صحابہ کرام ؓ کی نصیحتیں
حضرت اُبی ّبن کعب ؓ کی نصیحتیں
حضرت ابوالعالیہکہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت اُبی بن کعب ؓکی خدمت میں عرض کیا: مجھے کچھ وصیت فرمادیں۔ فرمایا: اللہ کی کتاب کو امام بنالو، اور اس کے قاضی اور فیصلہ کرنے والا حکم ہونے پر راضی رہو، کیوںکہ اسی کو تمہارے رسول اللہ ﷺ تمہارے لیے پیچھے چھوڑ کرگئے ہیں۔یہ ایسا سفارشی ہے جس کی سفارش مانی جاتی ہے اور ایسا گواہ ہے جس پر کوئی تہمت نہیں لگائی جاسکتی۔ اس میں تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا تذکرہ ہے، اور اس میں تمہارے آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ ہے، اور اس میں تمہارے اور تمہارے بعد والوں کے حالات ہیں۔ 4
حضرت اُبی بن کعب ؓ نے فرمایا: جو بندہ بھی کسی چیز کو اللہ کے لیے چھوڑ دیتاہے، اللہ اس کے بدلے میں اس سے بہتر چیز اس کو وہاں سے دیتے ہیں جہاں سے ملنے کا اسے گمان نہیں ہوتا۔ اور جو بندہ کسی چیز کو ہلکا سمجھ کر اسے وہاں سے لے لیتاہے جہاں سے لینا ٹھیک نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اسے اس سے زیادہ سخت چیز وہاں سے دیتے ہیں جہاں سے ملنے کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ 5
حضرت اُبی بن کعب ؓ نے فرمایا: مؤمن چار حالتوں کے درمیان رہتا ہے: اگر کسی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو صبر کرتا ہے اور اگر کوئی نعمت ملتی ہے تو شکر کرتاہے اور اگر بات کرتاہے تو سچ بولتاہے اور اگر کوئی فیصلہ کرتاہے تو انصاف والا فیصلہ کرتاہے۔ اور ایسے مؤمن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ}1
یہ مؤمن پانچ قسم کے نوروں میں چلتاپھر تاہے: اس کا کلام نور ہے اور اس کا علم نور ہے۔ یہ اندر جاتاہے تو نور میں جاتاہے، یہ باہر نکلتاہے تو نور سے باہر نکلتاہے اور قیامت کے دن یہ نور کی طرف لوٹ کرجائے گا۔ اور کافر پانچ قسم کی ظلمتوں (اندھیروں) میں چلتا پھر تا ہے: اس کا کلام ظلمت ہے، اس کا عمل ظلمت ہے، اندر جاتاہے تو ظلمت میں اور باہر آتاہے تو ظلمت سے، اور قیامت کے دن یہ بے شمار ظلمتوں کی طرف لوٹ کرجائے گا۔ 2
حضرت ابو نَضرہ کہتے ہیں: ایک آدمی کو جبر یا جویبرہ کہا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا: میں نے حضرت عمر ؓ کے زمانۂ خلافت میں ان سے ایک باندی لینے کا ارادہ کیا۔ میں سفر کرکے رات کے وقت مدینہ پہنچا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے بڑی ذہانت اور بات کرنے کا بڑا سلیقہ عطافرمایا ہوا ہے۔ میں حضرت عمر ؓ کی خدمت میں گیا اور دنیا کے بارے میں بات شروع کی اور دنیا کے چھوٹے ہونے کو بیان کرنے لگا اور اس کا حال ایسا بنا کر چھوڑا کہ گویا دنیا کسی چیز کے برابر نہیں ہے۔ حضرت عمر کے پہلو میں ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں بات پوری کرچکا تو انھوں نے فرمایا: تمہاری ساری بات تقریبًاٹھیک تھی، لیکن تم نے دنیا کی جو برائی بیان کی یہ ٹھیک نہیں تھا اور تم جانتے ہو کہ دنیا کیا ہے؟دنیا کے ذریعہ سے تو ہم جنت تک پہنچیں گے اور یہی آخرت کے لیے زادِ راہ ہے اور دنیا ہی میں تو تمہارے وہ اعمال ہیں جن کا بدلہ تم کو آخرت میں ملے گا۔ غرضیکہ انھوں نے دنیا کے بارے میں جوبات کرنی شروع کی تو پتا چلا کہ یہ تو دنیا کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! یہ آپ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے صاحب کون ہیں؟ فرمایا: یہ مسلمانوں کے سردار حضرت اُبی بن کعب ؓ ہیں۔ 3
ایک آدمی نے حضرت اُبی بن کعب ؓکی خدمت میں عرض کیا: اے ابوالمنذر! آپ مجھے کچھ وصیت فرمادیں۔ فرمایا: لایعنی والے کام میں ہر گز نہ لگو اور دشمن سے کنارہ کش رہو اور دوست کے ساتھ چوکنے ہو کر چلو (دوستی میں تم سے غلط کام نہ کروالے)۔زندہ آدمی کی ان ہی باتوں پر رشک کرو جن پر مرجانے والے پر رشک کرتے ہو، یعنی نیک اعمال اور اچھی صفات پر۔ اور اپنی حاجت اس آدمی سے طلب نہ کرو جسے تمہاری حاجت پوری کرنے کی پروا نہیں ہے۔ 1