صحابہ کرام ؓ کا ذکر
اﷲ کی پناہ چاہنا
حضرت انسؓفرماتے ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَالْجُبْنِ وَالْھَرَمِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔ وَفِيْ رِوَایَۃٍ: وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ۔
اے اﷲ! میں عاجز ہو جانے سے،کاہلی سے، بزدلی سے، زیادہ بوڑھا ہوجانے سے اور کنجوسی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، او ر زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ قرض کے بوجھ سے، اور لوگوں کے غلبہ اور دبائو سے (تیری پناہ چاہتا ہوں)۔1
مسلم میں حضرت عائشہ ؓکی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دعا میں فرمایا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ۔
اے اﷲ! میں نے اب تک جو کیا اس کے شر سے بھی پناہ مانگتا ہوں اور جو نہیں کیا اس کے شر سے بھی پناہ مانگتا ہوں۔
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ کی ایک دعا یہ بھی تھی:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَفَجْأَۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِیْعِ سَخَطِکَ۔
اے اﷲ! میں تیری نعمت کے چلے جانے سے، تیری دی ہوئی عافیت کے ہٹ جانے سے اور تیری اچانک پکڑسے اور تیری ہر طرح کی ناراضگی سے پناہ چاہتا ہوں۔
حضرت زید بن اَرقم ؓ فرماتے ہیں: میں تمھیں وہی دعا بتانے لگا ہوں جو حضور ﷺ مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْھَمِّ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ اَللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِيْ تَقْوَاھَا، وَزَکِّھَا أَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا، أَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلاَہَا۔ اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَۃٍ لَا یُسْتَجَابُ لَھَا۔
اے اﷲ! عاجزی، کاہلی، بزدلی، کنجوسی، رنج وغم اور عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اﷲ! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک صاف کردے، تو ہی اس کو بہترین پاک صاف کرنے والا ہے، تو ہی اس کا مالک اور آقا ہے۔ اے اﷲ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس علم سے جو (دین ودنیا میں) نفع نہ دے اور اس دل سے جس میں خشوع نہ ہوا اور حریص نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: نبی کریم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَمِنْ شَرِّ الْغِنٰی وَالْفَقْرِ۔
اے اﷲ! آگ کے فتنے سے، آگ کے عذاب سے، اور مال داری اور فقیری کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔1
حضرت قطبہ بن مالکؓفرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ مُنْکَرَاتِ الأَخْلاَقِ وَالأَعْمَالِ وَالأَھْوَائِ۔
اے اﷲ! میں برے اخلاق واعمال سے اور بری نفسانی خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 2
حضرت اَنسؓفرماتے ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ۔
اے اﷲ! برص (پھلیری) سے، دیوانگی سے، کوڑھ پن سے، اور تمام بری اورموذی بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 3
حضرت ابو البَسر صحابی ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَدْمِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ التَّرَدِّيْ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْھَرَمِ، وَأَعُوْذُ بِکَ أَنْ یَّتَخَبَّطَنِيَ الشَّیْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوْذُ بِکَ أَنْ أَمُوْتَ فِيْ سَبِیْلِکَ مُدْبِّرًا، وَأَعُوْذُ بِکَ أَنْ أَمُوْتَ لَدِیْغًا۔
اے اﷲ! کسی عمارت کے نیچے دب کر مرنے سے، کسی اونچی جگہ سے گر کر مر نے سے اور ڈوب کر یا جل کر مرنے سے، اور حد سے زیادہ بوڑھا ہو نے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ او ر اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے خبطی بنادے یعنی عقل خراب کر کے گمراہ کر دے، اور تیرے راستہ میں میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے مرنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور سانپ وغیرہ کے ڈسنے کے مرنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔1
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُوْعِ فَإِنَّہٗ بِئْسَ الضَّجِیْعُ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَإِنَّھَا بِئْسَتِ الْبِطَانَۃُ۔
اے اﷲ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتاہوں، کیوںکہ بھوک بہت برا ساتھی ہے۔ اور خیانت سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اس لیے کہ یہ بد ترین خصلت ہے۔2
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوْئِ الْأَخْلاَقِ۔
اے اﷲ! میں آپس کے جھگڑے، فساد، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔3
حضرت انسؓفرماتے ہیں: نبی کریمﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْقَسْوَۃِ وَالْغَفْلَۃِ وَالْعَیْلَۃِ وَالذِّلَّۃِ وَالْمَسْکَنَۃِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفُسُوْقِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَۃِ وَالرِّیَائِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَکَمِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ۔
اے اﷲ! عاجز ہوجانے اور سستی سے تیری پناہ چاہتاہوں، اور دل کی سختی، غفلت، فقیری، ذلت ومسکنت سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ فسق وفجور، آپس کے لڑائی جھگڑے، نفاق اور شہرت وریا سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ بہرہ اور گونگا ہو جانے سے، پاگل پن، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔1
حضرت عقبہ بن عامرؓفرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ یَوْمِ السُّوْئِ وَمِنْ لَیْلَۃِ السُّوْئِ وَمِنْ سَاعَۃِ السُّوْئِ وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْئِ وَمِنْ جَارِ السُّوْئِ فِيْ دَارِ الْمُقَامَۃِ۔
اے اﷲ! برے دن سے، بری رات سے، بری گھڑی سے، برے ساتھی سے اور (مستقل رہایش والے) وطن کے برے پڑوسی سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔2
حضرت عمرؓفرماتے ہیں: حضورﷺ پانچ چیزوں سے اﷲ کی پناہ اس طرح مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَفِتْنَۃِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَسُوْئِ الْعُمْرِ۔
اے اﷲ! کنجوسی سے، بزدلی سے، سینے کے فتنہ سے،عذابِ قبر سے اور بری عمر یعنی زیادہ بوڑھا ہوجانے سے تیری پناہ چاہتاہوں۔3
حضرت عمرؓفرماتے ہیں: نبی کریمﷺ حضرت حسن حضرت حسینؓکو ان کلمات سے اﷲ کی پناہ میں دیا کرتے تھے:
إِنِّيْ أُعِیْذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَھَامَّۃٍ وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لاَمَّۃٍ۔
میں تم دونوں کو ہر شیطان سے، موذی زہریلے جانوروں سے اور ہر لگنے والی بری نظر سے اﷲ کے ان کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں جو پورے ہیں۔4