کر آگئے۔
عامر اور اَربد حضورﷺ کے پاس سے چلے اور حرّہ راقم یعنی پتھریلے میدان میں پہنچے تو دونوں وہاں ٹھہر گئے۔ حضرت سعد بن معاذاور اُسید بن حضیرؓ دونوں ان کے پاس گئے اور ان سے کہا: اے اللہ کے دشمنو! اٹھو اور یہاں سے چلے جائو، اللہ تم دونوں پر لعنت کرے۔ عامرنے پوچھا: اے سعد! یہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ حضرت سعد نے کہا: یہ اُسید بن حضیر الکاتب یعنی پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ چناںچہ وہ دونوں وہاں سے چل پڑے۔ جب وہ مقام رقم میں پہنچے تو اللہ نے اَربدپر ایسی بجلی گرائی جس سے وہ وہیں مرگیا۔ عامر وہاں سے آگے چلا، جب وہ مقامِ خُریم پہنچا تو اللہ نے اس کے جسم میں ایک پھوڑا پیدا کردیا اور اسے قبیلۂ بنی سلول کی ایک عورت کے گھر میں رات گزار نی پڑی (یہ قبیلہ عربوں میں گھٹیا شمار ہوتاتھا)۔ وہ پھوڑا حلق میں ہواتھا۔ وہ اپنے پھوڑے کو ہاتھ لگاتا اور کہتا: یہ اتنی بڑی گلٹی ہے جتنی بڑی اونٹ کی ہوتی ہے۔ میں سَلُولِیہ عورت کے گھر میں پڑا ہوا ہوں اور میں اس کے گھر میں مرنا نہیں چاہتا (اوّل تو قبیلہ سب سے گھٹیا ہے پھر عورت کا گھر ہے، یہ دونوں باتیں ذلت کی ہیں)۔ پھر وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اسے اِیڑ لگائی اور یوں واپسی میں اپنے گھوڑے پر ہی مرگیا۔ اور ان دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:
{اَللّٰہُ یَعْلَمْ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنْثٰی}سے لے کر {وَمَا لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّالٍآیت کا نشان} تک۔1
اللہ تعالیٰ کو سب خبر رہتی ہے جو کچھ کسی عورت کو حمل رہتاہے اور جو کچھ رحم میں کمی وبیشی ہوتی ہے اور ہر شے اللہ کے نزدیک ایک خاص انداز سے (مقرر) ہے۔ وہ تمام پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کو جاننے والاہے۔ سب سے بڑا (اور) عالی شان ہے۔ تم میں سے جو شخص کوئی بات چپکے سے کہے اور جو پکار کر کہے،اور جو شخص رات میں کہیں چھپ جاوے اور جو دن میں چلے پھرے یہ سب برابر ہیں۔ہر شخص (کی حفاظت) کے لیے فرشتے (مقرر) ہیں جن کی بدلی ہوتی رہتی ہے۔ کچھ اس کے آگے اور کچھ اس کے پیچھے کہ وہ بحکمِ خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ واقعی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی (اچھی)حالت میں تغیر نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی (صلاحیت کی) حالت کو نہیں بدل دیتے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر مصیبت ڈالنا تجویز کر لیتا ہے تو پھر اس کے ہٹنے کی کوئی صورت ہی نہیں اور کوئی خدا کے سوا ان کا مدد گار نہیں رہتا۔
حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا: اللہ کے حکم سے باری باری آنے والے فرشتے حضرت محمد ﷺ کی حفاظت کرتے ہیں۔ پھر انھوں نے اَربَد پر بجلی گرنے کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: {وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ}1
اور وہ بجلیاں بھیجتا ہے۔2