صحابہ کرام ؓ کا ذکر

صحابۂ کرامؓ کو رخصت کرتے وقت کی حضورﷺ کی دعائیں

حضرت قَزَعہ کہتے ہیں: مجھ سے حضرت ابنِ عمرؓنے فرمایا: آئو، میں تمہیں اس طرح رخصت کروں جس طرح حضورﷺ نے مجھے رخصت کیا تھا۔ اور پھر یہ کلمات کہے: أَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ۔ میں تمہارے دین کو اور تمہاری صفتِ امانت داری کو اور تمہارے ہر عمل کے آخری حصہ کو اﷲ کے سپرد کرتا ہوں۔2 حضرت سالم کہتے ہیں: جب کوئی آدمی سفر میں جانے کا ارادہ کرتا تو حضرت ابنِ عمر ؓ اس سے فرماتے: میرے قریب آئو،میں تمہیں اس طرح رخصت کروں جس طرح حضور ﷺ ہمیں رخصت کیا کرتے تھے۔ پھر پچھلی حدیث جیسی دعا ذکر کی۔3 حضرت انسؓفرماتے ہیں: ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اﷲ!میرا سفر میں جانے کا ارادہ ہے آپ کچھ توشہ عنایت فرمادیں، یعنی میرے لیے دعا فرمادیں۔ حضورﷺ نے فرمایا:اﷲ تمھیں تقویٰ کا توشہ دے۔ اس نے عرض کیا: کچھ اور دعا فرمادیں۔ حضورﷺ نے فرمایا:اور اﷲ تمہارے گناہ معاف کرے۔ اس نے پھر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! کچھ اور دعا فرمادیں۔ حضورﷺ نے فرمایا:جہاں بھی تم ہو وہاں بھلائی کو تمہارے لیے آسان کر دے۔1 حضرت قتادہؓفرماتے ہیں: جب حضور ﷺنے مجھے اپنی قوم کا امیر بنا یا تو میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو رخصت کیا، آپ نے یہ دعا پڑھی: جَعَلَ اللّٰہُ التَّقْوٰی زَادَکَ، وَغَفَرَ ذَنْبَکَ، وَوَجَّھَکَ لِلْخَیْرِ حَیْثُمَا تَوَجَّھْتَ۔ اﷲ تقویٰ کو تمہارا توشہ بنائے اور تمہارے گناہ کو معاف کرے اور جہاں بھی تم جائو وہاں تمھیں خیر کی توفیق عطا فرمائے۔2 حضرت ابو ہریرہؓفرماتے ہیں: ایک آدمی نے عرض کیا:یا رسول اﷲ! میرا سفر میں جانے کا ارادہ ہے آپ مجھے کچھ وصیت فرمادیں۔ آپ نے فرمایا:اﷲ کے ڈر کو اور ہر بلندی پر چڑھتے وقت تکبیر کہنے کو لازم پکڑے رکھو۔ جب وہ آدمی پشت پھیر کے چل دیا تو حضورﷺ نے یہ دعا فرمائی: اَللّٰھُمَّ اطْوِ لَہُ الْبُعْدَ، وَھَوِّنْ عَلَیْہِ السَّفَرَ۔ اے اﷲ! اس کے سفر کی مسافت کو جلد طے کرادے اور سفر اس پر آسان فرمادے۔3