صحابہ کرام ؓ کا ذکر

اجتماعی دعا کرنا اور اونچی آواز سے دعا کرنا اور آمین کہنا

حضرت قیس مدنی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت زید بن ثابت ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر کسی چیز کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے فرمایا: تم جاکر یہ بات حضرت ابوہریرہؓ سے پوچھو، کیوںکہ ایک مرتبہ میں، حضرت ابوہریرہ اور فلاں آدمی ہم تینوں مسجد میں دعا کررہے تھے، اور اپنے ربّ کا ذکرکررہے تھے کہ اتنے میں حضورﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے تو ہم خاموش ہوگئے۔ پھر فرمایا: جو تم کررہے تھے اسے کرتے رہو۔ چناںچہ میں نے اور میرے ساتھی نے حضرت ابوہریرہ سے پہلے دعاکی اور حضورﷺ ہماری دعا پر آمین کہتے رہے۔ پھر حضرت ابوہریرہ نے یہ دعا کی: اے اللہ! میرے ان دوساتھیوں نے جو کچھ تجھ سے مانگا میں وہ بھی تجھ سے مانگتاہوں اور ایسا علم بھی مانگتاہوں جو کبھی نہ بھولے۔ حضورﷺ نے فرمایا: آمین۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم بھی اللہ سے وہ علم مانگتے ہیں جو کبھی نہ بھولے۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ دَوسی نوجوان (یعنی حضرت ابوہریرہؓ) تم دونوں سے آگے نکل گئے۔2 حضرت جامع بن شداد کے ایک رشتہ دار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تین دعائیں ایسی ہیں کہ جب میں وہ مانگوں تو تم ان پر آمین کہنا۔اے اللہ! میں کمزور ہوں مجھے قوت عطافرما۔ اے اللہ! میں سخت ہوں مجھے نرم کردے۔ اے اللہ! میں کنجوس ہوں مجھے سخی بنادے۔3 حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں: میں نے رَمادَہ قحط سالی کے زمانے میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کو دیکھا کہ وہ صبح کے وقت عام سادہ سے کپڑے پہنے ہوئے عاجز اور مسکین بن کر جارہے ہیں، اور ان کے جسم پر ایک چھوٹی سی چادر پڑی ہوئی ہے جو گھٹنوں تک مشکل سے پہنچ رہی ہے۔ اونچی آواز سے اللہ سے معافی مانگ رہے ہیں اور ان کی آنکھوں سے رُخسار پر آنسو بہہ رہے ہیںاور ان کے دائیں طرف حضرت عباس بن عبدالمطّلب ؓ ہیں۔ اس دن انھوں نے قبلہ کی طرف منہ کرکے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاکر بہت گڑگڑاکر دعامانگی، لوگ بھی ان کے ساتھ دعا مانگ رہے تھے۔ پھرحضرت عباس کے ہاتھ کو پکڑ کر کہا:اے اللہ! ہم تیرے رسول ﷺ کے چچا کو تیرے سامنے سفارشی بناتے ہیں۔ پھر حضرت عباس بہت دیر تک حضرت عمر کے پہلو میں کھڑے ہوکر دعامانگتے رہے، ان کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے تھے۔1 حضرت ابواُسید کے آزادکردہ غلام حضرت ابوسعید کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ عِشا کے بعد مسجد کا چکر لگاتے اور اس میں جو آدمی بھی نظر آتا اسے مسجد سے نکال دیتے۔ جسے کھڑاہوا نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے اسے رہنے دیتے۔ ایک رات ان کا حضور ﷺ کے چند صحابہؓ پر گزرہوا جن میں حضرت اُبی بن کعب ؓ بھی تھے۔ حضرت عمر نے پوچھا:یہ لوگ کون ہیں؟ حضرت اُبی نے کہا: اے امیرالمؤمنین! آپ کے گھر کے چند آدمی ہیں۔ فرمایا: نماز کے بعد تم لوگ اب تک یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ حضرت اُبی نے فرمایا: ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر کررہے ہیں۔ اس پر حضرت عمر بھی ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان میں سے جو اُن کے سب سے قریب تھے اس سے فرمایا: تم دعا کراؤ۔ اس نے دعا کرائی۔ اس طرح ان سب سے ایک ایک سے دعا کروائی۔ چناںچہ سب نے دعاکرائی یہاں تک کہ میری باری آگئی۔ میں آپ کے پہلو میں بیٹھا ہواتھا، فرمایا: اب تم دعا کراؤ۔ تو میری زبان بند ہوگئی اور مجھ پر کَپکَپی طاری ہوگئی جس کا انھیں بھی اندازہ ہوگیا، تو فرمایا: اور کچھ نہیں تو اتنی ہی دعا کرادو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا، اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنَا۔ اے اللہ! ہماری مغفرت فرما۔ اے اللہ! ہم پر رحم فرما۔ پھر حضرت عمر نے دعا شروع کی تو ان لوگوں میں سب سے زیادہ آنسوؤں والا اور سب سے زیادہ رونے والا ان کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا: اب آپ سب لوگ بھی خاموش ہوجائیں اور بکھر جائیں۔1 حضرت ابوہُبَیْرہ کہتے ہیں: حضرت حبیب بن مَسلَمہ فَہری ؓ مستجابُ الدعوات صحابی تھے۔ انھیں ایک لشکر کا امیر بنایا گیا۔ انھوں نے ملکِ روم جانے کے راستے تیار کرائے۔ جب دشمن کا سامنا ہوا تو انھوں نے لوگوں سے کہا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو جماعت ایک جگہ جمع ہو اور ان میں سے ایک دعا کرائے باقی سب آمین کہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے۔ پھر حضرت حبیبؓ نے اللہ کی حمدوثنا بیان کی اور یہ دعا مانگی: اے اللہ! ہمارے خون کی حفاظت فرما اور شہدا والا اَجر ہمیں عطافرما۔ ابھی دعامانگی ہی تھی کہ اتنے میں دشمن کا سپہ سالار جسے رومی زبان میں ہنباط کہاجاتاہے وہ آگیا اور حضرت حبیب کے پاس ان کے خیمے کے اندر چلاگیا، گویا اس نے اپنی شکست مان لی۔2 ’’شہادت کی تمنّا اور شہادت کی دعا‘‘ کے باب میں حضرت مَعْقِل بن یسار ؓ کی لمبی حدیث گزر چکی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ حضرت نعمان بن مُقَرّن ؓ نے فرمایاکہ اب میں اللہ تعالیٰ سے دعاکروں گا تم میں سے ہر آمی اس پر ضرور آمین کہے، اس کی میری طرف سے پوری تاکید ہے۔ پھر یہ دعا مانگی: اے اللہ! آج نعمان کو شہادت کی موت نصیب فرما اور مسلمانوں کی مدد فرما اور انھیں فتح نصیب فرما۔3 حضرت عُقْبَہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں: ایک صحابی کو ذُوالبِجادَین کہا جاتاتھا۔ ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ آہیں بھر کر رونے والا ہے۔ اور یہ اس وجہ سے فرمایا کہ یہ صحابی بہت زیادہ تلاوت اور اللہ کا ذکر کرنے والے تھے، اور اونچی آواز سے دعا کیا کرتے تھے۔4