صحابہ کرام ؓ کے بیانات

امیرالمؤمنین حضرت عبداللہ بن زبیر ؓکے بیانات

حضرت محمد بن عبداللہ َثقَفِی کہتے ہیں: ایک دفعہ حج کے موقع پر میں حضرت ابنِ زبیر ؓ کے خطبہ میں شریک ہوا۔ ہمیں ان کے بارے میں اسی وقت پتا چلا جب وہ یومُ الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) سے ایک دن پہلے اِحرام باندھ کر ہمارے پاس باہر آئے۔ وہ ادھیڑ عمر کے خوب صورت آدمی تھے۔ وہ سامنے سے آرہے تھے۔ لوگوں نے کہا:یہ امیرالمؤمنین ہیں۔پھر وہ منبر پر تشریف فرماہوئے اس وقت ان پر اِحرام کی دو سفید چادریں تھیں۔ پھر انھوں نے لوگوں کو سلام کیا، لوگوں نے انھیں سلام کا جواب دیا۔ پھر انھوں نے بڑی اچھی آواز سے لبیک پڑھا، ایسی اچھی آواز میں نے کبھی ہی سنی ہوگی، پھر اللہ کی حمد وثنا بیان کی، اس کے بعد فرمایا: امّا بعد! تم لوگ مختلف علاقوں سے وفدبن کر اللہ کے پاس آئے ہو، لہٰذا اللہ پر بھی اس کے فضل سے یہ لازم ہے کہ وہ اپنے پاس وفد بن کر آنے والوں کا اکرام کرے۔ اب جو اُن اُخروی نعمتوں کا طالب بن کر آیاہے جو اللہ کے پاس ہیں تو اللہ سے طلب کرنے والامحرروم نہیں رہتا، لہٰذا اپنے قول کی عمل سے تصدیق کرو، کیوںکہ قول کا سہارا عمل ہے اور اصل نیّت دل کی ہوتی ہے۔ ان دنوں میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، کیوںکہ ان دنوں میں اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ آپ لوگ مختلف علاقوں سے آئے ہیں آپ لوگوں کا مقصد نہ تجارت ہے اور نہ مال حاصل کرنا اور نہ ہی دنیا لینے کی اُمید میں آپ لوگ یہاں آئے ہیں۔ پھر حضرت ابنِ زبیر ؓ نے لبیک پڑھا اور لوگوں نے بھی پڑھا، پھر انھوں نے بڑی لمبی گفتگو فرمائی، پھر فرمایا: امّا بعد! اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: {اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ}1 (زمانہ) حج چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں۔ فرمایا: وہ تین مہینے ہیں: شوال، ذیقعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن۔{ فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ} ’’سو جو شخص ان میں حج مقرر کرے تو پھر (اس کو) نہ کوئی فحش بات (جائز) ہے‘‘ یعنی بیوی سے صحبت کرنا۔ {وَلَا فُسُوْقَ} ’’اور نہ کوئی بے حکمی (درست) ہے‘‘ یعنی مسلمانوں کو برا بھلا کہنا۔ {وَلَا جِدَالَ} ’’ اور نہ کسی قسم کا نزاع زیبا ہے‘‘ یعنی لڑائی جھگڑا کرنا۔ {وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی}’’ اور جو نیک کام کروگے خدائے تعالیٰ کو اس کی اطلاع ہوتی ہے اور (جب حج کو جانے لگو) خرچ ضرور لے لیا کرو، کیوںکہ سب سے بڑی بات خرچ میں (گداگری سے) بچا رہنا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ} ’’تم کو اس میںذرا بھی گناہ نہیں کہ(حج میں) معاش کی تلاش کرو۔‘‘ چناںچہ اللہ نے حاجیوں کو تجارت کی اجازت دے دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَاِذَا اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ}’’ پھر جب تم لوگ عرفات سے واپس آنے لگو‘‘ اور عرفات ٹھہرنے کی وہ جگہ ہے جہاں حاجی لوگ سورج کے غروب تک وقوف کرتے ہیں، پھر وہاں سے واپس آتے ہیں۔ {فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ}’’ تو مشعرِ حرام کے پاس (مزدلفہ میں شب کو قیام کرکے) خدائے تعالیٰ کو یاد کرو۔‘‘ یہ مزدلفہ کے وہ پہاڑ ہیں جہاں حاجی رات کو ٹھہر تے ہیں۔ {وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ} ’’اور اس طرح یاد کرو جس طرح تم کو بتلا رکھا ہے۔ ‘‘ حضرت ابنِ زبیر ؓ نے فرمایا: یہ حکم عام نہیں ہے بلکہ صرف مکہ شہر والوں کے لیے ہے، کیوںکہ مکہ والے مزدلفہ میں وقوف کر تے تھے اور عرفات نہیں جاتے تھے، اس لیے وہ مزدلفہ سے واپس آتے تھے، جب کہ باقی لوگ عرفات جاتے تھے اور وہاں سے واپس آتے تھے، تو اللہ نے ان کے فعل پر انکار کرتے ہوئے فرمایا: {ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ} پھر تم سب کو ضرور ہے کہ اسی جگہ ہو کر واپس آئو جہاں اور لوگ جاکر وہاں سے واپس آتے ہیں۔ یعنی وہاں سے واپس آکر اپنے مناسکِ حج پورے کرو۔ زمانۂ جاہلیت کے حاجیوں کا دستور یہ تھا کہ وہ حج سے فارغ ہوکر اپنے آباء واجداد کے کارناموں کا ذکر کر کے ایک دوسرے پر فخر کرتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں: {فَاذْ کُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآئَکُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًاط فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍآیت کا نشان وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ آیت کا نشان}1 تو حق تعالیٰ کا ذکر کیا کرو جس طرح تم اپنے آباء واَجداد کا ذکر کیا کرتے ہو، بلکہ یہ ذکر اس سے (بدرجہا) بڑھ کر ہے۔ سو بعضے آدمی (جوکہ کافر ہیں)ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم کو (جوکچھ دیناہو) دنیا میں دے دیجیے اور ایسے شخص کو آخرت میں (بوجہ انکارِ آخرت کے) کوئی حصہ نہ ملے گا۔ اور بعضے آدمی (جو کہ مؤمن ہیں) ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم کو دنیا میں بھی بہتری عنایت کیجیے اور آخرت میں بھی بہتری دیجیے اور ہم کو عذابِ دوزخ سے بچائیے۔ یعنی دنیا میں رہ کر دنیا کے لیے بھی محنت کرتے ہیں اور آخرت کے لیے بھی۔ پھر حضرت ابنِ زبیر ؓ نے اس آیت تک تلاوت فرمائی: {وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ}2 اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کئی روز تک۔ اور فرمایا: اس سے ایامِ تشریق مراد ہیں اور ان دنوں کے ذکر میں سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہنا، لا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنا، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہنا اور اللہ کی عظمت والے کلمات کہنا سب شامل ہے۔ پھر حضرت ابنِ زبیرؓ نے مِیقات یعنی لوگوں کے اِحرام باندھنے کی جگہوں کا ذکر کیا۔ چناںچہ فرمایا: مدینہ والوں کے لیے اِحرام باندھنے کی جگہ ذُوالحلیفہ ہے، اور عراق والوں کے لیے عقیق ہے، اور نجد والوں اور طائف والوں کے لیے قَرَن ہے، اور یمن والوں کے لیے یَلَمْلَم ہے۔ اس کے بعد اہلِ کتاب کے کافروں کے لیے یہ بد دعا کی: اے اللہ! اہلِ کتاب کے ان کافروں کو عذاب دے جو تیری آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستہ سے روکتے ہیں۔اے اللہ! انھیں عذاب بھی دے اور ان کے دل بد کار عورتوں جیسے بنادے۔ اس طرح بہت لمبی دعا کی پھر فرمایا: یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے ایسے اندھا کردیا جیسے اُن کی آنکھوں کو اندھا کیا۔ وہ حجِ تمتع کا یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ ایک آدمی مثلاً خراسان سے حج کا احرام باندھ کر آیا، تو یہ اس سے کہتے ہیں: عمرہ کر کے حج کا احرام کھول دو، پھر یہاں سے حج کا احرام باندھ لینا (حالاںکہ جب وہ حج کا احرام باندھ کر آیا ہے تو وہ حج کر کے ہی احرام کھول سکتا ہے اس سے پہلے نہیں)۔ اللہ کی قسم! حج کا احرام باندھ کر آنے والے کو صرف ایک صورت میں تمتع کی یعنی عمرہ کر کے احرام کھول دینے کی اجازت ہے جب کہ اسے حج سے روک دیا جائے۔ پھر حضرت ابنِ زبیرؓ نے لبیک پڑھا اور تمام لوگوں نے پڑھا۔ راوی کہتے ہیں:میں نے لوگوں کو اس دن سے زیادہ روتے ہوئے کسی دن نہیں دیکھا۔ 1 حضرت ہشام بن عروہ کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر ؓنے اپنے بیان میں فرمایا: اچھی طرح سمجھ لو کہ بطنِ عُرنہ کے علاوہ سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ اور خوب جان لو کہ بطنِ مُحَسّر کے علاوہ سارا مزدَلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔2 حضرت عبّاس بن سَہَل بن سعد ساعدی انصاری کہتے ہیں: میں نے مکہ کے منبر پر حضرت ابنِ زبیر ؓ کو بیان میں یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! حضورﷺ فرمایا کرتے تھے: اگر ابنِ آدم کو سونے کی ایک وادی دے دی جائے تو وہ دوسری وادی کی تمنّا کرنے لگے گا، اور اگر اسے دوسری وادی دے دی جائے تو تیسری کی تمنا کرنے لگے گا، اور ابنِ آدم کے پیٹ کو (قبر کی) مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اور جو اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔ 1 حضرت عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: حضرت ابنِ زبیر ؓ نے ہم لوگوں میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: حضور ﷺ نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد ِحرام کے علاوہ دوسری مساجد کی ہزار نماز سے افضل ہے اور مسجد ِحرام کی ایک نماز (میری مسجد کی نماز پر) سو گنا فضیلت رکھتی ہے۔ حضرت عَطاء کہتے ہیں: اس طرح مسجد ِحرام کی نماز کو (دوسری مسجد کی نماز پر) لاکھ گنا فضیلت حاصل ہوجائے گی۔ حضرت عطاء کہتے ہیں: میں نے حضرت ابنِ زبیر ؓ سے پوچھا: اے ابومحمد! یہ لاکھ گنا فضیلت صرف مسجد ِحرام میں ہے یا سارے حرم میں ہے؟ انھوں نے فرمایا: نہیں،سارے حرم میں ہے، کیوںکہ سارا حرم مسجد (کے حکم میں) ہے۔2 حضرت ابنِ زبیر ؓکے آزاد کردہ غلام حضرت وہب بن کیسان کہتے ہیں: حضرت ابنِ زبیرؓ نے عیدکے دن عید کی نماز پڑھائی،پھر کھڑے ہوکر خطبہ پڑھا۔ میں نے انھیں خطبہ میں یہ کہتے ہوئے سنا: اے لوگو! عید کی نماز سے پہلے خطبہ پڑھنا ہر گزدرست نہیں۔ عید کے بعد خطبہ پڑھنا اللہ اور رسولﷺ کی طرف سے مقرَّر کردہ طریقہ ہے۔3 حضرت ثابت کہتے ہیں: میں نے حضرت ابنِ زبیر ؓکو بیان میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ہے: جو مرد دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔ 4 حضرت ابوالزبیر کہتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓکو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: حضورﷺ جب نماز کے بعدسلام پھیر تے تو یہ کلمات پڑھتے: لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔ لَا حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِیَّاہٗ، أَھْلُ الْنِّعْمَۃِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَائِ الْحَسَنِ۔ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہت اسی کے لیے ہے، تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والاہے، برائی سے بچنے اور نیکی کے کرنے کی طاقت صرف اسی سے ملتی ہے۔ ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، وہ نعمت وفضل اور اچھی تعریف والا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم پورے اخلاص کے ساتھ دین پر چل رہے ہیں چاہے یہ کافروں کو برا لگے۔ 1 حضرت ثُوَیر کہتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓکو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ عاشورا (دس محرم) کا دن ہے اس میں روزہ رکھو، کیوںکہ حضورﷺ نے اس دن کے روزے کا حکم دیا ہے۔2 حضرت کُلثوم بن جبر کہتے ہیں: حضرت ابنِ زبیر ؓ دینی امور میں بڑی مشکل سے رعایت کرتے تھے۔ انھوں نے ایک مرتبہ ہم میں بیان فرمایا اس میں ارشاد فرمایا: اے مکہ والو! مجھے قریش کے کچھ لوگوں کے بارے میں یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ نرد شیر کھیل کھیلتے ہیں (یہ شطرنج جیسا کھیل ہے) ، حالاںکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے: {اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ}3 بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں، سو اِن سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو۔ اور میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میرے پاس جو آدمی ایسا لایا گیا جو یہ کھیل کھیلتا ہو گا، تو میں اس کے بال اور کھال ادھیڑ دوں گا، اور سخت سزادوں گا، اور اس کا سامان اسے دے دوں گا جو اسے میرے پاس لائے گا۔1