صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
فرشتوں کا مشرکوں کو قید کرنا اور ان سے جنگ کرنا
حضرت سہیل بن عمرو ؓ نے فرمایا: میں نے جنگِ بدر کے دن بہت سے گورے چٹے آدمی دیکھے جو چتکبرے گھوڑوں پر آسمان اور زمین کے درمیان سوار تھے، ان پر نشانیاں لگی ہوئی تھیں۔ وہ بعد میں جنگ بھی کررہے تھے اور کافروں کو قید بھی کررہے تھے۔2
حضرت براء ؓ وغیرہ حضرات فرماتے ہیں: ایک انصاری صحابی حضرت عباسؓ کو قید کرکے لائے۔ (حضرت عباس نے اس وقت تک اپنا مسلمان ہونا ظاہر نہیں کیا تھا، اس لیے وہ جنگِ بدر میں کافروں کے ساتھ تھے) حضرت عباس نے عرض کیا: یارسول اللہ! انھوں نے مجھے قید نہیں کیا، بلکہ مجھے تو ایسے آدمی نے قید کیا ہے جس کے سر کا شروع کا حصہ گنجا تھا اور اس کی شکل وصورت ایسی اور ایسی تھی۔ حضورﷺ نے ان انصاری سے فرمایا: اللہ نے ایک کریم فرشتے کے ذریعہ تمہاری مددفرمائی ہے۔ 3
حضرت علی ؓ نے غزوۂ بدر کے بارے میں ایک لمبی حدیث بیان فرمائی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ ایک انصاری صحابی حضرت عباس بن عبدالمطّلب ؓکو قید کرکے لائے۔ حضرت عباس نے عرض کیا: یارسول اللہ! ا للہ کی قسم! انھوں نے مجھے قید نہیں کیا،مجھے تو اس آدمی نے قید کیا ہے جو کنپٹی سے گنجا تھا، اس کا چہرہ سب سے زیادہ خوب صورت تھا اور چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا، اب وہ مجھے مسلمانوں میں نظر نہیں آرہا۔ ان انصاری نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں نے انھیں قیدکیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ارے میاں! خاموش رہو، اللہ نے ایک کریم فرشتے کے ذریعے تمہاری مددفرمائی ہے۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضرت عباس ؓ کو بنو سلمہ کے حضرت ابو الیَسَر کعب بن عمروؓ نے قید کیا تھا۔حضرت ابو الیَسَرایک پست قدآدمی تھے، اور حضرت عباس قد آور اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے۔ حضورﷺ نے حضرت ابو الیسر سے فرمایا: اے ابو الیسر! تم نے عباس کو کیسے قید کرلیا؟ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انھیں قید کرنے میں ایک آدمی نے میری مددکی ہے۔ میں نے نہ جنگ سے پہلے اسے دیکھا ہے اور نہ اب جنگ کے بعد وہ نظر آرہاہے، اس کی شکل وصورت ایسی اور ایسی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: ایک کریم فرشتے نے اس میں تمہاری مدد کی ہے۔ 2
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: ایک مشرک آگے تھا اور ایک انصاری مسلمان اس کے پیچھے دوڑ رہاتھا کہ اتنے میں اس مسلمان نے اپنے اوپر کی جانب کوڑا مار نے کی آواز سنی اور ایک گھوڑے سوار کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے حیزوم! (یہ حضرت جبرائیل ؑ کے گھوڑے کا نام ہے) آگے بڑھ۔ اس مسلمان نے دیکھا تو وہ مشرک پشت کے بل نیچے گرا ہوا تھا اور کوڑے کی مار سے اس کی ناک زخمی تھی اور چہرہ پھٹا ہوا تھا اور یہ سارا حصہ نیلا ہوچکا تھا۔ اس انصاری نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ بیان کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم سچ کہتے ہو،، یہ تیسرے آسمان سے مدد آئی تھی۔ چناںچہ مسلمانوں نے اس دن ستّر کافروں کو قتل کیا اور ستّر کو قید کیا۔ 1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قبیلۂ بنی غِفار کے ایک آدمی نے بیان کیا کہ میں اور میرے ایک چچازاد بھائی ہم دونوں ایک پہاڑ پر چڑھے جہاں سے ہمیں میدانِ بدر اچھی طرح نظر آرہاتھا۔ ہم دونوں اُن دنوں مشرک تھے اور یہ انتظار کررہے تھے کہ کسے شکست ہوتی ہے تاکہ ہم جیتنے والوں کے ساتھ مل کرلُوٹ مار کریں۔ ہم ابھی پہاڑ پر تھے کہ اتنے میں ہمارے قریب سے ایک بادل گزرا جس میں سے ہمیں گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی دی اور کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے حیزوم! آگے بڑھ۔ یہ سن کر میرے چچا زاد بھائی کے دل کا پردہ پھٹ گیا اور وہ وہیں مرگیا اور میں بھی مرنے کے قریب ہوگیا تھا،لیکن مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا۔ 2
حضرت ابو طلحہ ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ ایک غزوہ میں حضورﷺ کے ساتھ تھے۔ دشمن سے مقابلہ ہوا، میں نے حضورﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا:
یَا مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ! إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اے روزِ جزا کے مالک! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
میں نے دیکھا کہ دشمن کے آدمی گرتے چلے جارے ہیں اور فرشتے انھیں آگے سے پیچھے سے ماررہے ہیں۔ 3
حضرت ابو اُمامہ بن سہل کہتے ہیں: میرے والد (حضرت سہلؓ) نے فرمایا: اے میرے بیٹے! ہم نے غزوۂ بدر میں اللہ کی غیبی نصرت کی وجہ سے اپنا یہ حال دیکھا تھا کہ ہم میں سے کوئی آدمی کسی مشرک کے سر کی طرف اشارہ کر دیتا تو اس کا سر تلوار لگنے سے پہلے ہی جسم سے کٹ کر نیچے گر جاتا۔ 1
حضرت ابوواقدلیثی ؓ فرماتے ہیں: میں ایک مشرک کا پیچھا کررہاتھا تاکہ میں اس پر تلوار کا وار کروں، لیکن میری تلوار کے اس تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سرکٹ کر زمین پر گر گیا جس سے میں سمجھ گیا کہ میرے علاوہ کسی اور (نظرنہ آنے والی مخلوق یعنی فرشتے) نے اسے قتل کیا ہے۔2
حضرت سَہل بن ابی حَثمہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت ابوبُردہ حارثی ؓ جنگِ بدر کے دن (مشرکوں کے) تین سر اُٹھائے ہوئے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضورﷺ نے جب انھیں دیکھا تو فرمایا: تمہارا دایاں ہاتھ کامیاب رہا۔ انھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! ان میں سے دوکو تو میں نے قتل کیا، اور تیسرے کی صورت یہ ہوئی کہ میں نے ایک خوب صورت خوبرو اور گورا چٹا آدمی دیکھا جس نے اس کا سر تن سے جداکردیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ فلاں فرشتہ تھا۔ 3
حضرت محمود بن لبید کہتے ہیں: حضرت حارث بن صِمَّہ ؓ نے فرمایا: حضورﷺ ایک گھاٹی میں تھے۔ آپ نے مجھ سے پوچھا:کیا تم نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یارسول اللہ! میں نے انھیں پہاڑ کے دامن میں دیکھا تھا اور کافروں کی ایک فوج نے ان پر حملہ کیا ہواتھا، اس لیے میں نیچے اتر نے لگا (تاکہ ان کی مدد کروں)، لیکن راستہ میں آپ مجھے نظرآگئے تو میں انھیں چھوڑ کر آپ کے پاس آگیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: غور سے سنو! فرشتے ان کے ساتھ مل کر کافروں سے جنگ کررہے ہیں۔ حضرت حارث کہتے ہیں کہ میں وہاں سے حضرت عبدالرحمن کی طرف چل پڑا۔ میں نے وہاں جاکر دیکھا کہ مشرکوں کا لشکر جاچکاہے اور حضرت عبدالرحمن کے چاروں طرف سات مشرک قتل ہوئے پڑے ہیں۔ میں نے کہا آپ کا دایاں ہاتھ کامیاب ہوگیا، کیا آپ نے اکیلے ان سب کو قتل کیا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اَرطاۃ بن عبدِشُرحبیل اور یہ کافر، ان دو کو تو میں نے قتل کیاہے، اور باقی پانچ کو اس شخص نے قتل کیاہے جو مجھے نظر نہیںآرہاتھا۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے سچ کہا۔ 1
حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا: حضورﷺ مکہ میں کچھ لوگوںکے پاس سے گزرے۔ وہ پیچھے سے اشارہ کرکے حضورﷺ کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ وہ آدمی ہے جو یہ دعویٰ کرتاہے کہ وہ نبی ہے۔ اور اس وقت حضورﷺ کے ساتھ حضرت جبرائیل ؑ بھی تھے۔
حضرت جبرائیل ؑ نے ان کافروں کی طرف انگلی سے اشارہ کیا تو ایک دم ان کے جسم پر ناخن جیسے نشان پڑگئے جو بعد میں زخم بن گئے اور سڑگئے جس سے ان میں بدبو پیدا ہوگئی اور اس وجہ سے کوئی بھی ان کے قریب نہ جاسکا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{اِنَّا کَفَیْنٰـکَ الْمُسْتَھْزِئِ۔یْنَ آیت کا نشان}2
یہ لوگ جو ہنستے ہیں (اور) اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرا معبود قرار دیتے ہیں، ان سے آپ کے لیے ہم کافی ہیں۔ 3
حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:{اِنَّا کَفَیْنٰـکَ الْمُسْتَھْزِئِ۔یْنَ آیت کا نشان} تو یہ ہنسنے والے اور مذاق اڑانے والے کافر ولید بن مغیرہ، اَسود بن عبدِ یغوث، اَسود بن مطّلب ابو زَمعہ جو کہ قبیلہ بنو اَسد بن عبدالعزی میں سے تھا، حارث بن عَبطَل سہمی اور عاصی بن وائل تھے۔ حضرت جبرائیل ؑ حضورﷺ کے پاس آئے تو حضورﷺ نے ان سے ان کافروں کی شکایت کی۔ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا:آپ مجھے یہ لوگ دکھادیں۔ چناںچہ حضور ﷺ نے انھیں ولید بن مغیرہ دکھایا۔ حضرت جبرائیل ؑنے ولید کے بازو کی بڑی رگ کی طرف بس ایک اشارہ ہی کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: آپ نے تو کچھ بھی نہیں کیا؟ حضرت جبرائیل نے کہا: اب آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، میں نے اس کی سزاکا انتظام کردیاہے۔ پھر حضور ﷺ نے انھیں حارث بن عبطل سہمی دکھایا۔ حضرت جبرائیل ؑ نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: آپ نے کچھ کیا تو ہے نہیں؟ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا:اب آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، میں نے اس کا انتظام کردیاہے۔
پھر حضورﷺ نے عاصی بن وائل دکھایا۔ حضرت جبرائیل ؑ نے اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: آپ نے کچھ کیاتوہے نہیں؟ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا: اب آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، میں نے اس کا انتظام کردیاہے۔چناںچہ ولید بن مغیرہ کا یہ ہوا کہ وہ قبیلۂ خزاعہ کے ایک آدمی کے پاس سے گزرا جو اپنا تیر چھیل رہاتھا۔ وہ تیر ولید کے بازو کی بڑی رگ کو لگ گیا جس سے وہ رگ کٹ گئی۔ اور اَسود بن مطّلب اندھا ہوگیا، بعض کہتے ہیں: ویسے ہی اندھاہوگیا۔ بعض کہتے ہیں: وہ ایک درخت کے نیچے اترا، وہ کہنے لگا: اے میرے بیٹو! کیا تم مجھ سے ہٹاتے نہیں؟ میں تو ہلاک ہوگیا، میری آنکھوں میں کانٹے چبھ رہے ہیں۔ اس کے بیٹوں نے کہا: ہمیں تو کچھ نظر نہیں آرہا۔ کچھ دیر اسے یوں ہی کانٹے چبھتے رہے پھراس کی دونوں آنکھیں اندھی ہوگئیں۔ اور اَسود بن عبدِیغوث کے سر میں پھوڑے نکل آئے جن سے وہ مرگیا۔ اور حارث بن عبطل کے پیٹ میں صَفرا یعنی زرد پانی کا زور ہوگیا، آخر پاخانہ منہ کے راستے سے آنے لگا جس سے وہ مرگیا۔ اور عاصی بن وائل چلا جارہا تھا، اس کے پائوں میں شبرقہ نامی کانٹے دار جھاڑ کا کانٹا لگ گیا جس سے اس کا پائوں سوج گیا اور وہ مرگیا۔1
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے ایک صحابی کی کنیت ابومِعلق تھی اور وہ تاجر تھے۔ اپنے اور دوسروں کے مال سے تجارت کیا کرتے تھے، اور وہ بہت عبادت گزار اور پرہیز گار تھے۔ایک مرتبہ وہ سفر میں گئے، انھیں راستہ میں ایک ہتھیاروںسے مُسلّح ڈاکو ملا۔ اس نے کہا: اپنا ساراسامان یہاں رکھ دو میں تمھیں قتل کروں گا۔ اس صحابی نے کہا: تم نے مال لینا ہے وہ لے لو۔ ڈاکو نے کہا: نہیں، میں تو تمہارا خون بہانا چاہتاہوں۔ اس صحابی نے کہا: مجھے ذرا مہلت دو میں نماز پڑھ لوں۔ اس نے کہا: جتنی پڑھنی ہے پڑھ لو۔ چناںچہ انھیں نے وضو کرکے نماز پڑھی اور یہ دعا تین مرتبہ مانگی:
یَا وَدُوْدُ! یَا ذَا الْعَرْشِ الْمَجِیْدِ! یَا فَعَّالًا لِّمَا یُرِیْدُ! أَسْأَلُکَ بِعِزَّتِکَ الَّتِيْ لَا تُرَامُ، وَمُلْکِکَ الَّذِيْ لَا یُضَامُ، وَبِنُوْرِکَ الَّذِيْ مَلَأََ أَرْکَانَ عَرْشِکَ، أَنْ تَکْفِیَنِيْ شَرَّ ھٰذَا اللِّصِّ، یَا مُغِیْثُ! أَغِثْنِيْ۔
اے بہت محبت کرنے ولے! اے بڑے عرش والے! اے ہراس کام کو کرلینے والے جس کا تو ارادہ کرلے! میں تیری اس عزت کے واسطے سے جس کو کوئی مانگنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور تیری اس بادشاہت کے واسطے سے جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور تیرے اس نور کے واسطے سے جس نے تیرے عرش کے تمام کونوں کو بھرا ہوا ہے، یہ سوال کرتاہوں کہ تو مجھے اس ڈاکوکے شر سے بچالے۔ اے فریاد رس! میری فریاد کو پہنچ۔
تو اچانک ایک گھوڑے سوار نمودار ہوا جس کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا جسے اٹھاکر اس نے اپنے گھوڑے کے کانوں کے درمیان بلند کیا ہوا تھا۔ اس نے اس ڈاکو کو نیزہ مار کر قتل کردیا۔ پھر وہ اس تاجر کی طرف متوجہ ہوا۔ تاجرنے پوچھا:تم کون ہو؟ اللہ نے تمہارے ذریعے سے میری مدد فرمائی ہے۔ اس نے کہا:میں چوتھے آسمان کا فرشتہ ہوں۔ جب آپ نے (پہلی مرتبہ) دعا کی تو میں نے آسمان کے دروازوں کی کھڑکھڑاہٹ سنی۔ جب آپ نے دوبارہ دعا کی تو میں نے آسمان والوں کی چیخ وپکار سنی۔ پھر آپ نے تیسری مرتبہ دعاکی تو کسی نے کہا:یہ ایک مصیبت زدہ کی دعاہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اس ڈاکوکو قتل کرنے کا کام میرے ذمہ کردیں۔پھراس فرشتے نے کہا:آپ کو خوش خبری ہو کہ جو آدمی بھی وضو کرکے چار رکعت نماز پڑھے اور پھر یہ دعامانگے اس کی دعا ضرور قبول ہوگی، چاہے وہ مصیبت زدہ ہو یا نہ ہو۔ 1
حضرت لیث بن سعد کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت زید بن حارثہ ؓ نے اپنا قصہ اس طرح سنایا کہ میں نے طائف میں ایک آدمی سے کرایہ پر خچر لیا۔کرایہ پر دینے والے نے یہ شرط لگائی کہ وہ راستہ میں جس منزل پر چاہے گا مجھے ٹھہرائے گا۔ چناںچہ وہ مجھے ایک ویرانے کی طرف لے کر چل پڑا اور وہاں پہنچ کر اس نے کہا:یہاں اُتر جائو۔میں وہاں اُتر گیا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ وہاں قتل ہوئے پڑے تھے۔ جب وہ مجھے قتل کرنے لگا تو میں نے کہا: مجھے ذرا دو رکعت نماز پڑھنے دو۔ اس نے کہا:پڑھ لو، تم سے پہلے ان لوگوں نے بھی نماز پڑھی تھی، لیکن نماز سے انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ جب میں نماز پڑھ چکا تو وہ مجھے قتل کرنے کے لیے آگے بڑھا،تو میں نے کہا: یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ! تو اس نے ایک آواز سنی کہ اسے قتل نہ کرو۔ وہ ایک دم ڈرگیا اور اس آواز والے کو تلاش کرنے گیا تو اسے کوئی نہ ملا۔ وہ واپس آیا تو میں نے اونچی آواز سے کہا: یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ!اس طرح تین مرتبہ ہوا ، پھر اچانک گھوڑے پر ایک سوار نمودار ہوا اس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک نیزہ تھا، اس نیزے کے سرسے آگ کا شعلہ نکل رہاتھا۔ اس سوار نے اس کو اس زور سے نیزہ مارا کہ پار ہوکر کمر کی طرف نکل آیا اور وہ مرکر زمین پر گرگیا۔ پھر مجھ سے کہا: جب تم نے پہلی مرتبہ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ! کہہ کر پکارا تھا تو اس وقت میں ساتویں آسمان پر تھا۔ جب تم نے دوبارہ پکارا تھا تو میں آسمانِ دنیا پر تھا۔ جب تم نے تیسری بار پکارا تھا تو میں آپ کے پاس پہنچ گیا۔2