صحابہ کرام ؓ کی نصیحتیں
امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کی نصیحتیں
ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے ایک آدمی کو یہ نصیحت فرمائی: لوگوں میں لگ کر اپنے سے غافل نہ ہوجائو،کیوںکہ تم سے اپنے بارے میں پوچھا جائے گا لوگوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ اِدھر اُدھر پھر کر دن نہ گزار دیا کرو،کیوںکہ تم جو بھی عمل کروگے وہ محفوظ کرلیا جائے گا۔ جب تم سے کوئی براکام ہوجایاکرے تو اس کے بعد فوراً کوئی نیکی کا کام کرلیا کرو، کیوںکہ جس طرح نئی نیکی پرانے گناہ کو بہت زیادہ تلاش کرتی ہے اور اسے جلدی سے پالیتی ہے، اس طرح اس سے زیادہ تلاش کرنے والی میں نے کوئی چیز نہیں دیکھی۔ 1
حضرت عمر ؓنے فرمایا: جو چیز تمھیں تکلیف دیتی ہے اس سے تم کنارہ کشی اختیار کرلو۔ اور نیک آدمی کو دوست بنائو، لیکن ایسا آدمی مشکل سے ملے گا۔ اور اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ لو جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ 2
حضرت سعید بن مُسیّبکہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے لوگوں کے لیے اٹھارہ باتیں مقرر کیں جو سب کی سب حکمت ودانائی کی باتیں تھی۔ انھوں نے فرمایا:
جوتمہارے بارے میں اللہ کی نافرمانی کرے تم اسے اس جیسی اور کوئی سزانھیں دے سکتے کہ تم اس کے بارے میں اللہ کی اطاعت کرو۔
اور اپنے بھائی کی بات کو کسی اچھے رخ کی طرف لے جانے کی پوری کوشش کرو۔ ہاں اگر وہ بات ہی ایسی ہو کہ اسے اچھے رخ کی طرف لے جانے کی تم کوئی صورت نہ بنا سکو تو اور بات ہے۔
اور مسلمان کی زبان سے جوبول بھی نکلا ہے اور تم اس کا کوئی بھی خیر کا مطلب نکال سکتے ہو تو اس سے برے مطلب کا گمان مت کرو۔
جو آدمی خود ایسے کام کرتاہے جس سے دوسروں کو بدگمانی کا موقع ملے تو وہ اپنے سے بدگمانی کرنے والے کو ہرگز ملامت نہ کرے۔
جو اپنے راز کو چھپائے گا اختیار اس کے ہاتھ میں رہے گا۔
اور سچے بھائیوں کے ساتھ رہنے کو لازم پکڑو۔ ان کے سایہ خیر میں زندگی گزارو، کیوںکہ وُسعت اور اچھے حالات میں وہ لوگ تمہارے لیے زینت کا ذریعہ اور مصیبت میں حفاظت کا سامان ہوںگے۔
اور ہمیشہ سچ بولو چاہے سچ بولنے سے جان ہی چلی جائے۔
بے فائدہ اور بے کار کاموں میں نہ لگو۔
( جوبات ابھی پیش نہیں آئی اس کے بارے میں مت پوچھو، کیوںکہ جو پیش آچکاہے اس کے تقاضوں سے ہی کہاں فرصت مل سکتی ہے۔
) اپنی حاجت اس کے پاس نہ لے جائو جو کہ نہیں چاہتا کہ تم اس میں کامیاب ہوجائو۔
جھوٹی قسم کو ہلکانہ سمجھو ورنہ اللہ تمھیں ہلاک کردیں گے۔
بدکاروں کے ساتھ نہ رہو ورنہ تم ان سے بدکاری سیکھ لوگے۔
اپنے دشمن سے الگ رہو۔
اپنے دوست سے بھی چوکنّے رہو، لیکن اگر وہ امانت دار ہے تو پھر اس کی ضرورت نہیں۔ اور امانت دارصرف وہی ہوسکتا ہے جو اللہ سے ڈرنے والاہو۔
ؑ اور قبرستان میں جاکر خشوع اختیار کرو۔
اور جب اللہ کی فرماںبرداری کا کام کرو تو عاجزی اور تواضع اختیار کرو۔
اور جب اللہ کی نافرمانی ہوجائے تو اللہ کی پناہ چاہو۔
ؓ اور اپنے تمام اُمور میں ان لوگوں سے مشورہ کیا کرو جو اللہ سے ڈرتے ہیں، کیوںکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓوئُ}1
خداسے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو (اس کی عظمت کا) علم رکھتے ہیں۔2
حضرت محمد بن شہاب کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے فرمایا: لایعنی کاموں میں نہ لگو اور اپنے دشمن سے کنارہ کشی اختیار کرو اور اپنے دوست سے اپنی حفاظت کرو،لیکن اگر وہ امانت دار ہے تو پھر ضرورت نہیں،کیوںکہ امانت دار انسان کے برابر کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ اور کسی بدکار کی صحبت میں نہ رہو ورنہ وہ تمھیں بھی بدکاری سکھادے گا اور کسی بدکار کو اپنا راز نہ بتائو اور اپنے تمام کاموں میں ان لوگوں سے مشورہ لو جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔3
حضرت سَمُرہ بن جُندُب کہتے ہیں: حضرت عمر ؓنے فرمایا: مرد بھی تین قسم کے ہوتے ہیں اور عورتیں بھی تین قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک عورت تو وہ ہے جو پاک دامن، مسلمان، نرم طبیعت، محبت کرنے والی، زیادہ بچے دینے والی ہو اور زمانہ کے فیشن کے خلاف اپنے گھروالوں کی مدد کرتی ہو (سادہ رہتی ہو) اور گھروالوں کو چھوڑکر زمانہ کے فیشن پر نہ چلتی ہو، لیکن تمھیں ایسی عورتیں بہت کم ملیں گی۔ دوسری وہ عورت ہے جو خاوند سے بہت زیادہ مطالبے کرتی ہو اور بچے جننے کے علاوہ اس کا اور کوئی کام نہ ہو۔ تیسری وہ عورت ہے جو خاوند کے گلے کا طوق ہو اور جوں کی طرح سے چمٹی ہوئی ہو (یعنی بداخلاق بھی ہو اور اس کا مہر بھی زیادہ ہو جس کی وجہ سے اس کا خاوند اسے چھوڑ نہ سکتاہو)، ایسی عورت کو اللہ تعالیٰ جس کی گردن میں چاہتے ہیں ڈال دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اس کی گردن سے اتار لیتے ہیں۔
اور مردبھی تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک پاک دامن، مُنکَسِر المزاج، نرم طبیعت، درست رائے والا، اچھے مشورے دینے والا۔ جب اسے کوئی کام پیش آتاہے تو خود سوچ کر فیصلہ کرتاہے اور ہر کام کو اس کی جگہ رکھتاہے۔ دوسرا وہ مرد ہے جو سمجھ دار نہیں، اس کی اپنی کوئی رائے نہیں ہے، لیکن جب اسے کوئی کام پیش آتاہے تو وہ سمجھ دار درست رائے والے لوگوں سے جاکرمشورہ کرتاہے اور ان کے مشوروں پر عمل کرتاہے۔ تیسرا وہ مرد جو حیران وپریشان ہو، اسے صحیح اور غلط کا پتا نہیں چلتا یوں ہی ہلاک ہوجاتا ہے، کیوںکہ اپنی سمجھ پوری نہیں اور سمجھ دار اور صحیح مشورہ دینے والوں کی مانتا نہیں۔ 1
حضرت اَحنف بن قیسکہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّابؓ نے مجھ سے فرمایا: اے اَحنف! جوآدمی زیادہ ہنستاہے اس کا رُعب کم ہوجاتاہے۔ جو مذاق زیادہ کرتاہے لوگ اسے ہلکااور بے حیثیت سمجھتے ہیں۔جو باتیں زیادہ کرتاہے اس کی لغزشیں زیادہ ہوجاتی ہیں۔ جس کی لغزشیں زیادہ ہوجاتی ہیں اس کی حیاکم ہوجاتی ہے اور جس کی حیا کم ہوجاتی ہے اس کی پرہیز گاری کم ہوجاتی ہے اور جس کی پرہیز گاری کم ہوجاتی ہے اس کا دل مردہ ہوجاتاہے۔ 2
حضرت عمر ؓنے فرمایا: جو زیادہ ہنستاہے اس کا رُعب کم ہوجاتاہے اور جو مذاق زیادہ کرتاہے لوگوں کی نگاہ میں وہ بے حیثیت ہوجاتاہے اور جو کسی کام کو زیادہ کرتاہے وہ اسی کام کے ساتھ مشہور ہوجاتاہے۔ اس کے بعد پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا ہے۔ 1
حضرت عمر ؓفرماتے ہیں: اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو باطل کو کلیتاً چھوڑ کر اسے مٹادیتے ہیں اور حق کابار بار تذکرہ کر کے اسے زندہ کرتے ہیں۔ جب انھیں کسی عمل کی ترغیب دی جاتی ہے تو وہ اس کا اثر لیتے ہیں اور اس عمل کا ان میں شوق پیداہوجاتاہے، اور جب انھیں اللہ کے غصہ اور عذاب سے ڈرایاجاتاہے تو وہ ڈرجاتے ہیں، اور ڈر کی وجہ سے کبھی بے خوف نہیں ہوتے۔جن چیزوں کو انھوں نے آنکھ سے نہیں دیکھا انھیں یقین کی طاقت سے دیکھ لیتے ہیں اور یقین کو ان غیبی اُمور کے ساتھ ملاتے ہیں جن سے کبھی جدا نہیں ہوتے۔ خوفِ خداوندی نے ان کو عیوب سے بالکل پاک صاف کردیا۔ ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتوں کی وجہ سے دنیا کی فانی لذتوں کو چھوڑدیتے ہیں۔ دنیا کی زندگی اُن کے لیے نعمت ہے اور موت ان کے لیے باعثِ عزت ہے۔ اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کی شادی کردی جائے گی اور ہمیشہ نوعمر رہنے والے لڑکے ان کی خدمت کریں گے۔ 2
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں ـ: تم کتاب اللہ کے برتن اور علم کے چشمے بن جائو، یعنی قرآن اپنے اندر اُتار لو پھر علم اندر سے پھوٹ کر نکلے گا اور اللہ تعالیٰ سے ایک دن میں ایک دن کی روزی مانگو۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ کثرت سے توبہ کرنے والوں کے پاس بیٹھا کرو، کیوںکہ ان کے دل سب سے زیادہ نرم ہوتے ہیں۔ 3
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: جو اللہ سے ڈرے گا وہ کبھی کسی پر اپنا غصہ نہیں نکا لے گا، یعنی کسی سے انتقام نہیں لے گا بلکہ اپنا غصہ پیے گا۔ اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اپنی مرضی کا ہر کام نہیں کرسکے گا۔ اور اگر قیامت کا دن نہ ہوتا تو جو تمھیں نظر آرہا ہے وہ نہ ہوتا، بلکہ افراتفری کا کچھ اور عالم ہوتا۔1
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: جو لوگوں کے ساتھ انصاف کرتاہے اور اس کے لیے اپنی جان پر جو مشقت جھیلنی پڑے اسے جھیلتا ہے، اسے اپنے تمام کاموں میں کامیابی ملے گی۔اور اللہ تعالیٰ کی فرماںبرداری کی وجہ سے ذلّت اٹھانا نافرمانی کی عزت کی بہ نسبت نیکی کے زیادہ قریب ہے۔ 2
حضرت امام مالککہتے ہیں: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطّابؓ نے فرمایا: آدمی تقویٰ سے عزت پاتاہے اور اسے دین سے شرافت ملتی ہے۔ آدمی کی مروت اور مردانگی عمدہ اَخلاق ہیں۔ بہادری اور بزدلی خدا داد صفات ہیں۔ بہادر آدمی تو ان لوگوں کی طرف سے بھی لڑتاہے جنھیں جانتاہے اور ان کی طرف سے بھی لڑتاہے جنھیں نہیں جانتا،اور بزدل آدمی تو اپنے ماں باپ کو بھی چھوڑ کر بھاگ جاتاہے۔ دنیا والوں کی نگاہ میں عزت مال سے ملتی ہے، لیکن اللہ کے ہاں تقویٰ سے ملتی ہے۔ تم کسی فارسی، عجمی اور نبطی سے صرف تقویٰ کی وجہ سے بہتر ہوسکتے ہو، عربی ہونے کی وجہ سے نہیں ہوسکتے۔ 3
حضرت سفیان ثوریکہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّابؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو خط میں یہ لکھا کہ حکمت ودانائی عمر بڑی ہونے سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ تو اللہ کی دین ہے جیسے اللہ چاہتے ہیں عطافرمادیتے ہیں۔اور کمینے کاموں اور گھٹیا اَخلاق سے بچو۔ 4
حضرت عمر ؓ نے اپنے صاحب زادے عبداللہ بن عمر ؓ کو خط میں یہ لکھا:
اما بعد! میں تمھیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں، کیوںکہ جو اللہ سے ڈرتاہے اللہ اسے ہر شر اور فتنے سے بچاتے ہیں۔ اور جو اللہ پر توکل کرتاہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام کاموں کی کفایت کرتے ہیں۔ اور جو اللہ کو قرض دیتاہے یعنی دوسروں پر اپنا مال اللہ کے لیے خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بہترین بدلہ عطافرماتے ہیں۔ اور جو اللہ کا شکر ادا کرتاہے اللہ تعالیٰ اس کی نعمت کو بڑھاتے ہیں۔ اور تقویٰ ہر وقت تمہارا نصب العین، تمہارے اعمال کا سہارا اور ستون، اور تمہارے دل کی صفائی کرنے والا ہوناچاہیے۔ جس کی کوئی نیت نہیں ہوگی اس کا کوئی عمل معتبر نہیں ہوگا۔ جس نے ثواب لینے کی نیت سے عمل نہ کیا اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔ جس میں نرمی نہیں ہوگی اسے اپنے مال سے بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ جب تک پہلا کپڑا پرانا نہ ہوجائے نیا نہیں پہننا چاہیے۔ 1
حضرت جعفر بن برقان کہتے ہیں: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے ایک گورنر کو خط لکھا، خط کے آخر میں یہ مضمون تھا:
فراخی اور وسعت والے حالات میں سختی والے حساب سے پہلے (جوقیامت کے دن ہوگا) اپنے نفس کا خود محاسبہ کرو، کیوںکہ جو فراخی اور وسعت والے حالات میں سختی کے حساب سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرے گا وہ انجام کار خوش ہوگا، بلکہ اس کے حالات قابلِ رشک ہوں گے۔ اور جس کو دنیا کی زندگی نے (اللہ سے، آخرت سے اور دین سے) غافل رکھا اور وہ برائیوں میں مشغول رہاتو انجام کار وہ ندامت اٹھائے گا اور حسرت وافسوس کرتارہے گا۔ جو نصیحت تمھیں کی جارہی ہے اسے یاد رکھو تاکہ تمھیں جن کاموں سے روکاجارہاہے تم ان سے رک سکو۔ 2
حضرت عمر ؓ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کو خط میں یہ مضمون لکھا:
امابعد! حق کو ہر حال میں لازم پکڑو، اس طرح حق تمہارے لیے اہلِ حق کے مراتب کھول دے گا اور ہمیشہ حق کے مطابق فیصلہ کیاکرو۔3