صحابہ کرام ؓ کی نصیحتیں

حضرت ابوالدرداء ؓکی نصیحتیں

حضرت حسان بن عطیہکہتے ہیں: حضرت ابوالدرداء ؓ فرمایاکرتے تھے: تم لوگ اس وقت تک خیر پر رہوگے جب تک کہ تم اپنے بھلے لوگوں سے محبت کرتے رہوگے، اور تم میں حق بات کہی جائے اور تم اسے پہنچاتے رہوگے، کیوںکہ حق بات کو پہنچانے والا حق پر عمل کرنے والے کی طرح شمار ہوتاہے۔ 3 حضرت ابو الدرداء ؓ فرمایا: تم لوگوں کو ان چیزوں کا مکلّف نہ بنائو جن کے وہ (اللہ کی طرف سے) مکلّف نہیں ہیں۔ لوگوں کا ربّ تو ان کا محاسبہ نہ کرے اور تم ان کا محاسبہ کرو، یہ ٹھیک نہیں۔ اے ابنِ آدم! تو اپنی فکر کر، کیوںکہ جولوگوں میں نظر آنے والے عیوب تلاش کرے گا اس کا غم لمباہوگا اور اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوسکے گا۔ 1 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویاتم اسے دیکھ رہے ہو اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرو اور جان لو کہ تھوڑا مال جو تمہاری ضروریات کے لیے کافی ہو وہ اس زیادہ مال سے بہتر ہے جو تمھیں اللہ سے غافل کردے، اور یہ بھی جان لو کہ نیکی کبھی پرانی نہیں ہوتی اور گناہ بھلایا نہیں جاتا۔ 2 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: خیر یہ نہیں ہے کہ تمہارا مال یا تمہاری اولاد زیادہ ہوجائے، بلکہ خیر یہ ہے کہ تمہاری بردباری بڑھ جائے اور تمہارا علم زیادہ ہو اور تم اللہ کی عبادت میں لوگوں سے آگے نکلنے میں مقابلہ کرو۔ اگرتم نیکی کرو تو اللہ کی تعریف کرو اور اگر کوئی براکام ہوجائے تو اللہ سے اِستغفار کرو۔ 3 حضرت سالم بن ابی الجعدہکہتے ہیں: حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: آدمی کو اس سے بچتے رہنا چاہیے کہ مؤمنوں کے دل اس سے نفرت کرنے لگ جائیں اور اسے پتا بھی نہ چلے۔ پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو ایسا کیوں ہوتاہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: بندہ خلوت میں اللہ کی نافرمانیاں کرتاہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی نفرت مؤمنوںکے دل میں ڈال دیتے ہیں اور اسے پتا بھی نہیں چلتا۔ 4 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرماتے تھے: ایمان کی چوٹی اللہ کے فیصلے کی وجہ سے پیش آنے والی تکلیفوں پر صبر کرنا اور تقدیر پر راضی ہونا اور توکّل میں مخلص ہونا اور اللہ تعالیٰ کی ہر بات کو بے چون وچرامان لینا اور اللہ کے سامنے گردن جھکالیناہے۔ 5 حضرت ابوالدرداء ؓ فرماتے تھے: ہلاکت ہو اس شخص کے لیے جو بہت زیادہ مال جمع کرنے والا ہو، اور مال کے لالچ میں اس طرح منہ پھاڑے ہوئے ہو کہ گویا پاگل ہوگیاہے، اور لوگوں کے پاس جودنیاہے بس اسے دیکھتا رہتاہے کہ کسی طرح مجھے مل جائے، او ر جواپنے پاس ہے نہ اسے دیکھتاہے اور نہ اس پر شکر کرتاہے۔ اگر اس کے بس میں ہو تو رات کو بھی دن سے ملادے، یعنی دن کو تو کماتاہے اس کا بس چلے تو وہ رات کو بھی کمایاکرے۔ اس کے لیے ہلاکت ہو! اس کا حساب بھی سخت ہوگا اور اس پر عذاب بھی سخت ہوگا۔ 1 حضرت ابوالدرداء ؓ فرماتے تھے: اے دِمَشق والو! کیا تمھیں شرم نہیں آتی؟ اتنا مال جمع کررہے ہو جسے تم کھا نہیں سکتے اور اتنے گھر بنارہے ہو جن میں تم رہ نہیں سکتے اور اتنی بڑی اُمیدیں لگارہے ہو جن تک تم پہنچ نہیں سکتے۔ اور تم سے پہلے قوموں کی قومیں مال جمع کر کے محفوظ کرلیتی تھیں اور انھوں نے بڑی لمبی اُمیدیں لگارکھی تھیں اور بڑی مضبوط عمارتیں بنائی تھیں، لیکن اب وہ سب ہلاک ہوچکی ہیں اور ان کی اُمیدیں دھوکہ ثابت ہوئیں اور ان کے گھر قبر بن چکے ہیں۔ یہ قومِ عادہے جن کے مال اور اولاد سے عَدن سے عَمان تک کا سارا علاقہ بھراہواتھا، لیکن اب مجھ سے عادکاسارا ترکہ دودرہم میں خرید نے کے لیے کون تیار ہے۔ 2 حضرت عون بن عبداللہکہتے ہیں: جب حضرت ابوالدرداء ؓ نے دیکھا کہ مسلمانوں نے غُوطہ میں نئی عمارتیں بنالی ہیں اور نئے نئے باغات لگالیے ہیں، تو ان کی مسجد میں کھڑے ہوکر بلند آواز سے اعلان فرمایا: اے دِمَشق والو! تو تمام دِمَشق والے ان کے پاس جمع ہوگئے۔ انھوں نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا: کیا تمھیں شرم نہیں آتی۔ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا۔ 3 حضرت صفوان بن عمروکہتے ہیں: حضرت ابوالدرداء ؓ فرمایاکرتے تھے: اے مال والو! اپنے مال کو صدقہ وغیرہ میں خرچ کرکے اپنی کھالوں کے لیے آخرت کی ٹھنڈک کا انتظام کرلو (صدقہ وغیرہ کرنے سے تم لوگ جہنم کی گرمی سے بچ جائوگے)، مبادا کہ تمہاری موت کا وقت قریب آجائے اور تمہارے مال میں ہم اور تم برابر ہوجائیں۔ تم اپنے مال کو دیکھ رہے ہو اور ہم بھی تمہارے ساتھ اسے دیکھ رہے ہیں (اس وقت تم اپنے مال کو صرف دیکھ سکوگے خرچ نہیں کرسکوگے)۔ حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: مجھے تم پر اس بات کا ڈرہے کہ تم چھپی ہوئی خواہش کی وجہ سے نعمت استعمال کروگے تووہ نعمت تمھیں غفلت میں ڈال دے گی اور یہ اس وقت ہوگا جب تم کھانا پیٹ بھر کر کھائو گے، لیکن علم سے بھوکے رہوگے اسے کچھ بھی حاصل نہیں کروگے۔ یہ بھی فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے ساتھی سے یہ کہے: آئو مرنے سے پہلے ہم روزے رکھ لیں۔ اور تم میں سب سے برا وہ ہے جواپنے ساتھی سے یہ کہے: آئو مرنے سے پہلے ہم کھاپی لیں اور کھیل تماشہ کرلیں۔ ایک دفعہ حضرت ابوالدرداء ؓکا چند لوگوں پر گزر ہوا جو مکان بنارہے تھے، تو ان سے فرمایا: تم دنیا میں نئی نئی عمارتیں کھڑی کررہے ہو حالاںکہ اللہ تو اس کے اجاڑنے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں اور اللہ جس چیز کا ارادہ کرلیتے ہیں اسے وجود میں ضرور لے آتے ہیں اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ حضرت مکحولکہتے ہیں:حضرت ابوالدرداء ؓ اجاڑ جگہیں تلاش کیا کرتے تھے اور جب کوئی اجاڑ جگہ مل جاتی تو فرماتے:اے رہنے والوں کو اُجاڑ نے والی اُجاڑ جگہ! تجھ میں بسنے والے پہلے لوگ کہاں ہیں؟ 1 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: تین چیزیں مجھے بہت پسند ہیں، لیکن عام لوگوں کو پسند نہیں ہیں: فقر، بیماری اور موت۔ 2 اور یہ بھی فرمایا: اپنے ربّ کی ملاقات کے شوق کی وجہ سے مجھے موت سے محبت ہے اور اپنے ربّ کے سامنے عاجزی ظاہر کرنے کی وجہ سے مجھے فقر سے محبت ہے اور گناہوں کے لیے کفارہ ہونے کی وجہ سے مجھے بیماری سے محبت ہے۔ 3 حضرت شُرحْبِیلکہتے ہیں: حضرت ابوالدرداء ؓ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو فرماتے: تم صبح کو جارہے ہو شام کو ہم بھی تمہارے پاس آجائیں گے، یا تم شام کو جارہے ہو صبح کو ہم بھی آجائیں گے۔ جنازہ ایک زبردست اور مؤثر نصیحت ہے، لیکن لوگ کتنی جلدی غافل ہوجاتے ہیں۔ نصیحت حاصل کرنے کے لیے موت کافی ہے۔ ایک ایک کرکے لوگ جارہے ہیں اور آخر میں ایسے لوگ رہتے جارہے ہیں جنھیں کچھ سمجھ نہیں ہے (جنازہ دیکھ کر پھر اپنے دنیاوی کاموں میں لگے رہتے ہیں)۔ 1 حضرت عون بن عبداللہکہتے ہیں: حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: جو دوسروں کے حالات معلوم کرے گا اسے اپنی پسند کے حالات نظر نہیں آئیں گے (کیوںکہ خیر والے آدمی کم ہوا کرتے ہیں) اور جوپیش آنے والے دردناک حالات کے لیے صبرتیار نہیںکرے گا وہ آخرکار بے بس وعاجزہوجائے گا۔ اگر تم لوگوں کو برا بھلا کہو گے تو لوگ بھی تمھیں برابھلاکہیں گے، اگر تم انھیں کہنا چھوڑ دوگے تو وہ تمھیں نہیں چھوڑیں گے۔ حضرت عون نے پوچھا:تو اس صورت میں آپ میرے لیے کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: لوگ تمھیں برابھلاکہیں تو تم ان سے بدلہ آج نہ لو، بلکہ یہ ان کے ذمہ ادھار رہنے دو۔ اور جس دن تمھیں اس بدلہ کی شدید ضرورت ہوگی اس دن ان سے اس کا بدلہ لے لینا یعنی قیامت کے دن۔ 2 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: جوموت کوکثرت سے یاد کرے گا اس کا اترانا اور حسد دونوں ختم ہوجائیں گے۔ 3 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: کیابات ہے میں دیکھ رہاہوں کہ جس روزی کی اللہ نے ذمہ داری لے رکھی ہے اس کے لیے تو تم بہت فکر اور کوشش کرتے ہو، اور اللہ نے جوعمل تمہارے ذمہ لگائے ہیں انھیں تم ضائع کررہے ہو۔ جانوروں کا علاج کرنے والاگھوڑوں کو جتنا جانتاہے میں اس سے زیادہ تمہارے بڑوں کو جانتاہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز وقت گزرنے کے بعد پڑھتے ہیں اور قرآن سنتے تو ہیں لیکن دل سے نہیں، اورغلاموں کو آزاد تو کردیتے ہیں لیکن وہ پھر بھی آزاد نہیں ہوتے، ان سے غلاموں کی طرح خدمت لیتے رہتے ہیں۔ 4 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: زندگی بھر خیر کو تلاش کرتے رہو اور اللہ کی رحمت کے جھونکوں کے سامنے خود کو لاتے رہو، کیوںکہ اللہ کی رحمت کے جھونکے چلتے رہتے ہیں جنھیں اللہ اپنے جن بندوں پر چاہتے ہیں بھیج دیتے ہیں۔ اور اللہ سے یہ سوال کرو کہ وہ تمہارے عیبوں پر پردہ ڈالے اور تمہاری خوف کی جگہوں کو امن والابنائے۔ 1 حضرت عبدالرحمن بن جُبیر بن نفیرکہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت ابوالدرداء ؓ کی خدمت میں عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی بات سکھادیں جس سے اللہ مجھے نفع دے۔فرمایا: ایک نہیں، دو، تین، چار، بلکہ پانچ باتیں سکھانے کو تیار ہوں جن پر عمل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلنددرجے عطافرمائیں گے۔ پھر فرمایا: صرف پاکیزہ روزی کھائو اور صرف پاکیزہ مال کمائو اور صرف پاکیزہ روزی گھر میں لائو اور اللہ سے یہ مانگو کہ وہ تمھیں ایک دن میں ایک دن کی روزی عطافرمائے اور جب تم صبح اٹھو تو اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرو گویا کہ تم ان میں جاملے ہو۔ اپنی آبرو کو اللہ کی خاطر قربان کردو،لہٰذا جو تمھیں برا بھلا کہے یا گالی دے یا تم سے لڑے تم اسے اللہ کے لیے چھوڑدو، اور جب تم سے کوئی براکام ہوجائے تو فوراً اللہ سے اِستغفار کرو۔ 2 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: انسان کا دل دنیا کی محبت میں جوان رہتا ہے اگرچہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی ہنسلی کی دونوں ہڈیاں آپس میں مل جائیں، لیکن جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے آزمالیا ہے، ان کے دل دنیا کی محبت میں جوان نہیں رہتے اور ایسے کامل متقی لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ 3 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: تین کام ایسے ہیں جن کو کرنے سے ابنِ آدم کے سارے کام قابو میں آجائیں گے: تم اپنی مصیبت کا کسی سے شکوہ نہ کرو، اور اپنی بیماری کسی کو مت بتائو، اور اپنی زبان سے اپنی خوبیاں بیان نہ کرو، اور اپنے آپ کو مقدس اور پاکیزہ نہ سمجھو۔ 4 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: مظلوم کی اور یتیم کی بددعا سے بچو، کیوںکہ ان دونوں کی بددعا رات کو اللہ کی طرف چلتی ہے جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک روایت میںیہ ہے کہ مجھے لوگوں میں اس پر ظلم کرنا سب سے زیادہ مبغوض ہے جو بالکل بے بس اور بے کس ہو، اور اللہ کے علاوہ کسی اور سے میرے خلاف مددنہ لے سکے۔ 5 حضرت معمر اپنے ایک ساتھی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء ؓ نے حضرت سلمان ؓکو خط میں یہ لکھا کہ اے میرے بھائی! اپنی صحت اور فراغت کواس بَلا کے آنے سے پہلے غنیمت سمجھو جس کو تمام بندے مل کر ٹال نہیں سکتے (اس بلا سے مراد موت ہے۔) اور مصیبت زدہ کی دعاکو غنیمت سمجھو۔ اور اے میرے بھائی! مسجد تمہارا گھر ہونا چاہیے یعنی مسجد میں زیادہ وقت اعمال میں گزرے، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرتے ہوئے سنا کہ مسجد ہر متقی کا گھر ہے، اور مسجد جن لوگوں کا گھر ہوگی ان کے لیے اللہ نے یہ ذمہ داری لے رکھی ہے کہ انھیں خوشی اور راحت نصیب ہوگی، اور وہ پلِ صراط کو پار کرکے اللہ کی رضامندی حاصل کریں گے۔اور اے میرے بھائی! یتیم پر رحم کرو، اسے اپنے قریب کرو اور اسے اپنے کھانے میں سے کھلائو، کیوںکہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہوجائے؟ اس نے کہا:جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: یتیم کو اپنے سے قریب کرو، اس کے سر پر ہاتھ پھیرو اور اسے اپنے کھانے میں سے کھلائو، اس سے تمہارا دل نرم ہوجائے گا اور تمہاری ہر ضرورت پوری ہوگی۔ اور اے میرے بھائی! اتنا جمع نہ کرو جس کا تم شکرادانہ کرسکو، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ دنیا والا انسان جس نے اس دنیا کے خرچ کرنے میں اللہ کی اطاعت کی تھی اسے قیامت کے دن اس حال میں لایاجائے گا کہ وہ آگے آگے ہوگا اور اس کامال پیچھے ہوگا۔وہ جب بھی پلِ صراط پر لڑکھڑائے گا تو اس کا مال اسے کہے گا:تم بے فکر ہوکر چلتے رہو (تم جہنم میں نہیں گرسکتے کیوںکہ) مال کا جو حق تمہارے ذمہ تھا وہ تم نے اداکیاتھا۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: جس آدمی نے اس دنیا کے بارے میں اللہ کی اطاعت نہیں کی تھی اسے اس حال میں لایاجائے گا کہ اس کا مال اس کے کندھوںکے درمیان ہوگا اور اس کا مال اسے ٹھوکر مار کر کہے گا: تیرا ناس ہو! تو نے میرے بارے میں اللہ کے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا؟ یہ مال اس کے ساتھ باربار ایسے ہی کرتارہے گا یہاں تک کہ وہ ہلاکت کو پکارنے لگے گا۔ اور اے میرے بھائی! مجھے یہ بتایاگیاہے کہ تم نے ایک خادم خریداہے حالاںکہ میں نے حضور ﷺ کوفرماتے ہوئے سناہے کہ بندہ کا اللہ سے اور اللہ کا بندے سے تعلق اس وقت تک رہتاہے جب تک کہ اس کی خدمت نہ کی جائے، اپنے کام وہ خود کرے۔ اور جب اس کی خدمت ہونے لگتی ہے تو اس پر حساب واجب ہوجاتاہے۔ اُمِ درداء نے مجھ سے ایک خادم مانگا اور میں ان دنوں مال دار بھی تھا، لیکن میں نے چوںکہ حساب والی حدیث سن رکھی تھی اس وجہ سے مجھے خادم خرید نا پسند نہ آیا۔ اور اے میرے بھائی! میرے لیے اور تمہارے لیے کون اس بات کی ضمانت دے سکتاہے کہ ہم قیامت کے دن ایک دوسرے سے مل سکیں گے اورہمیں حساب کا کوئی ڈرنہ ہوگا؟ اوراے میرے بھائی!حضورﷺ کے صحابی ہونے کی وجہ سے دھوکہ میں مت آجانا، کیوںکہ ہم نے حضور ﷺ کے بعد بہت لمبا عرصہ گزار لیا ہے اور اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ ہم نے حضورﷺ کے بعد کیاکیا ہے۔ 1 حضرت عبدالرحمن بن محمد محاربیکہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوالدرداء ؓ نے اپنے ایک بھائی کو خط میں یہ لکھا: امابعد! تمہارے پاس جتنی دنیاہے وہ تم سے پہلے دوسروں کے پاس تھی اور تمہارے بعد پھر دوسروں کے پاس چلی جائے گی۔اس میں سے تمہاری صرف اتنی ہے جوتم نے اپنے لیے آگے بھیج دی یعنی اللہ کے نام پر دوسروں پر خرچ کردی۔ لہٰذا اپنے آپ کو اپنی نیک اولاد پر ترجیح دو، یعنی دوسروں پر خرچ کر جائوگے تو تمہارے کام آئے گی، ورنہ تمہارے بعد تمہاری اولاد کو مل جائے گی، کیوںکہ تم ایسی ذات کے پاس جائو گے جوتمہاراکوئی عذرقبول نہیںکرے گی۔ اور تم ان لوگوںکے لیے جمع کررہے ہو جو تمہاری کبھی تعریف نہیں کریں گے۔اور تم دوطرح کے آدمیوں کے لیے جمع کررہے ہو: یا تو وہ تمہارے مال میںاللہ کے حکم پر عمل کرے گا اور تم تو اس مال کو دوسروں پر خرچ کرنے کی سعادت حاصل نہ کرسکے لیکن یہ سعادت اسے مل جائے گی، یاوہ اس مال میں اللہ کی نافرمانی پر عمل کرے گا اور چوںکہ یہ مال تم نے اس کو جمع کرکے دیا ہے اس لیے اس کے غلط خرچ کرنے کا ذریعہ بننے کی وجہ سے تم خود بدبخت بن جائوگے۔ بہر حال اللہ کی قسم! ان دونوں میں سے کوئی بھی اس بات کا حق دار نہیں ہے کہ تم اس کی وجہ سے اپنی کمر پر بوجھ لادکر اس کی سزاکو کم کروائو، لہٰذا تم اسے اپنی ذات پر ترجیح مت دو۔ اور جو جاچکے ہیں ان کے لیے اللہ کی رحمت کی اُمید رکھو اور جو باقی رہ گئے ہیں ان کے بارے میں اللہ کی عطاپر اعتماد کرو۔ والسلام۔ 1 حضرت ابوالدرداء ؓ نے حضرت مَسلَمہ بن مَخلد ؓکو خط میں یہ لکھا: امابعد! بندہ جب اللہ کے حکم پر عمل کرتاہے تو اللہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اللہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں تو اس کی محبت اپنی مخلوق میں ڈال دیتے ہیں۔ اور جب بندہ اللہ کی نافرمانی والاعمل کرتاہے تو اللہ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور جب اللہ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں تو اس کی نفرت اپنی مخلوق میں ڈال دیتے ہیں۔ 2 حضرت ابو الدرداء ؓ نے فرمایا:اسلام صرف بے چون و چرا حکم ماننے کانام ہے۔ خیر صرف جماعت میں ہے، اور انسان اللہ اور خلیفہ اور عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرے۔3