صحابہ کرام ؓ کے بیانات

حضرت ابوہریرہ ؓکا بیان

حضرت ابویزید مدینی کہتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ ؓ نے مدینہ میں حضورﷺ کے منبر پر کھڑے ہو کر بیان فرمایا اور حضورﷺ کے کھڑے ہونے کی جگہ سے ایک سیڑھی نیچے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ابوہریرہ کو اسلام کی ہدایت دی اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ابوہریرہ کو قرآن سکھا یا اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے حضرت محمد ﷺ کی صحبت میں رہنے کا موقع عنایت فرماکر ابوہریرہ پر بڑا احسان فرمایا۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے خمیری روٹی کھلائی اور اچھا کپڑا پہنا یا، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے بنت ِغزوان سے میری شادی کرادی، حالاںکہ پہلے میں پیٹ بھر کھانے کے بدلے اس کے پاس مزدوری پر کام کرتا تھا اور وہ مجھے سواری دیا کرتی تھی، اور اب میں اسے سواری دیتا ہوں جیسے وہ دیا کرتی تھی۔ پھر فرمایا: عربوں کے لیے ہلاکت ہو کہ ایک بہت بڑا شر قریب آگیا ہے۔ اور ان کے لیے ہلاکت ہو کہ عن قریب بچے حاکم بن جائیں گے، اور لوگوں میں اپنی مرضی اور خواہش کے فیصلے کریں گے، اور غصہ میں آکر لوگوں کو ناحق قتل کریں گے۔ اے (حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے) فروخ کے بیٹو! یعنی عجم کے رہنے والو! (حضرت ابراہیم ؑ کے اس بیٹے کی اولاد عجم کہلاتی ہے) تمھیں خوش خبری ہو! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میری جان ہے! اگر دین ثریّا ستارے کے پاس لٹکا ہوا ہو تا تو بھی تمہارے کچھ آدمی اسے ضرور حاصل کر لیتے۔ 1 حضرت ابوحبیبہ کہتے ہیں:جن دنوں حضرت عثمان ؓ اپنے گھر میں محصور تھے میں ان کی خدمت میں ان کے گھر گیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ حضرت عثمان ؓ سے لوگوں سے بات کرنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔حضرت عثمان نے انھیں اجازت دے دی۔ چناںچہ وہ بیان کے لیے کھڑے ہوئے، پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: میںنے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے بعد تم پر ایک بڑا فتنہ اور بڑا اختلاف ظاہر ہوگا۔ ایک صحابی نے حضورﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! ان حالات میں آپ ہمیں کیا کرنے کا حکم کرتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: امیر اور اس کے ساتھیوں کو مضبوطی سے پکڑے رہنا۔ یہ فرماتے ہوئے حضرت ابوہریرہ حضرت عثمان کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ 1