صحابہ کرام ؓ کی نصیحتیں

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی نصیحتیں

حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: مجھے اس آدمی پر بہت غصہ آتاہے جو مجھے فارغ نظر آتاہے، نہ آخرت کے کسی عمل میں لگاہواہے اور نہ دنیا کے کسی کام میں۔1 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: مجھے تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں ملنا چاہیے جورات کو مردہ پڑا رہے اور دن کو قطرب کیڑے کی طرح پُھدکتا پھرے۔ یعنی رات بھر تو پڑاسوتارہے اور دن میں بھی دنیا کے کاموں میں خوب بھاگ دوڑ کرے۔ 2 حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: دنیا کا صاف حصہ تو چلا گیا اور گدلا حصہ رہ گیاہے، لہٰذا آج تو موت ہر مسلمان کے لیے تحفہ ہے۔ 3 ایک روایت میں یہ ہے کہ دنیا تو پہاڑ کی چوٹی کے تالاب کی طرح ہے جس کا صاف حصہ جاچکا ہو اور گدلا حصہ رہ گیاہو۔ 4 حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: غور سے سنو! دونا گوار اور ناپسندیدہ چیزیں کیا ہی اچھی ہیں: ایک موت اور دوسری فقیری۔ اور اللہ کی قسم! انسان کی دوہی حالتیں ہوتی ہیں یا مال داری یا فقیری۔ اور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی حالت میں مجھے مبتلا کیاجائے۔ اگر مال داری کی حالت ہوگی تو میں اپنے مال کے ذریعہ سے لوگوں کے ساتھ غم خواری اور مہربانی کا معاملہ کروں گا (اور یوں اللہ کا حکم پورا کروں گا)، اور اگر فقیری کی حالت ہوگی تو صبر کروںگا (اور یوں اللہ کا حکم پوراکروںگا)۔ 5 حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: کوئی بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ایمان کی چوٹی تک نہ پہنچ جائے۔ اور اس وقت تک ایمان کی چوٹی تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اس کے نزدیک فقیری مال داری سے اور چھوٹا بننا بڑا بننے سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے، اور اس کی تعریف کرنے والا اور اس کی برائی کرنے والا دونوں اس کے نزدیک برابر نہ ہوجائیں (نہ تعریف سے اثر لے نہ برائی سے)۔ حضرت عبداللہ ؓ کے شاگردوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حلال کمائی کے ساتھ فقیر حرام کمائی کی مال داری سے، اور اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے چھوٹا بننا اللہ کی نافرمانی کے ساتھ بڑا بننے سے زیادہ محبوب ہو، اور حق بات میں تعریف کرنے والا اور برائی کرنے والا برابر ہو۔ 1 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! جو بندہ اسلام کی حالت پر صبح اور شام کرتاہے کوئی دنیاوی مصیبت اس کا نقصان نہیں کرسکتی۔2 حضرت حُجَیْرہکہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ جب بیان کے لیے بیٹھتے تو فرماتے: تم سب دن اور رات کی گزرگاہ میں ہو۔ تمہاری عمریں کم ہورہی ہیں اور سارے اعمال حفاظت سے رکھے جارہے ہیں اور موت اچانک آجائے گی۔ جوخیر بوئے گا وہ اپنی پسند کی چیز کاٹے گا اور جو شر بوئے گاوہ ندامت وحسرت کاٹے گا۔ انسان جیسا بوئے گا ویسا اسے ملے گا (اور ہر انسان کو اس کے مقدر کا ضرور مل کررہے گا۔ لہٰذا) سست آدمی کے مقدر میں جو لکھا ہوا ہے وہ اسے مل کررہے گا اور کوئی تیز آدمی اس سے آگے بڑھ کر اس کے مقدر کی نہیں لے سکتا۔ اور خوب زیادہ کوشش کرنے والا انسان وہ چیزحاصل نہیں کرسکتا جو اس کے مقدر میں نہیں ہے۔ اور جسے کوئی خیر ملتی ہے وہ اللہ کے دینے سے ہی ملتی ہے اور جس کی کسی شرسے حفاظت ہوتی ہے وہ اللہ ہی کے کرنے سے ہوتی ہے۔ متقی لوگ ہی سردار ہوتے ہیں اور فُقہا لوگ اُمّت کے قائد ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھنے سے دین کی سمجھ بڑھتی ہے۔ 3 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: تم میں سے ہرایک مہمان ہے اور اس کے پاس جتنا مال ہے وہ سب اسے عاریت پر ملاہے اور مہمان نے ہر حال میں آگے جاناہی ہوتاہے اور عاریت پر مانگی ہوئی چیز اس کے مالک کو واپس کرنی ہی پڑتی ہے۔ 4 حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعودکہتے ہیں کہ ایک آدمی نے میرے والد (حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ) کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ مجھے ایسے کارآمد کلمات سکھادیں جومختصر ہوں، لیکن ان کے معنی زیادہ ہوں۔ فرمایا: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور قرآن کے تابع بنو، وہ جدھرچلے تم بھی ادھر کو اس کے ساتھ چلو، اور جو بھی تمہارے پاس حق لے کر آئے تم اسے قبول کرو چاہے وہ لے کر آنے والا دور کا یعنی دشمن ہو اور تمھیں ناپسند ہو، اور جو بھی تمہارے پاس باطل اور غلط بات لے کر آئے اسے ردّ کردو چاہے وہ لے کر آنے والا تمہارامحبوب اور رشتہ دار یا دوست ہو۔ 1 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: حق (نفس پر) بھاری ہوتاہے، لیکن اس کا انجام اچھا ہوتاہے۔ اور باطل ہلکا لگتاہے، لیکن اس کا انجام براہوتاہے۔ اور انسان کی بہت سی خواہشیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کے نتیجے میں انسا ن کوبڑے لمبے غم اٹھانے پڑتے ہیں۔ 2 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: کبھی دلوں میں نیک اعمال کا بڑا شوق اور جذبہ ہوتا ہے، اور کبھی شوق اور جذبہ بالکل نہیں رہتا، تو جب دل میں شوق اور جذبہ ہو تو اسے تم لوگ غنیمت سمجھو، اور جب شوق اور جذبہ بالکل نہ ہو تو دل کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ 3 حضرت مُنْذِرکہتے ہیں: کچھ چودھری صاحبان حضرت عبداللہ بن مسعود ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی موٹی موٹی گردنیں اور جسمانی صحت دیکھ کر لوگ تعجب کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: تمھیں بعض ایسے کافر نظر آئیں گے جن کی جسمانی صحت سب سے زیادہ اچھی ہوگی،لیکن ان کے دل سب سے زیادہ بیمار ہوں گے۔ اور تمھیں بعض ایسے مؤمن ملیں گے جن کے دل سب سے زیادہ تندرست ہوں گے، لیکن ان کے جسم سب سے زیادہ بیمار ہوں گے۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے دل تو بیمار ہوں (ان میں کفر و شرک کی بیماریاں ہوں) لیکن تمہارے جسم خوب صحت مند ہوں تو اللہ کی نگاہ میں تمہارا درجہ گندگی کے کیڑے سے بھی کم ہوگا۔ 4 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: اللہ کی ملاقات کے بغیر مؤمن کو چین نہیں آسکتا، اور جس کا چین اور راحت اللہ کی ملاقات میں ہے تو سمجھ لو اس کی اللہ سے ملاقات ہوگئی۔ 1 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی دین میں کسی زندہ انسان کے پیچھے ہرگز نہ چلے، کیوںکہ زندہ آدمی کا کیا اعتبار نہ معلوم کب تک ایمان کی حالت میں رہے اور کب کافرہوجائے (خود براہِ راست قرآن و حدیث سے تم اپنے لیے دینی رہنمائی حاصل کرو اور کسی کے پیچھے نہ چلو، لیکن اگر ایسا نہ کرسکو) اور تم ضرورہی کسی دوسرے کی اِقتدا کرنا چاہو، تو پھر ان لوگوں کی اِقتدا کرو جو دنیا سے جاچکے ہیں،کیوںکہ زندہ آدمی کے بارے میں کوئی اطمینان نہیں کہ کب کسی فتنہ میں مبتلاہوجائے۔2 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی ہرگز اِمَّعَہ نہ بنے۔ لوگوں نے پوچھا اے ابوعبدالرحمن! اِمَّعَہ کون ہوتاہے؟ فرمایا: اِمَّعَہ وہ ہوتاہے (جس کی اپنی عقل سمجھ کچھ نہ ہو اور) یوں کہے کہ میں تو لوگوں کے ساتھ ہوں۔ اگر یہ ہدایت والے راستہ پر چلیں گے تو میں بھی ہدایت والے راستہ پر چلوں گا اور اگر یہ گمراہی والے راستہ پر چلیں گے تو میں بھی گمراہی والے راستہ پر چلوںگا۔ غور سے سنو! تم میںسے ہر آدمی اپنے دل کو اس پر ضرور پکا رکھے کہ اگر ساری دنیا کے لوگ بھی کافرہوجائیں تو بھی وہ کفر اختیار نہیں کرے گا۔ 3 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں، بلکہ چوتھی بات پر بھی قسم کھالوں تو میں اس قسم میں سچاہوںگا: جس آدمی کا اسلام میں حصہ ہے اسے اللہ تعالیٰ اس آدمی جیسا نہیں بنائیں گے جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اور یہ ہر گز نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے سے دنیا میں محبت کریں اور قیامت کے دن اسے کسی دوسرے کے سپرد کردیں۔اور آدمی دنیامیں جن لوگوں سے محبت کرے گا قیامت کے دن انھی کے ساتھ آئے گا۔اور چوتھی بات جس پر میں قسم کھائوں تو میں سچاہوں گا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں جس کی پردہ پوشی کریں گے آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی ضرور کریں گے۔ 4 حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: جو دنیا کو چاہے گا وہ آخرت کا نقصان کرے گا اور جو آخرت کو چاہے گا وہ دنیا کا نقصان کرے گا، لہٰذا ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت کی وجہ سے فانی دنیا کا نقصان کرلو (لیکن آخرت کا نہ کرو)۔1 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے مضبوط حلقہ تقویٰ کا کلمہ ہے اور سب سے بہترین ملت حضرت ابراہیم ؑ کی ملت ہے اور سب سے عمدہ طریقہ حضرت محمدﷺ کا طریقہ ہے اور سب سے بہترین سیرت اَنبیا ؑ والی سیرت ہے اور سب سے اَعلیٰ بات اللہ کا ذکر ہے اور بہترین قصے قرآن میں ہیں اور بہترین کام وہ ہیں جن کا انجام بہترین ہو اور سب سے برے کام وہ ہیں جونئے گھڑے جائیں اور جو مال کم ہو لیکن انسان کی ضروریات کے لیے کافی ہو، وہ اس مال سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور انسان کو اللہ سے اور آخرت سے غافل کردے۔ تم کسی جان کو (برے کاموں سے اور ظلم سے) بچالو،یہ تمہارے لیے اس امارت سے بہتر ہے جس میں تم عدل وانصاف سے کام نہ لے سکو۔ اور موت کے وقت کی ملامت سب سے بری ملامت ہے اور قیامت کے دن کی شرمندگی سب سے بری شرمندگی ہے۔ اور ہدایت ملنے کے بعد گمراہ ہوجانا سب سے بری گمراہی ہے اور دل کا غنا سب سے بہترین غناہے (پیسہ پاس نہ ہو لیکن دل غنی ہو)۔ اور سب سے بہترین تو شہ تقویٰ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ دل میں جتنی باتیں ڈالتے ہیں ان میں سب سے بہترین بات یقین ہے اور شک کرناکفرمیں شامل ہے۔اور دل کا اندھاپن سب سے برا اندھاپن ہے اور شراب تمام گناہوں کا مجموعہ ہے اور عورتیں شیطان کا جال ہیں۔ اور جوانی پاگل پن کی ایک قسم ہے اور میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔ اور بعض لوگ جمعہ میں سب سے آخر میں آتے ہیں اور صرف زبان سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں دل بالکل متوجہ نہیں ہوتا۔ اور سب سے بڑی خطا جھوٹ بولناہے اور مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے اور اس کے مال کا احترام کرنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح اس کے خون کا احترام کرنا۔ جولوگوں کو معاف کرے گا اللہ اسے معاف کرے گا۔ جو غصہ پی جائے اللہ اسے اجردے گا، اور جو اوروں سے درگزر کرے گا اللہ اس سے درگزر کرے گا، اور جو مصیبت پر صبرکرے گا اللہ اسے بہت عمدہ بدلہ دیں گے۔ اور سب سے بری کمائی سودکی ہے اور سب سے براکھانا یتیم کامال ہے۔ اور خوش قسمت وہ ہے جودوسروں سے نصیحت حاصل کرے اور بدقسمت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں اَزل سے بدبخت ہوگیا ہو۔ اور تم میں سے ہر ایک کو اتنا کافی ہے جس سے اس کے دل میں قناعت پیداہوجائے۔ تم میں سے ہر ایک کو بالآخر چارہاتھ جگہ یعنی قبرمیں جاناہے اور اصل معاملہ آخرت کا ہے اور عمل کا دارومدار اس کے انجام پر ہے۔ اور سب سے بری روایتیںجھوٹی روایتیں ہیں۔اور سب سے اعلیٰ موت شہادت والی موت ہے۔اور جو اللہ کی آزمایش کو پہچانتا ہے وہ اس پر صبر کرتاہے اور جونہیں پہچانتا وہ اس کا انکار کرتاہے۔ اور جوبڑا بنتاہے اللہ اسے نیچا کرتے ہیں۔ جودنیاسے دوستی کرتاہے دنیا اس کے قابو میں نہیں آتی۔ جو شیطان کی بات مانے گا وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا، جو اللہ کی نافرمانی کرے گا اللہ اسے عذاب دیںگے۔ 1 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: جودنیامیں دکھاوے کی وجہ سے عمل کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کے گناہ اور عیوب لوگوں کو دکھائیں گے۔ اور جو دنیامیں شہرت کے لیے عمل کرے گا اللہ اس کے گناہ قیامت کے دن لوگوں کو سنائیں گے۔ اور جوبڑا بننے کے لیے خود کو اونچا کرے گا اللہ اسے نیچا کریں گے اور جو عاجزی کی وجہ سے خود کو نیچا کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بلند کریں گے۔2