صحابہ کرام ؓ کے بیانات

حضورﷺ کے جامع بیانات جن کے الفاظ کم اور معنی زیادہ ہیں

حضرت عقبہ بن عامر جُہنیؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ غزوۂ تبوک میں جا رہے تھے۔ ابھی پہنچنے میں ایک رات کا سفر با قی تھا کہ رات حضورﷺ سوتے رہ گئے اور فجر کو نماز کے لیے آنکھ نہ کھل سکی، بلکہ سورج نکل آیا اور ایک نیزہ کے برابر بلند ہوگیا۔ آپ نے فرمایا: اے بلال!کیا میں نے تمھیں کہا نہیں تھاکہ (ہم تو سونے لگے ہیں) تم ہماری فجر کا خیال رکھنا؟ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! (آپ نے تو فر مایا تھا لیکن) مجھے بھی اس ذات نے سلا دیا جس نے آپ کو سلائے رکھا۔ اس کے بعد حضورﷺ وہاں سے تھوڑا سا آگے گئے، پھر فجر کی نماز قضا پڑھی، اس کے بعد اﷲکی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ نے ارشاد فر مایا: امابعد!سب سے سچی بات اﷲ کی کتاب ہے اور سب سے مضبوط کڑا تقویٰ کا کلمہ یعنی کلمۂ شہا دت ہے، اور سب سے بہترین ملت حضرت ابراہیم ؑ کی ملت ہے اور سب سے بہترین طریقہ حضرت محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور سب سے اَعلیٰ با ت اﷲ کا ذکر ہے اور سب سے اچھا بیا ن یہ قرآن ہے۔ سب سے بہترین کام وہ ہیں جو عزیمت اور پختگی والے ہو ں، جن کا کر نا اﷲ نے ضروری قرار دیاہے اور سب سے برے کام وہ ہیں جو نئے ایجاد کیے گئے ہوں۔ اور سب سے اچھی سیرت اَنبیا ؑ کی سیرت ہے اور سب سے زیادہ عزت والی موت شہید کی ہے اور سب سے زیادہ اندھا پن ہدایت کے بعد گمراہ ہونا ہے۔ اور بہترین علم وہ ہے جو نفع دے اور بہترین سیرت وہ ہے جس پر چلا جائے اور سب سے برا اندھا پن دل کا اند ھا پن ہے۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، یعنی دینے والا لینے والے سے بہتر ہے۔ اور جو مال کم ہو اورانسان کی ضروریات کے لیے کافی ہو وہ اس مال سے بہتر ہو جو زیادہ ہو۔ اور انسان کو اﷲ سے غافل کر دے۔ اور اﷲسے معذرت چاہنے کا سب سے بر ا وقت موت کے آنے کا وقت ہے اور سب سے بری ندامت وہ ہے جو قیامت کے دن ہوگی۔ او ر کچھ لوگ ہر نماز قضا کر کے پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ صرف زبان سے ذکر کرتے ہیں دل سے نہیں کرتے۔ اور سب سے بڑا گناہ زبان کا جھوٹ بولنا ہے اور سب سے بہترین مال داری دل کا غنا ہے اور بہترین توشہ تقویٰ ہے۔ حکمت کی جڑ اﷲ کا خوف ہے۔ جو باتیں دل میں جمتی ہیں اُن میں سب سے بہترین یقین ہے۔ (اسلام میں) شک کرنا کفر ہے۔ مردہ پر واویلا کرنا جا ہلیت کے کا موں میں سے ہے اور مالِ غنیمت میں خیانت کرنا جہنم کے ڈھیرمیں سے ہے۔ اور جس خزانے کی زکوٰۃ نہ دی جائے اس کی سزا یہ ہے کہ جہنم کی آگ سے داغ لگائے جائیں گے۔ شعرو شاعری ابلیس کی بانسری ہے، اکثر اَشعار شیطانی کاموں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ شراب تمام گناہوں کا مجموعہ ہے۔ عورتیں شیطان کا جال ہیں، عورتوں کو ذریعہ بناکر شیطان بہت سے برے کام کرالیتا ہے۔ جوانی دیونگی کا ایک حصہ ہے۔ اور سب سے بری کمائی سود کی ہے اور سب سے بری کھانے کی چیز یتیم کا مال ہے۔ اور خوش قسمت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے اور بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت ہوا ہے۔ آخر کار تم میں سے ہر آدمی چار ہاتھ جگہ یعنی قبر میں جائے گا اور اعمال کا دارومدار آخری وقت کے عمل پر ہے۔سب سے بری روایتیں وہ ہیں جوجھوٹی ہو ں اور ہر آنے والی چیز قریب ہے۔ مؤمن کو برا بھلا کہنے سے آدمی فاسق ہوجاتا ہے اور مؤمن کو قتل کرنا کفر جیسا گناہ ہے اور مؤمن کے غیبت کرنا خداکی نا فرمانی ہے۔ اس کے مال کا احترام ایسے ہی ضروری ہے جیسے اس کے خون کا احترام ضروری ہے۔ جو اﷲ پر قسم کھاتاہے (مثلاً کہتاہے: اﷲکی قسم! فلاں جہنم میں ضرور داخل ہوگا) اﷲتعالیٰ اس کا جھوٹاہونا ضرور ثا بت کردیں گے (اور جس غلط بات کے ہونے کی قسم کھائی تھی اﷲتعالیٰ اس کے خلاف کریں گے)۔ جو دوسروں سے درگزر کرے گا اﷲتعالیٰ اس سے درگزر فر مائیں گے۔ جو اوروں کو معاف کرے گا اﷲتعالیٰ اسے معا ف فرمائیں گے۔ جو اپنا غصہ دبائے گا اﷲ اسے اجر دیں گے۔ جو مصیبت پر صبر کرے گا اﷲ اسے بدلہ دیں گے۔ جواپنے نیک اعمال سے دنیا میںشہرت چاہے گا اﷲتعالیٰ قیامت کے دن تمام انسانوں کو سنائیں گے کہ یہ عمل اخلاص سے نہیں کرتا تھا بلکہ شہرت کے لیے کر تا تھا۔ جو صبر کرے گا اﷲتعالیٰ اس کا اجر بڑھائیں گے۔ جو اﷲ کی نافرمانی کرے گا اﷲ اس کو عذاب دیں گے۔ اے اﷲ! میری اور میری اُمّت کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! میری اور میری اُمّت کی مغفرت فرما۔ اے اﷲ! میری اور میری اُمّت کی مغفرت فرما۔ میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اﷲسے مغفر ت طلب کر تا ہوں۔1 حضر ت عِیاض بن حِمار مَجا شعی ؓ فر ماتے ہیں: ایک دن حضورﷺ نے بیان فرمایا اور بیان میں ارشاد فرمایا: مجھے میرے ربّ نے اس با ت کا حکم دیا ہے کہ آج میرے ربّ نے مجھے جو کچھ سکھا یا ہے اور آپ لوگ اسے نہیں جا نتے ہو اس میں سے میں آپ لوگوں کوبھی سکھا ئوں۔اﷲتعا لیٰ نے فر ما یا ہے: میں نے جو مال اپنے بندوں کو دیا ہے وہ سارا ان کے لیے حلال ہے (لہٰذا کفارِ عرب نے سائبہ، وصیلہ، بحیرہ وغیرہ نام رکھ کر جو کچھ اپنے اوپر حرام کر لیا ہے وہ حرام نہیں ہوا بلکہ حلال ہے)۔ میں نے اپنے تما م بندوںکو کفر و شرک اور گناہوں سے پاک صاف دین اسلام پر پیدا کیا ہے، پھر شیطانوں نے آکر انھیں دینِ اسلام سے گمراہ کردیا اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا وہ ان پر حرام کردیا اور انھیں اس با ت کا حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک کریں جن کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر (میری بعثت سے پہلے)اﷲ تعا لیٰ نے تمام زمین والوں پر نظر ڈالی تو تمام عرب و عجم کو دیکھ کر اﷲ کو غصہ آیا (کیوںکہ سب کفر و شرک میں مبتلا تھے)، لیکن کچھ اہلِ کتاب ایسے تھے جو اپنے سچے دین پر قائم تھے اور اس میں انھوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے فر مایا: (اے ہمارے نبی!) میں نے آپ کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں آپ کا امتحان لوں (کہ آپ میری منشا پر چلتے ہیں یا نہیں) اور آپ کے ذریعے سے دو سروں کا امتحان لوں (کہ وہ آپ کی دعوت کو مانتے ہیں یا نہیں)۔ اور میں نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا (اس کی لکھائی مٹنے والی نہیں یعنی آپ کے سینے میں محفوظ رہے گی آپ کو بھولے گی نہیں)، اور آپ اسے سوتے اور جاگتے میں پڑھا کریں گے، یعنی دونوں حالتوں میں آپ کو پکا یاد رہے گا۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے مجھے اس بات کا حکم دیا کہ میں قریش کو جلا دوں (یعنی انھیں اﷲ کی دعوت دوں، جو مانے گا وہ کامیاب ہوگا، جو نہیں مانے گا وہ برباد ہوگا دوزخ کی آگ میں جلے گا)۔ میں نے عرض کیا: اے میرے ربّ! پھر تو وہ میرا سر کچل دیں گے اور روٹی کی طرح چپٹا کر کے چھوڑیں گے۔ اﷲتعالیٰ نے فرمایا:آپ انھیں (مکہ سے) ایسے نکالیں جیسے انھوں نے آپ کو نکالا ہے۔ آپ ان سے جنگ کریں ہم آپ کی مدد کریں گے۔ آپ ان پر خرچ کریں ہم آپ پر خرچ کریں گے۔ آپ ان کی طرف ایک لشکر بھیجیں ہم اس جیسے (فرشتوں کے) پانچ لشکر بھیجیں گے۔ اور آپ اپنے فرماںبرداروں کو لے کر نافرمانوں سے جنگ کریں۔ اور جنتی لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک عادل بادشاہ جسے اﷲ کی طرف سے نیک اعمال کی خوب توفیق ملی ہو اور وہ خوب صدقہ کرنے والا ہو۔ دوسرے وہ آدمی جو رحم کرنے والا اور ہر رشتہ دار بلکہ ہر مسلمان کے بارے میں نرم دل ہو۔ تیسرے وہ آدمی جو پاک دامن، فقیر، عیال دار اور (فقیری کے باوجود دوسروں پر)صدقہ کرنے والا ہو۔ دوزخی لوگ پانچ قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ کمزور آدمی جس میں عقل بالکل نہ ہو، ہر ایک کے پیچھے لگ جاتا ہو۔ دوسرے وہ لوگ جو تم لوگوں میں دوسروں کے پیچھے چلنے والے اور ہاں میں ہاں ملانے والے ہیں اور (بدکاری میں مبتلا رہنے کی وجہ سے) ان میں نہ اہل وعیال کی طلب ہے اور نہ مال کی۔ تیسرے وہ خیانت کرنے والا جس میں لالچ اتنی زیادہ ہو کہ وہ چھپ نہ سکے اور وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی خیانت کرے۔ چوتھے وہ آدمی جس کا صبح شام ہر وقت یہی کام ہے کہ وہ تمھیں، تمہارے اہل وعیال اور مال ودولت کے بارے میں دھوکہ دیتا رہے۔ اور پانچویں آدمی کی خرابیوں میں آپ نے کنجوسی، جھوٹ، بداخلاقی اور بد گوئی کا ذکر کیا۔1 حضرت ابو سعید خدریؓفرماتے ہیں: ایک دن حضورﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور قیامت قائم ہونے تک پیش آنے والی ہر اہم دینی چیز کو ہمارے سامنے ذکر کر دیا۔ جس نے ان تمام چیزوں کو یاد رکھنے کی کوشش کی اسے تو یاد رہیں اور جس نے انھیں بھلا دیا اسے بھول گئیں۔ اس بیان میں آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: امابعد! دنیا سر سبز اور میٹھی ہے۔ بڑی مزیدار اور اچھی لگتی ہے۔ بہت خوشنما نظر آتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ تمھیں اپنا خلیفہ بنا کر اور دنیا دے کر دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو، اچھے یا برے؟ (یعنی دنیا کے اصل مالک تو اﷲ تعالیٰ ہیں اور تم لوگوں کو اپنا نمائندہ بنایا ہے) اس لیے دنیا کے فتنے سے بچو (بقدرِ ضرورت حاصل کرو اور ضرورت سے زیادہ آجائے تو اسے دوسروں پر خرچ کر دو)۔ اور عورتوں کے فتنے سے بچو (ان کی باتوں میں آکر یا ان کی محبت سے مغلوب ہو کر اﷲ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کر و)، بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کے ذریعے پیش آیا تھا۔ غور سے سنو! آدم کی اولاد کو مختلف قسم کا بنا کر پیدا کیا گیا ہے۔ کچھ تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں، مؤمن بن کر ساری زندگی گزارتے ہیں اور مؤمن ہونے کی حالت میں مرتے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کافر ہونے کی حالت میں مرتے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیںجو مؤمن پیدا ہوتے ہیں اور مؤمن بن کر زندگی گزارتے ہیں، لیکن کافر بن کر مرتے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں اور کافر بن کر زندگی گزارتے ہیں، لیکن مؤمن بن کر مرتے ہیں۔ توجہ سے سنو! غصہ ایک انگارہ ہے جو ابنِ آدم کے پیٹ میں دہکتا رہتا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ غصہ میں انسان کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں اور اس کے گلے کی رگیں پھول جاتی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے زمین سے چمٹ جانا چاہیے (کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، بیٹھا ہو تو لیٹ جائے، زمین کی طرح عاجز اور مسکین بن جائے)۔ غور سے سنو!بہترین مرد وہ ہے جسے غصہ دیر سے آئے اور جلدی چلا جائے۔ اور سب سے برا مرد وہ ہے جسے غصہ جلدی آئے اور دیر سے جائے، اور جسے غصہ دیر سے آئے اور دیر سے جائے، اور جسے غصہ جلدی آئے اور جلدی جائے تو اس کا معاملہ برابر ہوگیا، اس میں ایک اچھی صفت ہے اور ایک بری۔ غور سے سنو! سب سے بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ طریقہ سے دے اور عمدہ طریقہ سے مطالبہ کرے۔ اور سب سے برا تاجر وہ ہے جو ادا کرنے میں بھی برا ہو اور مطالبہ کرنے میں بھی برا ہو۔ اور جو ادا کرنے میں اچھا ہو لیکن مطالبہ کرنے میں برا ہو، یا ادا کرنے میں برا ہو اور مطالبہ کرنے میں اچھا ہو تو اس کا معاملہ برابر سرابر ہوگیا، اس میں ایک صفت اچھی ہے اور ایک بری۔ غور سے سنو! ہر بد عہد کو اس کی بد عہدی کے مطابق قیامت کے دن جھنڈا ملے گا (جس سے اس کے اس برے کام کے لوگوں میں شہرت ہوگی)۔غور سے سنو! سب سے بڑی بد عہدی عام مسلمانوں کے امیر کی بد عہدی ہے۔ غور سے سنو! جسے حق بات معلوم ہے اسے لوگوں کی ہیبت اس حق بات کے کہنے سے ہر گز نہ روکے۔ غور سے سنو! سب سے اَفضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا ہے۔ غور سے سنو! دنیا کی اتنی عمر گزر گئی ہے جتنا آج کا دن گزر گیا ہے اور اتنی باقی ہے جتنا آج کا دن باقی ہے۔1 حضرت سائب بن مِہجان اہلِ شام میں سے ہیں اور انھوں نے صحابۂ کرامؓکا زمانہ بھی پایا ہے۔ وہ کہتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ ملکِ شام تشریف لائے تو انھوں نے (کھڑے ہو کر بیان فرمایا اور پہلے) اﷲ کی حمد و ثنا بیان کی اور خوب وعظ ونصیحت فرمائی اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر فرمایا۔ پھر فرمایا: حضور ﷺ نے ہم لوگوں میں کھڑے ہو کر بیان فرمایا جیسے میں آپ لوگو ںمیں کھڑے ہو کر بیان کر رہا ہوں۔ آپ نے ہمیں اس بیان میں اﷲ سے ڈر نے کا، صلہ رحمی کرنے کا اور آپس میں صلح صفائی سے رہنے کا حکم دیا۔ اور فرمایا: تم لوگ جماعت سے چمٹے رہو، اور امیر کی سننے اور ماننے کو لازم پکڑے رکھو،کیوںکہ اﷲ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔ اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور دو آدمیوں سے شیطان بہت دور ہوتا ہے۔ کسی مرد کو کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہیں ہونا چاہیے ورنہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا۔ جسے اپنی برائی سے رنج ہو اور اپنی نیکی سے خوشی ہو یہ اس کے مسلمان اور مؤمن ہونے کی نشانی ہے۔ اور منافق کی نشانی یہ ہے کہ اسے اپنی برائی سے کوئی رنج نہیں ہوتا اور نیکی سے کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ اگر وہ کوئی خیر کا عمل کرلے تو اسے اس عمل پر اﷲ سے کسی ثواب کی اُمید نہیں ہوتی، اور اگر کوئی برا کام کرلے تو اسے اس عمل پر اﷲ کی طرف سے کسی سزا کا ڈر نہیں ہوتا۔ لہٰذا دنیا کی تلاش میں میانہ روی اختیار کرو، کیوںکہ اﷲ نے تم سب کی روزی کا ذمہ لے رکھا ہے۔اور ہر انسان نے جو عمل کرنا ہے اس کا و ہ عمل ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ اپنے نیک اعمال کے لیے اﷲ سے مدد مانگا کرو، کیوںکہ اﷲ تعالیٰ جس عمل کو چاہیں مٹادیں اور جس عمل کو چاہیں باقی رکھیں اور اسی کے پاس لوحِ محفوظ ہے۔ (حضورﷺ کا بیان ختم ہوگیا اور پھر حضرت عمرؓنے بھی بیان ختم کر دیا اور ختم کرنے کے لیے فرمایا:) وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَعَلَیْہِ السَّلاَمُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ اور اﷲ تعالیٰ ہمارے نبی حضرت محمد (ﷺ) اور ان کی آل پر درود بھیجے، اور ان پر سلام ہو اور اﷲ کی رحمت۔ السلام علیکم۔ 1