صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
فرشتوں کا صحابۂ کرام ؓکے جنازوں کو خود غسل دینا
حضرت محمود بن لبید کہتے ہیں: جنگِ اُحُد کے دن قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے حضرت حنظلہ بن ابی عامرؓ کا اور حضرت ابو سفیان بن حَربؓکا (جو کہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) مقابلہ ہوا۔ جب حضرت حنظلہ حضرت ابوسفیان پر غالب آگئے تو شدّاد بن اَسود جسے ابنِ شعوب کہاجاتاتھا، نے دیکھا کہ حضرت حنظلہ حضرت ابوسفیان پر چڑھ بیٹھے ہیں تو اس نے تلوار کے وار سے حضرت حنظلہ کو شہید کردیا۔ جنگ کے بعد حضورﷺ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی کو یعنی حضرت حنظلہ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں۔ ان کے گھر والوں سے پوچھو کہ کیا بات ہے؟ ان کی بیوی سے پوچھا گیا ـتو انھوں نے بتایا:جوںہی انھوں نے مسلمانوں کی شکست کی آواز سنی تھی اسی وقت گھر سے چل پڑے تھے اور اس وقت انھیں نہانے کی حاجت تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اسی وجہ سے فرشتوں نے انھیں غسل دیا ہے۔ 1
حضرت محمود بن لبید کہتے ہیں: جب غزوۂ خندق کے دن حضرت سعد ؓ کے بازو کی رگ میں تیر لگنے سے زخم ہوگیا تو وہ بہت زیادہ بیمار ہوگئے۔ اس لیے انھیں رُفَیدہ نامی عورت کے پاس منتقل کردیا گیا۔ آگے اور بھی حدیث ذکر کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے انتقال کی خبر پر حضورﷺ تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ چل پڑے۔ آپ اتنی تیزی سے چلے کہ ہماری جوتیوں کے تسمے ٹوٹنے لگے اور ہمارے کندھوں سے چادریں گرنے لگیں۔ صحابہؓ نے بطورِ شکایت عرض کی:یا رسول اللہ! آپ نے نے تیز چل کر ہمیں تھکادیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: مجھے اس بات کا ڈرتھا کہ جیسے فرشتوں نے حضرت حنظلہؓ کو غسل دے دیاتھا، کہیں ان کو بھی فرشتے ہم سے پہلے غسل نہ دے دیں۔ 2
حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ کہتے ہیں: پھر حضورﷺ سوگئے۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپ کے پاس حضرت جبرائیل ؑ یا کوئی اور فرشتہ آیا اور اس نے کہا:آپ کی اُمّت میں سے آج رات کون فوت ہوا ہے جن کے مرنے پر آسمان والے خوش ہورہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اور تو مجھے کوئی معلوم نہیں، البتہ سعد رات کو بہت بیمار تھے سعدکا کیا ہوا؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا:یا رسول اللہ! ان کا انتقال ہوگیا تھا، ان کی قوم کے لوگ انھیں اٹھاکر اپنے محلّہ میں لے گئے ہیں۔ حضورﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی پھر حضرت سعدکی طرف تشریف لے چلے، آپ کے ساتھ صحابہ بھی تھے۔ آپ اتنے تیز چلے کہ صحابہ کو دِقّت پیش آنے لگی اور تیزی کی وجہ سے ان کے جوتوں کے تسمے ٹوٹنے لگے اور ان کی چادریں کندھوں سے گرنے لگیں۔ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا۔ آپ نے فرمایا: مجھے یہ ڈر ہے کہ جیسے فرشتوں نے ہم سے پہلے حنظلہ کو غسل دے دیا تھا کہیں ان کو بھی نہ دے دیں۔ 1