صحابہ کرام ؓ کے بیانات
حشر کے بارے میں حضورﷺکا بیان
حضرت ابنِ عباس ؓ فر ماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کو منبر پر بیان فر ماتے ہوئے سنا۔ آپ فرما رہے تھے:
تم لوگ اﷲ کی با ر گاہ میں ننگے پاؤں،ننگے بدن بغیر ختنہ کے حا ضر ہو گے۔
ایک روایت میں پیدل بھی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺنے کھڑے ہوکر ہمیں نصیحت فرمائی،ارشاد فر مایا: اے لوگو! تمھیں اﷲ کی بار گا ہ میں ننگے پاؤں اور ننگے بدن بغیر ختنہ جمع کیا جا ئے گا۔ (اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے:)
{کَمَا بَدَاْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ ط وَعْدًا عَلَیْنَا ط اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ آیت کا نشان}1
(اور) ہم نے جس طرح اوّل با ر پیدا کرنے کے وقت (ہر چیز کی) اِبتدا کی تھی، اسی طرح (آسانی سے) اس کو دوبارہ پیدا کر دیں گے۔ یہ ہما رے ذمہ وعدہ ہے اور ہم (ضرور اس کو پورا) کر یں گے۔
غور سے سنو!(قیامت کے دن) تمام انسانوںمیں سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ غور سے سنو! میری اُمّت کے کچھ لوگوںکو لایا جائے گا، پھر انھیں بائیں طرف لے جایا جا ئے گا تو میںکہوں گا: اے میرے ربّ! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے: آپ کو معلوم نہیں ہے کہ انھیں نے آپ کے بعد کیا گُل کھلائے؟ اس وقت میں وہی بات کہوں گا جو اﷲ کے نیک بندے (حضرت عیسیٰ ؑ) کہیں گے:
{وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْج} سے لے کر {الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُآیت کا نشان} تک۔2
اور میں ان پر مطلع رہا جب تک اِن میں رہا، پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو آپ ان پر مطلع رہے اور آپ ہر چیزکی پو ری خبر رکھتے ہیں۔ اگر آپ ان کو سزا دیں تو یہ آپ کے بند ے ہیں، اور اگر آپ ان کو معا ف فر ما دیں تو آپ زبر دست ہیں حکمت والے ہیں۔
پھر مجھے بتا یا جائے گا کہ جب آپ ان سے جدا ہو ئے تو انھوں نے ایڑیوں کے بل واپس لوٹنا شروع کردیا تھا اور ہو تے ہوتے یہ مر تد ہو گئے تھے (چناںچہ حضورﷺ کے انتقال کے بعد عرب کے کچھ لوگ مرتد ہو گئے تھے)۔
ایک روایت میں اس کے بعد یہ ہے کہ میں کہوں گا: دور ہو جاؤ! دور ہو جاؤ!3